Inquilab Logo Happiest Places to Work

بونگ: ایک بچے کی نظر سے سماجی اور معاشرتی مسائل کی بہترین عکاسی

Updated: March 14, 2026, 9:51 AM IST | Mohammed Habib | Mumbai

بچوں اور خاندان سے متعلق فلم کے زمرےمیں بافٹا ایوارڈ جیت چکی اس فلم کی سادہ سی کہانی میں کئی طرح کے مسائل پیش کئے گئے ہیں۔

In a scene from the film `Boong`, Gogoi Kapjan and Vikram Kochhar can be seen hugging. Photo: INN
فلم’بونگ‘کےایک منظر میں گوگون کپجن اوروکرم کوچھرکودیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

بونگ(Boong)
اسٹارکاسٹ: گوگون کپجن، بالا ہجام، انگوم سنماتون، وکرم کوچھر، مدھوبالا تھائوڈم، جینی کھرائی، نمیتیاگنگبام، ایدھائو
ڈائریکٹر اور رائٹر: لکشمی پریا دیوی
پروڈیوسر: فرحان اختر، وکیش بھوتانی، ایلن میک الیکس، شجاعت سوداگر، ریتیش سدھوانی
موسیقی: زوبن بالاپوریا، روند چنگمبام
سنیماٹو گرافر: تنئے ساٹم
ایڈیٹر: شریاس بیلتنگڑی
پروڈکشن ڈیزائنر: دیویکا دوے
کاسٹیوم ڈیزائنر: ارون جے چوہان
ریٹنگ:****
ہدایت کارہ لکشمی پریہ دیوی کی فلم’بونگ‘کو’بافٹا‘ کا بچوں اور خاندان کی بہترین فلم کے اعزازسے نوازا گیا ہے، لیکن فلم دیکھنے کے بعدمحسوس ہوتا ہے کہ یہ محض بچوں یا ماں -بیٹے کی کہانی نہیں۔ اس کے اندر سیاسی عدم استحکام، نسلی کشیدگی، علیحدگی پسند تحریکیں، بالی ووڈ فلموں پر پابندی، ’باہر سے آنے والوں ‘ کا مسئلہ، سنگل مدر کی مشکلات، مردانہ بالادستی کی سوچ اور بے گھر ہونے جیسے کئی موضوعات کی پرتیں موجود ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ تمام مسائل کسی شور شرابے یا خطیبانہ انداز کے بغیر ایک سادہ اور سچی کہانی کے ساتھ آہستہ آہستہ سامنے آتے ہیں، اور مختلف تضادات اور پیچیدگیوں کے باوجود فلم اپنی معصومیت اور حساسیت برقرار رکھتی ہے۔ 
فلم کی کہانی
کہانی امپھال میں رہنے والے ایک شوخ مگر حساس لڑکے بونگ عرف بریجندرو(گوگون کپجن)کےگرد گھومتی ہے، جو اپنی سنگل مدر منداکنی(بالا ہیجام)کےساتھ رہتا ہے۔ بونگ اپنی ماں سےبے حد محبت کرتا ہے اور ان کے تنہائی بھرے احساس کو گہرائی سے محسوس کرتا ہے۔ اس کے والد ایل جوئے کمار کئی برس پہلے فرنیچر کے کام کے بہانے گھر سے گئے تھے اور پھر کبھی پلٹ کر خبر نہیں لی۔ 
ایک دن ان کی موت کی خبر آتی ہے، مگر منداکنی اس بات کو ماننے سے صاف انکار کر دیتی ہے اور بونگ کو یقین دلاتی ہے کہ اس کے والد ابھی زندہ ہیں۔ بونگ کو یقین ہوتا ہے کہ اگر وہ اپنے والد کو واپس گھر لے آئے تو ان کی زندگی دوبارہ خوشحال ہو جائےگی۔ چنانچہ وہ فیصلہ کرتا ہےکہ اپنے والد کو تلاش کر کے گھر واپس لائے گا۔ اس مشن میں اس کا ساتھ اس کا ہم جماعت اور قریبی دوست راجو اگروال (انگوم سنماتھن) دیتا ہے۔ اگرچہ راجو کو اس علاقے میں ’آؤٹ سائیڈر‘ سمجھاجاتا ہے، لیکن اس کی دوستی بونگ کے لیےسب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ راجو کے والد سدھیر اگروال(وکرم کوچھر)بھی بونگ اور اس کی ماں کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں، حالانکہ اس وجہ سے انہیں مقامی لوگوں کے طعنے بھی سننے پڑتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: صوبیدار: انل کپور کو بطور’اینگری اولڈ مین‘ پیش کرنے والی فلم

اسی دوران بونگ اور راجو اپنی کلاس فیلو جولیانا (نمیتیا)کے دادا کی تابوت لے جانے والی وین میں چھپ کر ایک مہم جو سفر پر نکل پڑتےہیں اور بونگ کے والد کی تلاش میں میانمارکی طرف پہنچ جاتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ایل جوئے کمار واقعی زندہ ہیں ؟ اور کیا بونگ انہیں ڈھونڈ کر اپنی ماں کے پاس واپس لا پائے گا؟ ان سوالوں کے جواب بونگ کے اسی جذباتی اور مہماتی سفر میں ملتے ہیں۔ 
ہدایت کاری
ہدایت کارہ لکشمی پریا دیوی کی یہ فلم پانی میں بہتے اس پتے کی طرح ہے جو بیک وقت بھیگا ہوا بھی محسوس ہوتا ہے اور خشک بھی۔ بڑے مسائل بیان کرنے کے لیے وہ کسی ڈرامائی انداز کا سہارا نہیں لیتیں بلکہ بچوں کی معصوم اور فطری نظر سے اپنی بات پیش کرتی ہیں۔ بظاہر یہ ایک چھوٹے شہر کی کہانی لگتی ہے، لیکن ایک بچے کی سادہ سی تلاش سے شروع ہو کر یہ آہستہ آہستہ ہندوستان کے شمال مشرقی سرحدی علاقوں کی زندگی کی بڑی تصویر سامنے لاتی ہے۔ اس خطے کے پیچیدہ سماجی ماحول کی جھلک بھی بڑی باریکی سے دکھائی گئی ہے۔ 
اداکاری 
اداکاری کی بات کی جائے تو فلم کا مرکز بونگ کاکردار ہے جسے گوگون کِپجن نے نہایت فطری اندازمیں ادا کیا ہے۔ ان کی شوخی، چنچل پن اور جذباتی اظہار فلم کی اصل کشش بن جاتے ہیں۔ پرسکون مگرمضبوط ارادوں والی سنگل مدرمنداکنی کے کردار کو بالا ہجام نے بڑی خوبصورتی سے نبھایا ہے۔ راجو اگروال اور جولیانا جیسے دوستوں کےکردار میں انگوم سناماتھم اور نیمیتیا نے بونگ کا بھرپور ساتھ دیا ہے اور ان کی باہمی نوک جھونک دلچسپ محسوس ہوتی ہے۔ 
کیوں دیکھیں؟
اگر مختصر طور پر کہا جائے تو اس فلم کو نہ دیکھنے کی کوئی معقول وجہ نہیں بنتی۔ انسانی جذبات، سماجی حقیقتوں اور معصوم دوستی کی خوبصورت پیشکش کے باعث ’بونگ‘ ایک ایسی فلم ہے جو ضرور دیکھی جانی چاہیے۔ یہ ایک یادگار اور فکر انگیز سنیما تجربہ ثابت ہوتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK