Updated: May 25, 2026, 5:32 PM IST
| London
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کی نئی رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۶ء میں دنیا بھر میں الیکٹرک کاروں کی فروخت ۲۳؍ ملین یونٹس تک پہنچ سکتی ہے، جو عالمی کار فروخت کا تقریباً ۲۸؍ فیصد ہوگی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاشی غیر یقینی صورتحال، جغرافیائی کشیدگی اور مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے باوجود الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے۔
الیکٹرک کار۔ تصویر: آئی این این
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کی جانب سے جاری کردہ نئی رپورٹ ’’گلوبل ای وی آؤٹ لک ۲۰۲۶ء‘‘ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ ۲۰۲۶ء کے دوران دنیا بھر میں الیکٹرک کاروں کی فروخت ۲۳؍ ملین یونٹس تک پہنچ جائے گی، جو عالمی سطح پر فروخت ہونے والی تمام نئی گاڑیوں کا تقریباً ۲۸؍ فیصد حصہ ہوگی۔ ۲۰؍ مئی ۲۰۲۶ء کو جاری کی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی غیر یقینی صورتحال، جغرافیائی سیاسی تناؤ اور بڑی عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود برقی نقل و حرکت کی طرف منتقلی مسلسل تیز ہو رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۵ء میں عالمی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت ۲۰؍ ملین یونٹس سے تجاوز کر گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً ۲۰؍ فیصد زیادہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ۲۰۲۵ء میں دنیا بھر میں فروخت ہونے والی ہر چار نئی گاڑیوں میں سے ایک الیکٹرک تھی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ تقریباً ۴۰؍ ممالک ایسے تھے جہاں الیکٹرک گاڑیاں نئی کار فروخت کا کم از کم ۱۰؍ فیصد حصہ بن چکی ہیں، جو عالمی آٹوموبائل انڈسٹری میں تیزی سے آنے والی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ یورپ ۲۰۲۵ء کے دوران سب سے مضبوط ای وی بازار میں شامل رہا۔ پورے یورپی خطے میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت ۳۰؍ فیصد سے زیادہ اضافے کے ساتھ ۲ء۴؍ ملین یونٹس تک پہنچ گئی، جو وہاں فروخت ہونے والی نئی گاڑیوں کا تقریباً ۲۸؍ فیصد ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ریزرو بینک آف انڈیا نے بینکاری نظام کو قابل تبدیل ریپوریٹ پر ۸۱؍ ہزار ۵۹۰؍ کروڑ کی نقدی فراہم کی
رپورٹ کے مطابق اس ترقی کی بنیادی وجوہات سخت یورپی یونین کاربن اخراج قوانین، صاف توانائی کی حمایت کرنے والی سرکاری پالیسیاں اور صارفین میں بڑھتی ہوئی دلچسپی ہیں۔ آئی ای اے نے اندازہ لگایا ہے کہ ۲۰۲۶ء تک یورپ میں فروخت ہونے والی ہر تین میں سے ایک گاڑی الیکٹرک ہوگی۔ عالمی مینوفیکچرنگ کے میدان میں چین بدستور سب سے آگے ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں فروخت ہونے والی تقریباً ۶۰؍ فیصد الیکٹرک کاریں چینی کمپنیوں نے تیار کیں، جبکہ یورپی اور شمالی امریکی مینوفیکچررز کا مشترکہ حصہ تقریباً ۱۵؍ فیصد رہا۔ ہندوستان میں اگرچہ ای وی مارکیٹ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، لیکن ترقی کی رفتار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۵ء میں ملک میں الیکٹرک کاروں کی فروخت ۷۵؍ فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً ایک لاکھ ۶۵؍ ہزار یونٹس تک پہنچ گئی، جو کل کار فروخت کا تقریباً ۴؍ فیصد ہے۔
ہندوستانی کمپنیوں ٹاٹا موٹرس اور مہندرا نے ملک کی کل الیکٹرک کار فروخت میں تقریباً ۶۰؍ فیصد حصہ ڈالا۔ افریقی ممالک میں بھی ای وی مارکیٹ بتدریج پھیل رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پورے براعظم میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت ۲۰۲۳ء کے تقریباً ۴؍ ہزار یونٹس سے بڑھ کر ۲۰۲۵ء میں ۲۵؍ ہزار یونٹس تک پہنچ گئی۔ مصر، مراکش اور جنوبی افریقہ نے مجموعی افریقی ای وی فروخت کا تقریباً ۷۰؍ فیصد حصہ ریکارڈ کیا جبکہ ایتھوپیا، ماریشس، روانڈا اور نائیجیریا میں بھی نمایاں پیش رفت دیکھی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: ملک میں ۱۰۰؍ صنعتی پارک کی تعمیر کا منصوبہ، ۶ء۳۳؍ہزار کروڑ مختص
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ ۲۰۲۶ء کی پہلی سہ ماہی میں عالمی ای وی فروخت میں عارضی سست روی دیکھنے میں آئی۔ جنوری سے مارچ ۲۰۲۶ء کے درمیان دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت تقریباً ۸؍ فیصد کم ہو کر ۹ء۳؍ ملین یونٹس رہی، جس کی بڑی وجہ چین اور امریکہ میں طلب میں کمی تھی۔ اس کے برعکس یورپ اور ابھرتی ہوئی ایشیائی مارکیٹوں میں فروخت میں مضبوط اضافہ جاری رہا۔ آئی ای اے کے مطابق بیٹریوں کی قیمتوں میں کمی، چارجنگ انفراسٹرکچر کی توسیع، حکومتی مراعات اور ایندھن کی بلند قیمتیں الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقلی کو مزید تیز کر رہی ہیں۔ صرف ۲۰۲۵ء کے دوران دنیا بھر میں تقریباً ۱۸؍ لاکھ نئے پبلک چارجنگ پوائنٹس نصب کیے گئے، جس کے بعد عالمی سطح پر چارجنگ اسٹیشنز کی مجموعی تعداد ۷۰؍ لاکھ سے تجاوز کر گئی۔