اس سیریز میں کچھ ایسے موضوعات کو اٹھایا گیا ہے جنہیں بہت کم اٹھایا جاتا ہے، یہ مغربی معاشرے میں تو وجود رکھتے ہیں لیکن ہمارے یہاں نہیں۔
EPAPER
Updated: April 05, 2026, 11:28 AM IST | Mohammed Habib | Mumbai
اس سیریز میں کچھ ایسے موضوعات کو اٹھایا گیا ہے جنہیں بہت کم اٹھایا جاتا ہے، یہ مغربی معاشرے میں تو وجود رکھتے ہیں لیکن ہمارے یہاں نہیں۔
چِریّا (Chiraiya)
اسٹریمنگ ایپ: جیو ہاٹ اسٹار(۶؍ایپی سوڈ)
اسٹار کاسٹ: دیویہ دتہ، سنجے مشرا، پرسنا بشٹ، سدھارتھ شا، فیصل راشد، مدھوسچدیوا، ٹینو آنند
ڈائریکٹر: ششانت شاہ
رائٹر: دیویہ ندھی شرما
پروڈیوسر: راجیش شرما
پروڈکشن ڈیزائن: ترپتی چوان
کاسٹیوم ڈیزائن: تسنیم خان
اسسٹنٹ ڈائریکٹر: وکاس گوڑ
آرٹ ڈپارٹمنٹ: سمن ودیارتھی
ریٹنگ: ***
کیا شادی واقعی ایک ایسا معاہدہ ہے جہاں ایک عورت کی مرضی پسِ پردہ چلی جاتی ہے؟ کیا رشتوں کی بنیاد صرف رسموں پر قائم ہوتی ہےیا اس میں انسان کی خواہش اور رضا بھی شامل ہوتی ہے؟ یہی وہ سوالات ہیں جنہیں ویب سیریزچریانہایت جرات کے ساتھ اٹھاتی ہے۔جیو ہاٹ اسٹارپر پیش کی گئی یہ کہانی ہمارے سماج کے ایک ایسے پہلو کو بے نقاب کرتی ہے، جس پر اکثر خاموشی اختیار کی جاتی ہے ازدواجی رشتے میں عورت کی آواز اور اس کی اہمیت۔
یہ بھی پڑھئے: ہیلو بچوں: فزکس والا کے سفرکی مشکلات پیش کرنےوالی سیریز
کہانی
سیریز کی کہانی لکھنؤکے ایک معزز اور تعلیم یافتہ خاندان کے گردگھومتی ہے، جس کے سربراہ پاپا جی کا کردار سنجے مشرانے نبھایا ہے۔وہ ادبی حلقوں میں نہایت باوقار شخصیت سمجھے جاتے ہیں اور خواتین کے حقوق، انصاف اور سچ کے حق میں بڑی بڑی باتیں کرتے نظر آتے ہیں۔گھر کی بڑی بہو کملیش، جسے دیویہ دتہ نے ادا کیا ہے، اس پڑھے لکھے گھرانے میں خود کو کم تعلیم یافتہ ہونے اور بیٹا نہ ہونے کے احساسِ جرم کے ساتھ جیتی ہے۔ وہ اپنی خاموش خدمت، سب کا خیال رکھنے اور روایتی اقدارنبھانے میں ہی اپنی پہچان تلاش کرتی ہے۔ اس نے اپنے دیور ارون(سدھارتھ شا)کو بیٹے کی طرح پالا ہے۔مگر اس بظاہر پُرسکون گھر میں طوفان اُس وقت آتا ہے جب ارون کی نئی نویلی بیوی پوجا(پرسنا بشٹ)اپنے ہی شوہر پر ریپ کا الزام لگاتی ہے۔یہ الزام پورے خاندان کو ہلا کر رکھ دیتا ہےاور جیسے اکثرہوتا ہے، کوئی بھی پوجا کی بات پر یقین نہیں کرتا، حتیٰ کہ اس کے اپنے والدین بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔
ایسے میںجب پوجا تنہا ہو کر ایک سخت قدم اٹھانے پر مجبور ہوتی ہے، تو کملیش اس کا سہارا بنتی ہے۔ وہ سچ کے لیے اپنے ہی گھر کے خلاف کھڑی ہو جاتی ہے۔ مگر کیا وہ پوجا کو انصاف دلوا پاتی ہے؟ یہ جاننے کے لیے سیریز دیکھنا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سائیکو سیاں: نفسیاتی اتارچڑھائو سے بھرپور محبت کی کہانی
ہدایت کاری
دیویہ ندھی شرما کی تخلیق اورششانت شاہ کی ہدایت میں بنی اس سیریزنےازدواجی زیادتی جیسے نازک موضوع کو بڑی جرات کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ سیریز پدرسری نظام (پیٹریارکی)، بچوں کی پرورش میں خاندان کے کردار، بیٹے اور بیٹی کے درمیان تفریق، حتیٰ کہ خواتین کے لیے عوامی مقامات پر بنیادی سہولیات جیسے بیت الخلا کی کمی جیسے مسائل کو بھی چھیڑتی ہے۔ البتہ ہر وقت سبق دینےکی یہ کوشش بعض اوقات فطری محسوس نہیںہوتی، بلکہ زبردستی ٹھونس دی گئی لگتی ہے۔ اسکرین پلے کئی مقامات پر حد سے زیادہ ڈرامائی ہو جاتا ہے، جس سے ٹی وی سیریل جیسا تاثر ابھرتا ہے۔
اس سیریز میں موسیقی شور مچانے کے بجائے خاموشی کے ساتھ چلتی ہےجیسےکسی دبے ہوئے درد کی بازگشت۔ بیک گراؤنڈ اسکور زیادہ ترہلکے اور سنجیدہ سُروں پر مشتمل ہے، جو کہانی کے حساس موضوع کے ساتھ ہم آہنگ رہتا ہے۔ خاص طور پر وہ مناظر جہاں پوجا کی ذہنی کیفیت یا اس کی بے بسی دکھائی جاتی ہے، وہاں موسیقی جذبات کو ابھارنےکے بجائے انہیں اندر ہی اندر سلگنے دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کہرا، ۲: قتل کی واردات کے بیچ کرداروں کی زندگی کے راز کھولتی سیریز
اداکاری
کردار نگاری میں بھی کچھ کمی محسوس ہوتی ہے۔ کملیش کے علاوہ دیگر کردار، جیسے پوجا اور ارون، مکمل طور پر نکھر نہیں پاتے۔ اس کے باوجود تمام اداکاروں نے اپنی اپنی حد تک کرداروں کے ساتھ انصاف کرنے کی کوشش کی ہے۔دیویہ دتہ سخت اور جذباتی مناظر میں خاصی مؤثر نظر آتی ہیں، جبکہ سنجے مشراگھر کے سربراہ کے طور پر جچتے ہیں۔ پوجا کے کردار میں پرسنا بشٹ نےبھی اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے۔ دیگر کرداروں میں معاون اداکاروں نے کہانی کو سہارا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایسپیرینٹس۳: اعلیٰ عہدوں پر پہنچنے کیلئے ہونے والی جدوجہد کی کہانی
نتیجہ
چریامحض ایک کہانی نہیں، بلکہ سماج کے آئینے کی مانند ہےجو ہمیں وہ سچ دکھاتی ہے جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ سیریز ناظر کو بے چین بھی کرتی ہے اور سوچنے پر مجبور بھی۔
یوں، کچھ خامیوں کے باوجود، یہ ایک ایسی پیشکش ہے جسے کم از کم ایک بار ضرور دیکھنا چاہیے،کیونکہ بعض سوالات ایسے ہوتے ہیں جن سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں۔