اب لباس کی صرف خوبصورتی اہمیت نہیں رکھتی بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے وہ آرامدہ اور ہر جگہ استعمال کے قابل ہے یا نہیں،یہ برانڈاسی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔
EPAPER
Updated: August 25, 2026, 12:52 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai
اب لباس کی صرف خوبصورتی اہمیت نہیں رکھتی بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے وہ آرامدہ اور ہر جگہ استعمال کے قابل ہے یا نہیں،یہ برانڈاسی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔
ہندوستان میںفیشن کی دنیا کئی برسوں تک خوب صورتی، رنگ، ڈیزائن اور ظاہری انداز کے گرد گھومتی رہی، لیکن گزشتہ کچھ برسوں میں اس منظرنامے میں ایک نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ اب لباس صرف خوب صورت نظر آنے کے لیے نہیں بلکہ آرام دہ، کارآمد اور روزمرہ زندگی کے تقاضوں سے ہم آہنگ بھی ہونا چاہیے۔ خاص طور پر خواتین کے لباس میں اس تبدیلی نے ’ایتھلیژر‘ یعنی ایسے ملبوسات کی مقبولیت بڑھائی ہے جنہیں ورزش، سفر، کام اور روزمرہ زندگی میں یکساں طور پر استعمال کیا جاسکے۔ اسی بدلتے ہوئے رجحان سے فائدہ اٹھانے والے ہندوستانی برانڈز میں بلس کلب Blissclub نے بہت کم عرصے میں اپنی ایک الگ شناخت بنائی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جیک اینڈ جونز: نوجوانوں کے فیشن سے عالمی شناخت تک کا سفر
آغاز کیسے ہوا
اس برانڈکی بنیاد۲۰۲۰ءمیں مینو مارگریٹ نے رکھی تھی۔ اس برانڈکی کہانی کسی بڑے کاروباری منصوبے سے زیادہ ایک ذاتی ضرورت سے شروع ہوئی۔مینو کو محسوس ہوا کہ ہندوستانی خواتین کے لیے ایسے ایکٹیو ویئر کی کمی ہے جو آرام دہ، مضبوط، لچک دار اور ہر طرح کےحالات میں استعمال کیا جاسکتاہو۔ بعض ملبوسات آرام دہ تھے مگر جسمانی حرکت کے لیے مطلوبہ لچک نہیں رکھتے تھے، جبکہ جو کپڑے زیادہ اسٹریچ والےتھے وہ ضرورت سے زیادہ جسم کو جکڑتے تھے۔ اسی مسئلے کا حل تلاش کرتے ہوئے انہوں نے اپنا برانڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ خود بلس کلب کی ویب سائٹ بھی اس سفر کو ایک ایسے لباس کی تلاش سے جوڑتی ہے جوہر طرح کے حالات میں استعمال کیا جاسکتا ہو اور غیر معمولی طور پر آرام دہ بھی۔
برانڈ کی خصوصیت
اس برانڈکی خاص بات یہ ہے کہ اس نے ابتدا ہی سے ہندوستانی خواتین کی ضروریات کوسامنے رکھا۔ برانڈ کے قیام کے وقت ہندوستان میں ایکٹیو ویئر کی مارکیٹ تیزی سے بڑھ رہی تھی، لیکن خواتین کیلئےبنائے جانے والے بہت سے ملبوسات یا تو عالمی جسمانی ساخت کو ذہن میں رکھ کر تیار کیے جاتے تھے یا ان میں فیشن پر زیادہ توجہ ہوتی تھی اور عملی ضرورتوں پر کم۔ مینو مارگریٹ نے اسی خلا کو اپنا موقع بنایا۔ان کا ابتدائی اور سب سے نمایاں پروڈکٹ ’دی الٹی میٹ لیگنگز تھا، جسے مختصراً ٹی یو ایل بھی کہا جاتا ہے۔ یہ صرف ایک عام لیگنگز نہیں بلکہ بلس کلب کے پورے تصور کی بنیاد بن گئی۔ کمپنی نے اسےایسے ایکٹیو ویئر کے طور پر پیش کیا جو کپڑے، فِٹ اور فنکشن تینوں پہلوؤں کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بھلیشورمارکیٹ : ملبوسات اور ہر طرح کی جویلری کیلئے بہترین مقام
مصنوعات کا تنوع
اس برانڈکی مصنوعات صرف جم تک محدود نہیں رہیں۔ لیگنگز، ٹاپس، ٹی شرٹس، جیکٹس،شارٹس اور دیگر آرام دہ ملبوسات کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ انہیں ورزش کے علاوہ سفر، خریداری، گھر سے کام کرنے یا عام دنوں میں بھی پہنا جاسکے۔ کمپنی نے وقت کے ساتھ اپنے پورٹ فولیو کو بڑھایا اور اب اس کی ویب سائٹ پر خواتین کے ساتھ ساتھ مردوں کے لیے بھی مصنوعات موجود ہیں۔
آن لائن سے آف لائن تک کا سفر
اس برانڈکی اصل کہانی صرف آن لائن کاروبار تک محدود نہیں ہے۔ ڈی ۲؍سی یعنی ’ڈائریکٹ ٹو کنزیومر‘ برانڈ کے طور پر شروع ہونےوالی یہ کمپنی اب تیزی سے آف لائن ریٹیل کی طرف بھی بڑھ رہی ہے۔۲۰۲۶ءمیں کمپنی نے بتایا کہ اس کا ریٹیل نیٹ ورک ۴۰؍ سےزیادہ اسٹورز تک پہنچ چکا ہے اور اس نے مردوں کے ملبوسات کے شعبے میں بھی قدم رکھا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایکس وائی ایکس ایکس: ظاہری نہیں باطنی ملبوسات پیش کرنے والا برانڈ
ممبئی میں موجودگی
آج اس برانڈکی موجودگی ہندوستان کے کئی بڑے شہروں میں دیکھی جاسکتی ہے۔ملک کے کئی اہم شہروں جیسے کہ دہلی، بنگلور، گروگرام، حیدرآباد،چنئی،احمد آباد،سورت اور اندور جیسے شہروں میں اسکےاسٹور موجود ہیں جبکہ ممبئی میں بھی اس کے کئی مقامات پر اسٹور موجود ہیں جن میں بوریولی کا شمپولی روڈ،،ملاڈ کا انفنیٹی مال، کرلا فنکس مارکیٹ سٹی،سانتاکروز کا لنک روڈوہ مقامات ہیں جہاں اس برانڈکے اسٹور موجود ہیںجہاں سےآپ اس کی مصنوعات سکون کے ساتھ خرید سکتےہیں۔