Updated: March 31, 2026, 10:01 AM IST
| Jaipur
جے پور میں ایک غیر ملکی فوٹوگرافر Julia Borulyeva کے فوٹو شوٹ نے اس وقت شدید تنازع کھڑا کر دیا جب ایک ہاتھی کو گلابی رنگ میں پینٹ کر کے ماڈل کے ساتھ استعمال کیا گیا۔ اس عمل پر جانوروں کے حقوق کے کارکنوں نے سخت تنقید کرتے ہوئے اسے استحصال قرار دیا۔ فوٹوگرافر نے دعویٰ کیا کہ نامیاتی رنگ استعمال کیے گئے اور جانور کو نقصان نہیں پہنچا، تاہم سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا۔
ہندوستان کے شہر جے پور میں ایک غیر ملکی آرٹسٹ کے فوٹو شوٹ نے بڑے پیمانے پر غم و غصہ پیدا کر دیا، جب ایک ہاتھی کو گلابی رنگ میں پینٹ کر کے اسے ماڈل کے ساتھ استعمال کیا گیا۔ اس فوٹو شوٹ کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے، جس کے بعد جانوروں کے حقوق کے کارکنوں اور عوام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ فوٹوگرافر جولیا بوریلیوا کی جانب سے کیے گئے اس شوٹ میں ایک ماڈل کو جزوی طور پر گلابی رنگ میں پینٹ کر کے اسی رنگ میں رنگے گئے ہاتھی کے اوپر پوز کرتے دکھایا گیا، جسے کئی صارفین نے ’’جانوروں کے استحصال‘‘ کی واضح مثال قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: اکولہ: اَنوی مرزاپور گاؤں میں سلنڈر کیلئے قطار میں کھڑے سابق سرپنچ کی موت
مقام کا انتخاب بھی تنقید کی زد میں
یہ شوٹ ایک ایسے لاوارث مندر میں کیا گیا جو گنیش سے منسوب ہے، جسے فوٹوگرافر نے ’’کامل مقام‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہاتھی کی مذہبی اور ثقافتی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ مقام منتخب کیا گیا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح مذہبی اور ثقافتی علامتوں کو تجارتی یا بصری مقاصد کے لیے استعمال کرنا خود ایک حساس مسئلہ ہے، خاص طور پر جب اس میں زندہ جانور شامل ہوں۔
فوٹوگرافر کا مؤقف: ’’نامیاتی رنگ محفوظ ہیں‘‘
جولیا نے انسٹاگرام پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ اس شوٹ میں استعمال ہونے والا رنگ مکمل طور پر نامیاتی اور مقامی طور پر تیار کردہ تھا۔ انہوں نے لکھا کہ ’’ہر کسی کے لیے جو ہاتھی کے بارے میں فکر مند تھا، ہم نے نامیاتی، مقامی طور پر تیار کردہ پینٹ استعمال کیا… یہ جانوروں کے لیے بالکل محفوظ تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس پروجیکٹ کے لیے انہوں نے کئی ہفتے تیاری کی، مقامات کا جائزہ لیا اور ہاتھیوں کی سہولیات سے اجازت حاصل کی۔
یہ بھی پڑھئے: کمال مولا مسجد معاملہ :ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ میں مسلم فریق نے چیلنج کیا
سوشل میڈیا پر شدید ردعمل
ان وضاحتوں کے باوجود، سوشل میڈیا پر زیادہ تر ردعمل تنقیدی رہا۔ صارفین نے نہ صرف ہاتھی کو پینٹ کرنے بلکہ اسے فوٹو شوٹ کے لیے استعمال کرنے پر بھی اعتراض کیا۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’’یہ آرٹ نہیں ہے، یہ خالص جانوروں کے ساتھ زیادتی ہے۔‘‘ ایک اور نے کہا کہ ’’نامیاتی رنگ اس حقیقت کو نہیں بدلتے کہ آپ نے ایک حساس جانور کو اپنے فن کے لیے استعمال کیا۔‘‘ کئی صارفین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہاتھیوں کی جلد انتہائی حساس ہوتی ہے اور اس طرح کے تجربات ان کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں، چاہے رنگ نامیاتی ہی کیوں نہ ہوں۔
قانونی پہلو: تحقیقات کا آغاز
واقعے کے بعد راجستھان کے محکمہ جنگلات نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ جانچا جائے گا کہ آیا اس فوٹو شوٹ کے دوران جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں۔ ہندوستان میں جانوروں کے تحفظ کے قوانین کے تحت کسی بھی جانور کے ساتھ غیر ضروری سلوک یا استحصال قابل سزا جرم ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر اس سے جانور کی صحت یا فلاح کو خطرہ لاحق ہو۔
یہ بھی پڑھئے: امیت شاہ کےخلاف ممتا بنرجی کی’’چارج شیٹ‘‘
ثقافتی اور اخلاقی بحث
یہ واقعہ ایک وسیع تر بحث کو بھی جنم دے رہا ہے کہ فن اور تخلیقی اظہار کی حدود کیا ہونی چاہئیں، خاص طور پر جب اس میں زندہ جانور شامل ہوں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں جہاں ڈجیٹل اور اے آئی ٹیکنالوجی دستیاب ہے، وہاں ایسے تجربات سے گریز کیا جا سکتا ہے جو جانوروں کی فلاح کے لیے نقصان دہ ہوں یا غلط مثال قائم کریں۔ تحقیقات کے نتائج اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ عمل قانونی حدود میں تھا یا نہیں، لیکن فی الحال یہ معاملہ سوشل میڈیا، قانونی حلقوں اور عوامی بحث کا مرکز بن چکا ہے۔