Inquilab Logo Happiest Places to Work

میٹ گالا۲۰۲۶ء: سُدھا ریڈی نے جنوبی ہند کی دستکاری کی نمائش کی

Updated: May 05, 2026, 2:04 PM IST | New York

ارب پتی مخیر شخصیت سُدھا ریڈی نے میٹ گالا ۲۰۲۶ء کے ریڈ کارپیٹ پر چلتے ہوئےہندوستانی ٹیکسٹائل روایات کی طرف توجہ مبذول کرائی، جب وہ منیش ملہوترہ کے ڈیزائن کردہ کسٹم لباس میں نظر آئیں۔

Sudha Reddy.Photo:X
سُدھا ریڈی۔ تصویر:ایکس

ارب پتی مخیر شخصیت سُدھا ریڈی نے میٹ گالا ۲۰۲۶ء کے ریڈ کارپیٹ پر چلتے ہوئےہندوستانی ٹیکسٹائل روایات کی طرف توجہ مبذول کرائی، جب وہ منیش ملہوترہ کے ڈیزائن کردہ کسٹم لباس میں نظر آئیں۔۵؍مئی کو نیویارک میں منعقد ہونے والے اس ایونٹ میں ریڈی نے’’دی ٹری آف لائف‘‘ کے عنوان سے ایک جوڑا پہنا، جو جنوبی ہندوستان کے روایتی کلماکاری آرٹ فارم سے متاثر تھا۔ یہ لباس ۳۴۵۹؍ گھنٹوں میں ۹۰؍ سے زائد کاریگروں نے تیار کیا اور اس میں کئی ہاتھ سے کیے گئے دستکاری کے فن پارے شامل تھے۔


اس ڈیزائن کی بنیاد ماچیلی پٹنم اسٹائل کی کلماکاری پر رکھی گئی تھی، جو ہاتھ سے پینٹنگ اور قدرتی رنگوں کے استعمال کے لیے مشہور ہے۔ ’دی ٹری آف لائف‘کا نقش اس لباس کا مرکزی خیال تھا، جو ترقی اور تعلق کی علامت ہے۔ اس لک میں تلنگانہ سے جڑے عناصر بھی شامل تھے، جیسے پلپیٹا پرندہ، جمّی چیتو درخت اور ٹینگےدو پھول، ساتھ ہی سورج اور چاند کی علامتیں بھی۔
یہ لباس گہرے نیلے رنگ کے اسٹرکچرڈ سِلویٹ میں تیار کیا گیا تھا، جس پر مخمل، ریشم اور ٹول جیسے کپڑوں پر سنہری کڑھائی کی گئی تھی۔ ایک لمبی ٹرین اور شفاف کیپ نے اس لک کو مزید خوبصورت بنایا، جبکہ پیچھے ایک ہاتھ سے تیار کردہ دھاتی آرٹ انسٹالیشن نے اس ڈیزائن کو مکمل کیا۔

یہ بھی پڑھئے:کرن جوہر نے اپنے پہلے میٹ گالا میں راجہ روی ورما سے متاثر لباس زیب تن کیا


ریڈی نے اس لباس کے ساتھ اپنی ذاتی کلیکشن سے جیولری پہنی، جس میں ایک بڑے ٹینزینائٹ پتھر والا ہار اور ہیروں کی انگوٹھیاں شامل تھیں۔ ان کا میک اپ نہایت سادہ رکھا گیا جبکہ اسٹائلنگ ماریل ہین نے کی۔ اپنے لک کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے سُدھا ریڈی نے عالمی پلیٹ فارم پر اپنی جڑوں کی نمائندگی پر زور دیا۔ ٹیم کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق سُدھا نے کہا’’حیدرآباد میری بنیاد ہے اور یہ جوڑا اسی ثقافتی شناخت کا ایک ترجمہ ہے جو عالمی اور انتہائی ذاتی زبان میں کیا گیا ہے۔ ہندوستانی دستکاری صرف تاریخ تک محدود ورثہ نہیں بلکہ ایک زندہ اور سانس لیتا ہوا فن ہے۔ یہ دکھانا ضروری تھا کہ یہ قدیم تکنیک ساختی مضبوطی اور جمالیاتی طاقت رکھتی ہیں تاکہ عالمی فیشن مکالمے کی قیادت کر سکیں۔ تلنگانہ کے معزز وزیراعلیٰ نے حال ہی میں زور دیا ہے کہ جنوبی ہندوستانی دستکاری اور ٹیکسٹائل کو عالمی سطح پر مستقل نمائش ملنی چاہیے، حتیٰ کہ انہیں لندن اور پیرس فیشن ویک جیسے پلیٹ فارمز پر بھی دیکھا جائے۔ یہی میرے لیے ٹیم کو دیا گیا واحد ہدف تھا کہ جنوبی ہندوستانی ٹیکسٹائل ورثے کو بین الاقوامی اسٹیج تک پہنچایا جائے۔ نیویارک ہمارا آغاز تھا۔‘‘
ڈیزائنر منیش ملہوترہ نے بھی اس لباس کے معنی پر بات کی۔ انہوں نے کہاکہ ’’فیشن میرے لیے ہمیشہ تصویر کے پیچھے چھپے جذبات کے بارے میں رہا ہے۔ ’دی ٹری آف لائف‘ کے ساتھ ہم کچھ ایسا بنانا چاہتے تھے جو یادوں اور دستکاری کی روح کو اپنے اندر سموئے۔ یہ صرف پہنا نہیں جاتا، بلکہ محسوس کیا جاتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:پرندے انسانوں کی جنس پہچانتے، خواتین سے دور بھاگتے: تحقیق


سیلیبریٹی اسٹائلسٹ ماریل ہین نے اس اسٹائلنگ کے خیال اور اس کے مکمل بصری کہانی بننے پر بات کی۔ انہوں نے کہاکہ ’’سُدھا ریڈی اور منیش ملہوترہ کے ساتھ دی ٹری آف لائف پر کام کرنا ریڈ کارپیٹ فیشن کی حدود کو توڑنے کی ایک مشق تھی۔ ہمارا مقصد اس جوڑے کو ایک ہائی کانسیپٹ آرٹ پیس کے طور پر پیش کرنا تھا، جس میں ہندوستانی ورثے کی شان کو سنیماٹک اور جدید انداز میں دکھایا جائے۔ میری اسٹائلنگ کا طریقہ ہمیشہ اس بیانیے کو تلاش کرنا ہوتا ہے جو ایک شخص کو اس کے کپڑوں سے جوڑتا ہے۔ سُدھا ریڈی کے ساتھ یہ رشتہ ان کی اپنے شہر سے وابستگی اور اپنی ثقافت کی کہانی سنانے کی لگن ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK