Inquilab Logo Happiest Places to Work

دھرندھر۲:تشدد زیادہ،خونریزی زیادہ اور پروپیگنڈا اس سے زیادہ

Updated: March 25, 2026, 8:06 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai

آدتیہ دھر اپنے خصوصی مشن کے تحت حقائق کی پراہ کئے بغیرمار دھاڑ دکھا کر ناظرین کو سنیما گھروں تک لانا چاہتے ہیں،یہ فلم وقت اور پیسے کا زیاں ہے۔

Ranveer Singh can be seen in a scene from the film `Dharandhar The Revenge`. Photo: INN
فلم’دھرندھر دی ریوینج‘کےایک منظر میںرنویر سنگھ کودیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

دھرندھر: دی ریوینج (Dhurandhar The Revenge)
اسٹارکاسٹ:رنویر سنگھ، سنجے دت، ارجن رامپال، مادھون، سارہ ارجن،راکیش بیدی، مانو گوہل، گورو گیرا، دانش پانڈر
ڈائریکٹر اور رائٹر:آدتیہ دھر
پروڈیوسر:آدتیہ دھر، لوکیش دھر، جیوتی دیشپانڈے
موسیقی:شاسوت سچدیو
سنیماٹو گرافر:وکاش نولکھا،کمارا سوامی
ایڈیٹر:شیوکمار پنیکر
پروڈکشن ڈیزائنر:سینی جوہری
آرٹ ڈائریکٹر:یوگیش بنسوڑے،کرن سنگھ،نیلیش چودھری
ریٹنگ:**

’’اب پاکستان کا مستقبل طے کرے گا ہندوستان‘‘یہ ایک جملہ ہی فلم’دھرندھر۲‘کی پوری کہانی اور اس کے مزاج کوواضح کرنے کیلئے کافی ہے۔ہدایت کار آدتیہ دھرکی اس بلند بانگ دعووں والی فلم میںدکھایا گیا ہےکہ ہندوستانی خفیہ ایجنسی، جس کی قیادت اجے سانیال (آر مادھون)کر رہے ہیں، پاکستان کی تقدیر کے فیصلے کرتی ہے اور یہ سب کچھ ان کے قابلِ اعتماد جاسوس جسکیرت سنگھ رنگی عرف حمزہ علی مزاری کے ذریعے ہوتا ہے۔دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنے سے لےکر پاکستان کے قومی انتخابات میں جیتنے والی طاقت کا تعین کرنے تک، حمزہ (رنویر سنگھ) جو رحمان ڈکیت(اکشے کھنہ)کی موت کے بعد لیاری کی باگ ڈور سنبھال چکا ہے، ہر فیصلے کا محور بن چکا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: صوبیدار: انل کپور کو بطور’اینگری اولڈ مین‘ پیش کرنے والی فلم

فلم کی کہانی

دھرندھر کے دوسرے حصے کی کہانی کا آغاز۲۰۰۲ء کے ایک فلیش بیک سے ہوتا ہے۔م حمزہ کے ماضی میں جھانکتے ہیں، جب وہ جسکیرت کے نام سے پنجاب کا ایک نوجوان تھا اور فوج میں شامل ہونےکا خواب دیکھ رہا تھا۔ مگر جب اس کا خاندان گاؤں کی سیاست کا شکار بنتا ہے تو وہ تشدد کا راستہ اختیار کرتا ہے اور سانیال کی نظر میں آ جاتاہے، جو’آپریشن دھرندھر‘کیلئے جاسوس بھرتی کر رہے ہوتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم سیاسی مخالفین پر طنز تو کرتی ہے، مگر یہ بتانے سے گریز کرتی ہے کہ۲۰۰۲ءمیں پنجاب میں اقتدار کس کے پاس تھا،یعنی شرو منی اکالی دل اور بی جے پی کا اتحاد، جو بالواسطہ اس تباہی کا ذمہ دار تھا۔ یہ دوہرا معیار پوری فلم میں نظر آتا ہے۔

فلم میں دقیانوسی تصورات کو تقویت دی گئی ہے،مسلمانوں کو ہجوم کی شکل میں ایک سکھ کو جلا دینے والا دکھایا گیا ہے، پاکستانی آئی ایس آئی چیف ہندوؤں کو زبردستی کلمہ پڑھوانے اور عورتوں کو بیچنے کی دھمکیاںدیتا ہے، اور ایک بدعنوان ہندوستانی مسلم گینگسٹر کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ خالصتان تحریک کو بھی کہانی میں شامل کر لیا گیا ہے۔ایک موقع پر تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہر مسئلے کا الزام کسی نہ کسی عالمی سازش پر ڈال دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: بونگ: ایک بچے کی نظر سے سماجی اور معاشرتی مسائل کی بہترین عکاسی

فلم میں ایک پورا باب نوٹ بندی کے دفاع میں پیش کیا گیا ہے، جہاںنریندر مودی کی تقریر کے مناظر کے ساتھ جعلی کرنسی جلانےکا منظر دکھایا جاتاہے۔حالانکہ سرکاری اعداد و شمار کچھ اور ہی کہانی بیان کرتے ہیں۔اسی طرح اتر پردیش کی سیاست کو بھی کہانی میںشامل کیا گیا ہے، جہاں اشاروں کنایوں میں بتایا جاتا ہے کہ جعلی نوٹوںکے ذریعے انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جا رہی تھی، جسے نوٹ بندی نے ناکام بنا دیا اور ایک ’ایماندار حکومت‘کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔فلم میں دائود ابراہیم کاکردار بھی شامل ہے، مگر اس کا انجام اتنا متاثر کن نہیں جتنا ماضی کی فلموں میں دکھایا گیا تھا۔

ہدایت کاری

اگر تکنیکی لحاظ سے بھی فلم مضبوط ہوتی تو شاید یہ سب کچھ برداشت کیاجاسکتا تھا، مگر یہاں بھی مایوسی ہاتھ آتی ہے۔ کہانی اتفاقات پرکھڑی ہے، وی ایف ایکس کمزور ہے، اور بیک گراؤنڈ میوزک ’ جو پہلی فلم کی جان تھا‘ اس بار بے اثر محسوس ہوتا ہے۔

ایکشن غیر ضروری حد تک خونی ہے، اور بعض اوقات ایسا لگتا ہےکہ فلم ساز اس تشدد سے ایک عجیب سی لذت حاصل کر رہے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ناظرین اس پر تالیاں بجاتے ہیں،جسم کے ٹکڑے اڑنے پر خوشی کا اظہار، اور مخصوص کرداروں کی تضحیک پر قہقہے۔سینما ہال سے نکلتے وقت بس یہی خیال ذہن میں ابھرتا ہے، جیسا کہ ستیہ جیت رےنے کبھی کہا تھا کہ ہمارے ناظرین کی پسند اب بھی پسماندہ ہے اور شاید اسی لیے ایسی فلمیں بنتی ہیں، چلتی ہیں، اور باکس آفس پر کامیابی سمیٹتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: دو دیوانے سہرمیں: اپنی اور دوسروں کی کمزوریوں کو سمجھنے کی کہانی

کیوں دیکھیں؟

فلم میںتشدد زیادہ ہے، خونریزی زیادہ ہے، اور پروپیگنڈا اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔لیکن اس میں وہ نفاست اور باریکی نہیں جو پہلی فلم دھرندھرمیں کسی حد تک موجود تھی۔ایسے میں عید کے مقدس موقع پر ایسی فلم پر پیسہ اور وقت برباد کرنا کسی بھی طرح دانشمندی محسوس نہیں ہوتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK