• Sat, 12 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

لاسٹ مین اِن ٹاور: ممبئی میں بڑے ٹاوروں کے لالچ پر مبنی فلم

Updated: September 12, 2026, 12:45 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai

ایک ناول پر مبنی حقیقت سے قریب ترفلم میں منوج باجپئی نے ایک عام آدمی کے کردار کو نہایت موثر انداز میں پیش کیا ہے، کہانی بھی کافی عمدہ ہے۔

Manoj Bajpayee can be seen in a scene from the film `Last Man in Tower`. Photo: INN
فلم’لاسٹ مین اِن ٹاور‘کےایک منظر میںمنوج باجپئی کو دیکھا جاسکتاہے۔ تصویر: آئی این این

لاسٹ مین اِن ٹاور (Last Man in Tower)
اسٹارکاسٹ:منوج باجپئی، بومن ایرانی، دویا دتہ، سوکانت گوئل، دھرمی اگروال، اجے راجو، ساریکا سنگھ، آستھا متل، گگن دیپ سنگھ
ڈائریکٹر:بین ریکھی
رائٹر: اروند اڈیگا، جوہی چترویدی،سونی تارپوروالا
پروڈیوسر: رانا دگوبتی،گونیت ڈوگرا، پرتیکشا رائو،بین ریکھی
موسیقار: گووند وسنت
سنیماٹو گرافر: رنگ راجن رمابدرن
پروڈکشن ڈیزائن: راکیش یادو
ریٹنگ: ****

یہ بھی پڑھئے:مرزا پور- دی مووی: ویب سیریز کی دنیا کو بڑے پردے پر پیش کرتی ہے

ممبئی جیسے بڑے شہروں میں رہنے والوں کے لیے اپنے آس پاس بنتے، ٹوٹتے اور نئی شکل اختیار کرتے بڑے بڑے ٹاور اب کوئی نئی بات نہیں۔ مسلسل ترقی کرتے شہر نے بلند و بالا عمارتوں کو وقت کی ضرورت بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے شہروں کو اکثر ’کنکریٹ کا جنگل‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ممبئی کی بات کریں تو بدلتی ہوئی شکل و صورت والا یہ شہر اپنی پرانی تہذیب، ورثے اور یادوں کو پیچھے چھوڑ کر فلک بوس عمارتوں اور فلائی اوورز کے جال میں لپٹا نظر آتا ہے۔

اسی ترقی کے سفر کے بہانے ہدایت کار بین ریکھی نے انسانی رویوں اور بدلتے رشتوں کی گہری پڑتال کی ہے۔ اروند اڈیگا کے ناول پر مبنی منوج باجپئی کی نئی فلم ’لاسٹ مین اِن ٹاور‘ ترقی اور ورثے کے درمیان جاری بحث کو انتہائی حساس انداز میں پیش کرتی ہے۔ فلم یہ سوال بھی اٹھاتی ہے کہ ترقی کی اس اندھی دوڑ میں ہم صرف پرانی عمارتوں کو ہی پیچھے چھوڑ رہے ہیں یا ان یادوں، رشتوں اور اجتماعی احساس کو بھی، جو کسی جگہ کو محض مکان نہیں بلکہ گھر بناتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: فرضی کیفے میں دستیاب ڈشیز کےنام بھی فرضی محسوس ہوتے ہیں

فلم کی کہانی

ممبئی کی ایک پرانی ’وشرام‘ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں رہنےوالے ریٹائرڈ استاد یوگیش مشرا عرف ماسٹر جی (منوج باجپئی) کیلئے یہ عمارت محض اینٹوں اور پتھروں کا ڈھانچہ نہیں بلکہ ان کی پوری زندگی کی یادوں کا حصہ ہے۔ اسی گھر میں ان کی مرحوم اہلیہ پورنیما کی تصویر بھی موجود ہے، جس پر آج بھی ہار چڑھا ہوا ہے۔ بلڈر دھرمین شاہ (بومن ایرانی) اس پرانی سوسائٹی کو گرا کر وہاں ایک شاندار ٹاور ’دی شنگھائی‘ تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ وہ سوسائٹی کے ہر مکین کو بھاری رقم کے ساتھ بہتر زندگی کا خواب دکھاتا ہے۔ لیکن جیسے ہی یہ پیشکش سامنے آتی ہے، برسوں سے قائم اتحاد، باہمی محبت اور ہم آہنگی میں دراڑیں پڑنے لگتی ہیں۔ تقریباً تمام رہائشی اس سنہرے موقع کے حق میں ہوجاتے ہیں، لیکن ماسٹر جی اپنا گھر چھوڑنے کیلئے تیار نہیں۔ ماسٹر جی کے علاوہ سوسائٹی کے چند اور رہائشی بھی اپنا گھر چھوڑنے سے انکار کرتے ہیں۔ لیکن دھرمین شاہ اپنے منصوبے کو مکمل کرنے کیلئے ہر حربہ استعمال کرتا ہے۔ اب ماسٹر جی کی لڑائی صرف اپنا فلیٹ بچانے کی نہیں رہتی بلکہ ان رشتوں، یادوں اور اپنائیت کو محفوظ رکھنے کی جنگ بن جاتی ہے، جنہیں دولت کے بل پر خریدا نہیں جاسکتا۔ دوسری طرف سنگیتا پوری (دِویا دتہ) جیسی پڑوسن بلڈر کی پیشکش میں اپنی زندگی بدلنے کا سنہرا موقع دیکھتی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے دوست ایک دوسرے کے مخالف ہوجاتے ہیں، لالچ اور دباؤ بڑھتا جاتا ہے اور ماسٹر جی اپنی ہی سوسائٹی میں تنہا پڑتے چلے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:دوگرواڑی آبشار: سہیادری کی خاموش وادی میں گرتا ہوا دلکش آبشار

ہدایت کاری

فلم کی ابتدا سادہ انداز میں ہوتی ہے۔پہلے نصف میں کرداروں اور ماحول کو قائم کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔ اروند اڈیگا کا ناول۲۰۱۱ءمیںشائع ہوا تھا، جب ممبئی سمیت ملک کے کئی شہروں میں ری ڈیولپمنٹ کے تعلق سےآج جیسی بے تابی نہیں تھی۔ اس کے باوجود کہانی آج کے ان بزرگوں کے جذبات سے گہرا تعلق قائم کرتی ہے جن کیلئے سوسائٹی محض رہنے کی جگہ نہیں بلکہ ایک خاندان کی مانند ہوتی ہے۔دوسرے نصف میں ماسٹر جی اور سوسائٹی کے درمیان کشمکش مزید شدید ہوجاتی ہے۔ بلڈر لابی کی غنڈہ گردی، قانون اور انصاف کے نظام میں بدعنوانی، بزرگوں کی سلامتی، تنہا خواتین کے بطور پیئنگ گیسٹ رہنے سے متعلق مسائل اور باپ بیٹے کے درمیان نظریاتی اختلاف جیسے کئی اہم موضوعات کو کہانی میں جگہ دی گئی ہے۔

اداکاری

فلم ’ستیا‘ میں منوج باجپئی کا ایک مشہور مکالمہ تھا، ’ممبئی کا کنگ کون؟‘ اس فلم میں بھی منوج باجپئی اپنی اداکاری سے ثابت کرتے ہیں کہ عام آدمی کے کردار کو حقیقت کے قریب لانے میں ان کا کوئی جواب نہیں۔ تاہم دِویا دتہ بھی ان کے سامنے کہیں کمزور نظر نہیں آتیں۔بومن ایرانی نے بھی ایک شاطر اور خوشامدی بلڈر کے کردار کو بخوبی نبھایا ہے۔ فلم کے دیگر فن کاروں نے بھی اپنے اپنے کرداروں میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

کیوں دیکھیں؟

حقیقت سے قریب کہانیاں پسند کرنے والے ناظرین کے لیے ’لاسٹ مین اِن ٹاور‘ ایک قابلِ توجہ فلم ہے۔ خاص طور پر منوج باجپئی اور دِویا دتہ کی عمدہ اداکاری اور گھر، یادوں، رشتوں اور ترقی کے درمیان کشمکش کو دیکھنے کے لیے یہ فلم دیکھی جاسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK