Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوپی ایس سی میں امسال مسلم نمائندگی کا تناسب قدرے بہتر رہا

Updated: March 11, 2026, 12:37 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

یوپی ایس سی -سی ایس ای۲۰۲۵ء میں ۹۵۸؍ امیدوارسول سروسیز کیلئے کوالیفائی ہوئے ہیں جن میں۵۸؍مسلم امیدوارشامل ہیں۔

Chennai Resident A Raja Mohiuddin, Who Topped The Muslim Candidates, Has An All India Rank Of 7.Photo:INN
چنئی کے رہنے والے اے راجا محی الدین جو مسلم امیدواروں میں ٹاپ پر رہے، ان کاآل انڈیا رینک ۷؍ ہے ۔تصویر:آئی این این
یونین پبلک سروس کمیشن نے ۶؍مارچ ۲۰۲۶ء کو سول سروس امتحان ۲۰۲۵ء کے فائنل امتحانات کے نتائج ظاہر کئے۔اس بار۱۰۸۷؍ اسامیوںکو پُر کرنے کیلئے یہ امتحان لیا گیا تھا۔جس کے ذریعہ اس بار ۹۵۸؍  امیدوار کوالیفائی ہوئے ہیں۔ جن میں مسلم امیدواروں کی اندازاً تعداد ۵۸؍ بتائی جارہی ہے۔ پچھلے دس برس کے اعدادوشمار سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ چونکہ یوپی ایس سی مذہب کی بنیاد پر امیدواروں کی شناخت ظاہر نہیں کرتا، اس لئے امیدواروں کی یہ تعداد ناموں سے اندازہ لگاکر بتائی جارہی ہے۔ اس میں کمی و بیشی ممکن ہے۔
امسال کامیاب امیدواروں کی تعداد زیادہ لیکن آبادی کے لحاظ سے 
مسلم امیدواروں کی حصہ داری کا تناسب کم 
یو پی ایس سی -سی ایس ای ۲۰۲۵ءکے نتائج کے مطابق ۹۵۸؍ کامیاب امیدواروں میں سے۵۸؍ مسلم امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ امسال ۴؍مسلم امیدوار اے آر رضا محی الدین (رینک۷)، افرا شمس انصاری (رینک۲۴) اور نبیہ پرویز (رینک۲۹) نے ٹاپ ۵۰؍ میں جگہ بنائی ہے۔۵۸؍ مسلم امیدواروں میں تقریباً ۱۷؍ خواتین امیدوار ہیں۔ آئیے پچھلے دس برسوں کے اعداد و شمار پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
خیال رہے کہ پچھلے سال۲۰۲۴ء کے نتائج میں ٹاپ۳۰؍ میں ایک بھی مسلم امیدوار شامل نہیں تھا، جبکہ اس بارٹاپ ۳۰؍ میں ۳؍ مسلم امیدواروں نے جگہ بنائی ہے۔ یو پی ایس سی مسلم اقلیتی امیدواروں کا الگ سرکاری ڈیٹا جاری نہیں کرتا ہے ، تاہم  سوشل میڈیا اور میڈیا پر مستند ذرائع کے حوالے سے مرتب کردہ معلومات کے مطابق۵۸؍ مسلم امیدوار کامیاب ہوئے جن میں۱۷؍ سے زائد خواتین امیدوار بھی شامل ہیں۔
یوپی ایس سی میں پچھلے ۱۰؍ برسوں میں مسلم نمائندگی کا تناسب یہ ہے
۱۰؍برسوں کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق یو پی ایس سی سول سروس امتحان میں کامیاب مسلم امیدواروں کا تناسب عموماً۳؍ سے ۶؍ فیصد کے درمیان رہا ہے۔
۲۰۱۶ء: ۱۰۹۹؍امیدواروں میں ۵۲؍ مسلم امیدوار(۴ء۷۳؍فیصد)
۲۰۱۷ء: ۹۸۰؍ میں ۵۰؍مسلم امیدوار(۵ء۱؍فیصد )
۲۰۱۸ء: ۷۵۹؍میں ۲۸؍مسلم امیدوار(۳ء۵۸؍فیصد)
۲۰۱۹ء: ۸۲۹؍میں ۴۴؍مسلم امیدوار(۵ء۳؍فیصد)
۲۰۲۰ء : ۷۶۱؍ میں ۳۱؍ مسلم امیدوار(۴ء۰۷؍فیصد)
۲۰۲۱ء: ۶۸۵؍ میں ۲۵؍ مسلم امیدوار(۳ء۶۴؍فیصد)
۲۰۲۲ء: ۹۳۳؍ میں ۲۹؍مسلم امیدوار (۳ء۱؍فیصد)
۲۰۲۳ء : ۱۰۱۶؍ میں ۵۰؍ مسلم امیدوار(۴ء۹؍فیصد)
۲۰۲۴ء: ۱۰۰۹؍میں ۳۰؍مسلم امیدوار (۲ء۹۷؍فیصد)
۲۰۲۵ء: ۹۵۸؍ میں ۵۸؍مسلم امیدوار(۶ء۰۵؍فیصد)
 
 
ان اعداد و شمار کے مطابق یو پی ایس سی سول سروس امتحان میں کامیاب مسلم امیدواروں کا تناسب عموماً ایک ہندسے میں ہی رہا ہے اور زیادہ تر۲؍ سے ۶؍فیصد کے اندر رہا ہے۔ تاہم آبادی کے تناسب کے لحاظ سے مسلم امیدواروں کی نمائندگی کے تناسب  میں کمی پر وقتاً فوقتاً سوالات اٹھتے رہے ہیں۔یہ بھی افسوسناک بات ہے کہ اس کمی کے باوجود ادھر کے کچھ برسوں میں بعض دائیں بازو کی تنظیمیں مسلم امیدواروں کی کامیابی کو متنازع انداز میں بھی پیش کرتی رہی ہیں۔اچھی بات یہ ہے کہ مسلم سماج میں مقابلہ جاتی امتحانات کے تئیں جوش وبیداری آئی ہے۔ کئی ادارے و تنظیمیں ہونہار اور ذہین طلبہ کی رہنمائی و کوچنگ کا کام کررہے ہیں۔ اس حوالے سے مزید محنت کی جائے تو یقیناً صورتحال بہتر ہوگی ۔
 
 
’’یو پی ایس سی کی جانب سے منعقدہ سول سروس امتحان۲۰۲۵ء کے تحت اس بار۱۰۸۷؍ اسامیوں کو پُر کرنے کیلئے درخواستیں طلب کی گئی تھیں۔ ان میںآئی اے ایس کیلئے ۱۸۰؍ سیٹیں، آئی ایف ایس کیلئے ۵۵؍سیٹیں، آئی پی ایس کیلئے ۱۵۰؍سیٹیں، اس کے علاوہ گروپ اے کی مرکزی خدمات کیلئے ۵۰۷؍ اورگروپ بی  خدمات کیلئے۱۹۵؍ اسامیاں شامل تھیں۔ ان تمام عہدوں پر تقرری یو پی ایس سی سول سروس امتحان کے ذریعے کی جاتی ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK