امریکہ کی امیگریشن عدالت نے فلسطین حامی طالبہ رومیسا اوزترک کی جلاوطنی کا مقدمہ خارج کردیا، گزشتہ سال بوسٹن میں ان کے اغوا، اور گرفتاری کے بعد جلا وطن کرنے کی تمام کوششوں کو جج نے مسترد کردیا۔
EPAPER
Updated: February 10, 2026, 5:07 PM IST | Washington
امریکہ کی امیگریشن عدالت نے فلسطین حامی طالبہ رومیسا اوزترک کی جلاوطنی کا مقدمہ خارج کردیا، گزشتہ سال بوسٹن میں ان کے اغوا، اور گرفتاری کے بعد جلا وطن کرنے کی تمام کوششوں کو جج نے مسترد کردیا۔
ایک امیگریشن جج نے ٹفٹس یونیورسٹی کی پی ایچ ڈی طالبہ رومیسا اوزترک کو ملک بدر کرنے کی ٹرمپ انتظامیہ کی کوشش کو مسترد کردیا ہے، جسے گزشتہ سال کیمپس میں فلسطین نواز سرگرمیوںکےخلاف کارروائی کے دوران اغوا کیا گیا اور پھر گرفتار کیا گیا تھا۔ترکی کی اس طالبہ کے وکلاء نے اس فیصلے کی تفصیلات پیر کو نیویارک میں واقع دوم امریکی سرکٹ کورٹ آف اپیلز میں جمع کرائی ہیں، جو اس سے قبل کے اس فیصلے کا جائزہ لے رہی تھی جس کے نتیجے میں اسے مئی میں امیگریشن کی حراست سے رہائی ملی تھی۔داخل کردہ دستاویزات کے مطابق، ایک امیگریشن جج نے۲۹؍ جنوری کو فیصلہ دیا کہ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی اوزترک کو ملک بدر کیے جانےکی ٹھوس وجوہات پیش کرنے میں ناکام رہا ہے اور اس کے خلاف چلنے والے مقدمے کو ختم کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی اسرائیلی فیصلے کی مخالفت، برطانیہ کا بھی فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ
یہ فیصلہ بوسٹن میں امیگریشن جج روپل پٹیل نے جاری کیا۔اس فیصلے نے، فی الحال، اس مقدمے کا خاتمہ کر دیا ہے جو اوزترک کی مارچ میں میساچوسٹس کی ایک سڑک پر امیگریشن حکام کی جانب سے گرفتاری سے شروع ہوا تھا، بعد ازاں امریکی محکمہ خارجہ نے اس کا اسٹوڈنٹ ویزا منسوخ کر دیا تھا۔حکام کا کہنا تھا کہ ویزا منسوخ کرنے کی واحد بنیاد ایک سال قبل ٹفٹس کے طلبہ اخبار میں شائع ہونے والا ایک اداریہ تھا جس میں رومیسا نے غزہ میں اسرائیلی نسل کشی پر یونیورسٹی کے رد عمل پر تنقید کی تھی۔اوزترک نے ایک بیان میں کہا، ’’آج، میں نے راحت کا سانس لیا ہے یہ جان کر کہ اگرچہ انصاف کا نظام ناکام رہا، میرا کیس ان لوگوں کو امید دے سکتا ہے جن کے ساتھ امریکی حکومت نے بھی ناانصافی کی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: آسٹریلیا میں اسرائیلی صدر کے دورے کے خلاف مظاہرہ
دریں اثناء امیگریشن جج کا فیصلہ عوامی طور پر جاری نہیں کیا گیا ہے، اور انتظامیہ اب بھی امیگریشن اپیلز بورڈ کے سامنے اسے چیلنج کر سکتی ہے، جو امریکی محکمہ انصاف کے تحت آتا ہے۔محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی، جو امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کی نگرانی کرتا ہے، نے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔ اوزترک، جو ایک چائلڈ ڈویلپمنٹ محقق اور سابقہ فُل برائٹ اسکالر ہیں، کو لوئیزیانا کی ایک حراستی سہولت میں۴۵؍ دن تک رکھا گیا تھا۔بوسٹن کے مضافاتی علاقے سمرویل میں ان کی گرفتاری کا ویڈیو کیمرے میں قید ہوگیا، جو بعد میں وائرل ہوگیا۔ جسے شہری حقوق کے گروپوں کی طرف سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ تاہم اوزترک کے ذریعے یہ دعویٰ پیش کیا گیا کہ حکومت نے اس کی آزادئ اظہار کے حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی انتقام کے تحت اسے گرفتار کیا تھا ،جس کےبعد ورمونٹ کے ایک وفاقی جج نے ان کی فوری رہائی کا حکم دیا۔