• Tue, 10 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نادرہ بالی ووڈ کی بےخوف اور خودمختار کرداروں کی علامت تھیں

Updated: February 10, 2026, 10:03 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai

ہندوستانی فلمی تاریخ میں کچھ نام ایسےہیں جو فلموں کی تعداد سے نہیں، بلکہ اپنے اندازسےپہچانے جاتے ہیں۔ اداکارہ نادرہ بھی اسی قبیلے کی فنکارہ تھیں۔ان کا اصل نام فلورنس ایزیکیئل تھا۔۵؍ دسمبر۱۹۳۲ء کوعراق کے شہر بغداد میں پیدا ہوئیں۔

After The Song `Mud Mud Ke Na Dekh`, Nadira Never Looked Back.Photo:INN
گیت’مڑ مڑ کے نہ دیکھ‘ کے بعد نادرہ نے کبھی مڑ کر نہیں دیکھا۔ تصویر:آئی این این

ہندوستانی فلمی تاریخ میں کچھ نام ایسےہیں جو فلموں کی تعداد  سے نہیں، بلکہ اپنے اندازسےپہچانے جاتے ہیں۔ اداکارہ نادرہ بھی اسی قبیلے کی فنکارہ تھیں۔ان کا اصل نام فلورنس ایزیکیئل تھا۔۵؍ دسمبر۱۹۳۲ء کوعراق کے شہر بغداد میں پیدا ہوئیں، مگر ان کی شناخت، ان کا مقدر اور ان کی شہرت ہندوستانی سینما کے نام لکھی گئی۔ان کا تعلق یہودی خاندان سےتھا۔بچپن ہی سے نادرہ کے لہجے، اندازِ گفتگو اور آنکھوںکی تیزی میں ایک الگ طرح کااعتماد جھلکتا تھا، جو آگے چل کر ان کے فلمی کرداروں کی بنیاد بنا۔
نادرہ نے فلمی دنیا میں قدم ایسے وقت رکھا جب ہیروئن کا تصور معصوم، خاموش اور قربانی دینے والی عورت تک محدود تھا۔ نادرہ نے اس دائرے کو توڑا۔انہوں نے پہلی ہی بڑی کامیابی راج کپور کی فلم ’شری ۴۲۰؍‘ (۱۹۵۵ء)میں مایا کے کردار سے حاصل کی۔ یہ کردار صرف ایک منفی عورت نہیں تھا بلکہ لالچ، خود غرضی اور جدید شہری زندگی کی علامت تھا۔ نادرہ کی تیز آواز، طنزیہ مسکراہٹ اور خود اعتمادی سے بھراہوا انداز اس قدر مؤثر ثابت ہوا کہ مایا کا کردار ہندوستانی سنیما کے کلاسک کرداروں میں شامل ہو گیا۔

یہ بھی پڑھئے:فرحان اختر فی الحال ’’ڈان ۳‘‘ نہیں بنائیں گے، توجہ ’’جی لے ذرا‘‘ پر مرکوز

اس کے بعد نادرہ گویا منفی نسوانی کرداروں کی پہچان بن گئیں۔ ’پاکیزہ‘، ’دل اپنااور پریت پرائی‘، ’اناڑی‘، ’ہمراز‘، ’جوہری‘، ’راجہ جانی‘ اور ’آنکھیں‘ جیسی فلموںمیں انہوں نے کبھی خود غرض ساس، کبھی مغرور عورت، کبھی سازشی کردار ادا کیا، مگر ہر بار ایک ہی بات ثابت کی کہ ولن ہونا بھی ایک فن ہے، اور نادرہ اس فن کی ماہر تھیں۔

یہ بھی پڑھئے:’’بسوا شرما جب بولتے ہیں تو کچھ لوگ خوف کے باعث چھپ کر تو کچھ کھل کر ہنستے ہیں‘‘

ان کی اداکاری کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ چیخ و پکار یا مبالغےکے بغیر کردار میں زہر گھول دیتی تھیں۔ان کی آنکھوں کی سختی، مکالموں کی ادائیگی اور باڈی لینگویج ایسی ہوتی کہ ناظر فوراً سمجھ جاتا کہ یہ عورت کہانی میں طوفان لانےوالی ہے۔ وہ منفی کردار کو کارٹون نہیںبناتیں، بلکہ اسے حقیقت کے قریب لے آتی تھیں۔ ۶۰ء اور ۷۰ء کی دہائی میں جب فلمی دنیا میں نئے چہرے آئے اور رجحانات بدلے، نادرہ کا اسکرین ٹائم کم ضرور ہوا،مگر ان کی موجودگی کی دھاک قائم رہی۔ بعد کے برسوں میں انہوں نے ماں اور بزرگ عورت کےکردار بھی ادا کیے، مگر ان میں بھی وہی وقار اور مضبوطی جھلکتی رہی جو ان کے ابتدائی کرداروں کا خاصہ تھی۔ذاتی زندگی کے حوالے سے نادرہ ہمیشہ نجی رہیں۔ انہوں نے فلمی دنیا کی چکاچوند سے فاصلے پر ایک خاموش زندگی کو ترجیح دی۔ شاید اسی لیے وہ اسکرین پر جتنی تیز اور سخت نظر آتی تھیں، اصل زندگی میں اتنی ہی سنجیدہ اور باوقار سمجھی جاتی تھیں۔ نادرہ کا انتقال۹؍فروری ۲۰۰۶ءمیں ہوا، مگر ان کا فن آج بھی زندہ ہے۔ جب بھی ہندوستانی سنیما میں کسی مضبوط، بے خوف اور خود مختار منفی عورت کا ذکر آتا ہے، نادرہ کا نام خود بخود زبان پر آ جاتا ہے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ عورت صرف رونے یا سہنے کے لیے نہیں، بلکہ کہانی کو موڑ دینے کے لیے بھی ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK