Updated: January 10, 2026, 8:04 PM IST
| Mumbai
معروف فلمساز مظفر علی نے ۱۶ء کی اپنی مشہور فلم ’’انجمن‘‘ کا ۳۵؍ ایم ایم پرنٹ نیشنل فلم ڈیولپمنٹ کارپوریشن – نیشنل فلم آرکائیو آف انڈیا (این ایف ڈی سی این ایف اے آئی) کو عطیہ کر دیا ہے۔ اس اقدام کو ہندوستان کے فلمی ورثے کے تحفظ کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے تاکہ کلاسک فلمیں آئندہ نسلوں کیلئے محفوظ اور قابلِ رسائی رہیں۔
ہندوستانی سنیما کے معروف فلمساز مظفر علی نے اپنی فلم ’’انجمن‘‘ (۱۹۸۶ء) کا نایاب ۳۵؍ ایم ایم پرنٹ این ایف ڈی سی این ایف اے آئی کے حوالے کر دیا ہے، جس سے قومی فلمی آرکائیوز میں ایک قیمتی خزانہ شامل ہو گیا ہے۔ یہ پرنٹ نئی دہلی میں این ایف ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر شری پرکاش مگڈم کو باضابطہ طور پر پیش کیا گیا۔ ۱۹۸۶ء میں ریلیز ہونے والی اس فلم کو انڈین پینوراما کے لیے باضابطہ طور پر منتخب کیا گیا تھا جبکہ فلم کو وینکوور اور تہران فلم فیسٹیول میں بھی نمائش کا موقع ملا۔ لکھنؤ کی تاریخی گلیوں میں فلمائی گئی اس فلم کی سینماٹوگرافی ایشان آریہ نے انجام دی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر سراہنے کے باوجود، فلم کو وسیع تھیٹر ریلیز نہیں مل سکی، جس کی وجہ سے اس کا محفوظ کیا جانا مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:آدرش گورو اور شنایا کپور کی فلم ’’تو یا میں‘‘ کا ٹیزر جاری
اپنے اس اقدام پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مظفر علی نے کہا کہ ’’انجمن‘‘ ان فلموں میں شامل ہے جو ’’گمن‘‘، ’’آگمن‘‘ اور ’’امراؤ جان‘‘ کے بعد ان کے تخلیقی سفر کا حصہ بنیں۔ ان کے مطابق این ایف ڈی سی این ایف اے آئی کی جانب سے نیشنل فلم ہیریٹیج مشن کے تحت شروع کی گئی کوششیں فلم سازوں اور فلمی دنیا کے لیے بے حد قیمتی ہیں کیونکہ ہر فریم رنگ، ساخت اور ڈیزائن کے اعتبار سے نہایت احتیاط سے تیار کیا گیا تھا، اور اس خوبصورتی کا وقت کے ساتھ ضائع ہو جانا تشویش ناک ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلمی ریلز عطیہ کرنا دراصل مستقبل میں جھانکنے کے مترادف ہے—نہ صرف فلم کے لیے بلکہ ان ناظرین کے لیے بھی جو آنے والے وقتوں میں ’’انجمن‘‘ کی جمالیاتی خوبصورتی کا تجربہ کرنا چاہیں گے۔ ان کے بقول، یہ فلم ایک مکمل رنگین اور نفیس سنیما دستاویز ہے، جس کا محفوظ رہنا نہایت ضروری تھا، اور این ایف ڈی سی کے پاس اس کا محفوظ ہونا اطمینان بخش ہے۔
یہ بھی پڑھئے:شاہد کپور اور وشال بھردواج کی ’’او رومیو‘‘ کا ٹیزر جاری
اس موقع پر شری پرکاش مگڈم نے ہندوستان کے فلمی ورثے کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل فلم ہیریٹیج مشن اس سمت میں ایک نہایت اہم قدم ہے۔ انہوں نے مظفر علی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فلم انڈسٹری کے دیگر اسٹیک ہولڈرز سے بھی اپیل کی کہ وہ فلمیں اور فلم سے متعلق مواد آرکائیوز کو فراہم کر کے اس قومی مقصد میں اپنا کردار ادا کریں۔ خیال رہے کہ ’’انجمن‘‘ کو ہندوستانی سنیما میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ فلم میں مرکزی اداکارہ شبانہ اعظمی نے خیام کی موسیقی پر پلے بیک گانے گائے، جن کے بول شہریار اور فیض احمد فیض نے تحریر کئے۔ فلم لکھنؤ کی چکن کاری دستکاری سے وابستہ خواتین کی زندگیوں کو نہایت حساس انداز میں پیش کرتی ہے اور ان کاریگروں کو درپیش سماجی و اقتصادی چیلنجز کو اجاگر کرتی ہے، جو اپنی مہارت کے باوجود مشکلات کا سامنا کرتی ہیں۔