ایران نے امریکہ کے ۹؍ نکاتی منصوبے کے جواب میں اپنی جانب سے تجاویز پیش کی ہیں، جن میں کچھ سخت ہیں تو کچھ نرم۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی۔ تصویر:آئی این این
ایرانی میڈیا کے مطابق تہران نے واشنگٹن کے ۹؍ نکاتی منصوبے کے جواب میں نئی امن تجویز پیش کی ہے، جس میں بنیادی طور پر ۲؍ ماہ کی جنگ بندی کی تجویز شامل تھی۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ صرف جنگ بندی کو طول دینے کی بجائے جنگ کے مکمل خاتمے پر توجہ دینا چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ تمام مسائل ۳۰؍ دن کے اندر حل کر لئے جائیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے کہ وہ سفارتکاری کا راستہ اختیار کرتا ہے یا پھر تصادم کا ۔
ایران کی نئی تجویز میں شامل نکات
ایران نے جو تجویز پیش کی ہے اس میں کہا ہے کہ وہ عارضی جنگ بندی نہیں بلکہ ۳۰؍ دن میں جنگ کا مکمل خاتمہ چاہتا ہے، مستقبل میں کسی بھی حملے کے خلاف ضمانت، ایران کے گرد تعینات امریکی افواج کا انخلا، منجمد کئے گئے اربوں ڈالر کے ایرانی اثاثوں کی واپسی، ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ، جنگی نقصانات کی ادائیگی، تمام دشمنی کا خاتمہ، بشمول لبنان میں تنازعات سمندری حدود کی ناکہ بندی کا خاتمہ چاہتا ہے۔ ساتھ ہی آبنائے ہرمز کیلئے ایک نیا کنٹرول نظام چاہتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یورینیم افزودگی کو بعد میں زیر بحث لایا جائے۔
ایران، جس پر گزشتہ جون میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملے کئے گئے تھے، مستقبل میں کسی بھی جارحیت کے خلاف باضابطہ ضمانت چاہتا ہے۔ اسرائیل پہلے بھی ایرانی جوہری سائنس دانوں کو نشانہ بنا چکا ہے اور ایرانی جوہری تنصیبات کو سبوتاژ کرنے کی مہمات چلاتا آیاہے۔تہران کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ بطور نیوکلیئر عدم پھیلاؤ معاہدے (این پی ٹی) کے دستخط کنندہ ملک اسے یورینیم افزودگی کا حق حاصل رہے، تاہم امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جوہری معاملے کو ریڈ لائن قرار دیا ہے۔ ایران چاہتا ہے کہ دہائیوں پرانی پابندیاں، جنھوں نے اس کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، ایک معاہدے کے تحت ختم کی جائیں۔ آبنائے ہرمز میں آمد و رفت اور جنگی نقصانات کا مطالبہ بھی مذاکرات میں اہم اختلافی نکات ہیں۔ ایرانی سرکاری چینل کے مطابق نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے تجویز پیش کرنے کے بعد کہا’’ اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے کہ وہ سفارت کاری کا راستہ اختیار کرتا ہے یا تصادم کے راستے کو جاری رکھتا ہے۔‘‘ جارج ٹاؤن یونیورسٹی قطر میں حکومت کے ایسوسی ایٹ پروفیسر پال مسگریو کے مطابق ایران نے اپنی تجویز میں کچھ نرمی دکھائی ہے لیکن امریکہ کیلئے زیادہ سے زیادہ مطالبات سے دستبردار ہونا مشکل ہو رہا ہے۔ اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ یہ معاملہ کون سی کروٹ لیتا ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ ۲۵؍ دنوں سے جنگ بندی جاری ہے۔