یہ راجستھان کا واحد معروف ہِل اسٹیشن ہے اور اپنی قدرتی دلکشی،تاریخی یادگاروں اور پُرسکون ماحول کے سبب سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔
ٹوڈ راک ویو پوائنٹ دیکھا جاسکتا ہے- تصویر:آئی این این
راجستھان کی سرزمین میں اگر کوئی مقام ایسا ہے جہاں ریگستانی فضا کے بیچ اچانک ٹھنڈی ہوا کا لمس محسوس ہو، پہاڑ خاموشی سے بادلوں کا انتظار کرتے ہوں اور جھیل کے کنارے شام ایک نرم غزل کی طرح اترتی ہو، تو وہ ماؤنٹ آبوہے۔ یہ راجستھان کا واحد معروف ہِل اسٹیشن ہے اور اپنی قدرتی دلکشی، مذہبی اہمیت، تاریخی یادگاروں اور پُرسکون ماحول کے سبب برسوں سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ راجستھان ٹورزم کے مطابق ماؤنٹ آبو کے نمایاں مقامات میں نکّی جھیل، گرو شکھر، ٹوڈ راک ویو پوائنٹ، دلواڑہ جین مندر، ماؤنٹ آبو وائلڈ لائف سینکچری اور پیس پارک شامل ہیں۔
نکی جھیل
ماؤنٹ آبو کی سب سے مشہور اور دلکش جگہ نکّی جھیل ہے۔ راجستھان ٹورزم اسے ہندوستان کی اولین مصنوعی جھیلوں میں شمار کرتا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں سیاح کشتی رانی، شام کی سیر اور اردگرد کے پہاڑوں کا خوبصورت نظارہ ایک ساتھ حاصل کرتے ہیں۔ جھیل کے اطراف کی فضا میں ایک خاص طرح کی نرمی پائی جاتی ہے۔ دن کے وقت یہاں چہل پہل رہتی ہے، لیکن شام ڈھلتے ہی یہ علاقہ اور زیادہ رومانوی اور پُرسکون ہو جاتا ہے۔ جھیل کے قریب بیٹھ کر پانی پر تیرتی روشنیوں کو دیکھنا ماؤنٹ آبو کے سفر کا ایسا تجربہ ہے جو دیر تک ذہن میں زندہ رہتا ہے۔
ٹوڈ راک ویو پوائنٹ
نکّی جھیل کے قریب ہی ٹوڈ راک ویو پوائنٹ واقع ہے، جو اپنی عجیب و دلکش قدرتی ساخت کی وجہ سے سیاحوں میں بے حد مقبول ہے۔ راجستھان ٹورزم کے مطابق یہ ایک مینڈک جیسی شکل رکھنے والی چٹان ہےجو جھیل کے قریب مرکزی ٹریکنگ راستے پر واقع ہے، اور یہاں سے نکّی جھیل اور اطراف کی ہریالی کا نظارہ بے حد خوبصورت دکھائی دیتا ہے۔ یہ مقام محض تصویر کشی کے لیے ہی اچھا نہیں، بلکہ اس سے ماؤنٹ آبو کی زمینی ساخت اور قدرتی حسن کا ایک الگ رخ بھی سامنے آتا ہے۔
گرو شکھر
اگر کوئی سیاح ماؤنٹ آبو کی بلندیوں کو قریب سے محسوس کرنا چاہے تو اسے گرو شکھر ضرور جانا چاہیے۔یہ اراؤلی سلسلے کی بلند ترین چوٹی مانی جاتی ہے۔ راجستھان ٹورزم کے مطابق یہاںتقریباً ۳۰۰؍ سیڑھیاں چڑھ کر دتاتریہ مندر تک پہنچا جاتا ہے، اور اس مقام سے اطراف کا پینورامک منظر دل موہ لیتا ہے۔ صبح کے وقت یا ہلکے بادلوں کے دن یہاں پہنچنا ایک خاص تجربہ ہوتا ہے، کیونکہ نیچے پھیلی وادیاں اور دور دور تک پھیلے پہاڑ ایک خاموش مگر عظیم منظرنامہ پیش کرتے ہیں۔
ماؤنٹ آبو وائلڈ لائف سینکچری
قدرتی مناظر اور جنگلی حیات میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ماؤنٹ آبو وائلڈ لائف سینکچری بھی ایک اہم مقام ہے۔ یہ سینکچری تقریباً ۲۸۸؍مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلی ہوئی ہے اور یہاں انڈین فاکس، پینگولن، گرے جنگل فاؤل، اسٹرائپڈ ہائینا اور انڈین لیپرڈ جیسےجانور پائے جاتے ہیں۔ پہاڑی جنگل، خاموش درخت، پرندوں کی آوازیں اور جنگلی فضا مل کر اس مقام کو فطرت دوست افراد کے لیے نہایت کشش بھرا بنا دیتے ہیں۔ یہ جگہ ان لوگوں کے لیے خاص طور پر موزوں ہے جو شور سے دور، فطرت کے قریب کچھ وقت گزارنا چاہتے ہیں۔
پیس پارک
ماؤنٹ آبو میں پیس پارک بھی ایک ایسا مقام ہے جہاں سیاحت صرف دیکھنے تک محدود نہیں رہتی بلکہ اندرونی سکون کا احساس بھی جاگتا ہے۔ یہ پارک برہما کماریز ادارے کا حصہ ہے اور گرو شکھر اور اچل گڑھ کے درمیان واقع ہے۔ یہاں کا ماحول خاموش، سرسبز اور نہایت ترتیب یافتہ ہے، جو مراقبہ، خاموشی اور ذہنی سکون کے طالب افراد کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے۔
اچل گڑھ قلعہ
ماؤنٹ آبو کے تاریخی اور مذہبی مقامات میں اچل گڑھ فورٹ بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق اچل گڑھ قلعہ ۱۴؍ویں صدی میں میواڑ کے حکمران کُنبھا سے منسوب کیا جاتا ہے، جبکہ اس کے قریب واقع مندر بھی عقیدت مندوں اور سیاحوں دونوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ قلعے کی قدیم فصیلیں اور پہاڑی ماحول ماضی کی ایک مدھم مگر پُراثر گونج سناتے ہیں۔