Inquilab Logo Happiest Places to Work

اعتکاف

Updated: March 08, 2026, 12:16 PM IST | Abdul Majid Daryabadi | Mumbai

کبھی کبھی تو بندہ بے حجاب و بے واسطہ اپنی حضوری اس بڑے دربار میں محسوس کرے جہاں پرسش صرف خلوص و راستی کی ہوتی ہے۔

The meaning of sitting in the mosque is that the servant has severed his ties with all sides and is connected only with his Creator. Photo: INN
مسجد میں بیٹھ جانے کے معنی ہی یہ ہیں کہ بندے نے اپنے تعلقات سب طرف سے توڑ کر صرف اپنے خالق سے جوڑ رکھے ہیں ۔ تصویر: آئی این این

انسان نہ محض جسم و مادہ ہے اور نہ صرف جان و روح بلکہ دونوں کے ایک مرتب مجموعے کا نام ہے۔ جس طرح جسم و مادہ کا ایک عالم ہے اور اس کی صحت و مرض کے خاص قوانین ہیں، ٹھیک اسی طرح ایک مستقل عالم جان و روح کا ہے اور روح کی صحت و مرض، ضعف و قوت، بالیدگی و پژمردگی، ترقی و تنزلی کے لئے بھی کچھ خاص قواعد اور ضابطے مقرر ہیں۔ شریعت اسلامی ان دونوں عالموں کے متعلق ضروری ہدایتوں کی جامع ہے۔
جسم کو ہلاک کر دینا انسان کے لئے خدا کی مرضی نہیں البتہ جسم کو روح کا ماتحت و مطیع رکھنا عین منشائے خداوندی ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ وغیرہ تمام عبادتوں سے مقصود صرف اسی قدر ہے کہ روح کی لطافتِ طبیعی قائم رہے اور مادہ کی کثافتیں اس کی اصلی سرشت پر غالب نہ آنے پائیں کہ یہی راہِ عبدیت، یہی طریق معرفت اور یہی مسلک خود شناسی  ہے۔ روح کا انتہائی کمال یہ ہے کہ جسم سے الگ اور مجرد ہو کر نہیں بلکہ جسم کے ساتھ مراتب ِترقی طے کرے۔ ٹھیک اسی طرح یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ روح کی رفتارِ ترقی میں سب سے زیادہ رکاوٹیں بھی جسم ہی پیدا کرتا رہتا ہے۔ غصہ، کینہ، حسد، حرص وغیرہ جسم ہی کی ترکیب کا نتیجہ ہیں اور یہی  چیزیں  روح کے ضعف، کمزوری و پژمردگی کا باعث ہوتی ہیں، اور اس کی طبیعی پاکیزگی و صفائی کو گدلا کرتی رہتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۱۷): سوچ بدلو، حالت خود بخود بدل جائے گی

روح کی صحت و پاکیزگی و بالیدگی برقرار رکھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ جسم کو ہلاک کئے بغیر کبھی کبھی مادی دنیا کے تعلقات کو کمی کے انتہائی نقطے پر پہنچا دیا جایا کرے۔ شریعت کی بولی میں اس صورتِ پرہیز کا نام ’’روزہ‘‘ ہے۔ اس ’’پرہیز‘‘  کی شرائط جب ذرا زیادہ سخت کر دی جاتی ہیں تو اس کا نام ’’اعتکاف‘‘پڑ جاتا ہے۔ اعتکاف کا  لفظی معنی کسی مکان کے اندر اپنے تئیں مقید ہوجانے کا ہے۔ اصطلاح شریعت میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان عبادت کی غرض سے مسجد میں قیام و سکونت کو لازم قرار دے لے۔
مسجد اس مکان کو کہتے ہیں جو محض یاد الٰہی و عبادت خداوندی کے لئے مخصوص ہو۔ اس میں بیٹھ جانے کے معنی ہی یہ ہیں کہ بندے نے اپنے تعلقات سب طرف سے توڑ کر صرف اپنے خالق سے جوڑ رکھے ہیں اور جس وقت تک وہ اس زاویہ نشینی کی حالت میں ہے وہ نہ کسی کا دوست ہے نہ عزیز، نہ حاکم ہے نہ محکوم، نہ بھائی ہے نہ شوہر، نہ رفیق ہے نہ رقیب، بلکہ بندہ ہے اور محض بندہ۔ عورت کی خواہش کرنا اس کے لئے ممنوع، غیر ضروری گفتگو اس کے لئے ناجائز، کھانا پینا صرف اسی حد تک جائز جو جسم کو ہلاک ہونے سے محفوظ رکھ سکے۔ دوران اعتکاف بندہ گویا اپنے تصور میں ہر وقت دربارِ خداوندی میں حاضر رہتا ہے۔ اسی لئے ہر وہ شے جو اس دربار کے منافی ہے، اس کے لئے ناجائز ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فتاوے: کمیشن پہ چندہ، زکوٰۃ کا ایک مسئلہ، مستحق کا قرض ادا کرنا

چراغ اسی وقت روشن ہوسکتا ہے جب اس میں تیل موجود ہو، انجن جب ہی حرکت کرسکتا ہے جب اس میں برقی یا دخانی قوت کا ذخیرہ موجود ہو، جسم کی زندگی جب ہی قائم رہ سکتی ہے جب اسے غذا پہنچتی رہے۔ روح کی زندگی بھی جب ہی قائم و برقرار رہ سکتی ہے جب اسے اپنے مزاج و سرشت کے مطابق غذا ملتی رہے۔ اور روح کی غذا یہی ہے کہ کبھی کبھی اسے مادی کثافتوں کے ماحول سے دُور رکھ کر اس کی فطری لطافت کو اُبھرنے اور طبیعی پاکیزگی و شرافت کو چمکنے کا پورا موقع دیا جائے۔
دنیا کا سب سے بہتر و برتر انسان علیہ الصلوٰۃ والسلام،خلوت و  جلوت دونوں کے آئین و انداز کا پورا رمز شناس تھا۔ ماہ رمضان کے آخر عشرے میں اعتکاف عادتِ شریف میں داخل تھا۔ ماہِ صیام سارے کا سارا عبادت و ذکر الٰہی میں گزرتا تھا۔ لیکن آخر کے ۱۰؍ دن میں آتشِ شوق اور زیادہ تیز ہو جاتی تھی۔ ازواج و اصحاب سے بے تعلق ہو کر یہ پورا عشرہ مسجد ہی کی چار دیواری کے اندر گزرتا تھا اور بندے کو اپنے معبود کے ساتھ خلوت نشینی کے سارے لطف حاصل ہوتے تھے۔
ہماری آج ایک بڑی شامت یہ ہے کہ ہم اپنے تئیں ’’جنگ بدر‘‘شروع کرنے کے لئے آمادہ پاتے ہیں لیکن نہیں سوچتے کہ جنگ بدر سے بہت پیش تر ایک منزل ’’غارحرا‘‘کی بھی طے ہو چکی تھی۔ واقعات میں ترتیب قائم رکھنا یہ بھی بجائے خود ایک بہت اہم شے ہے۔ کسی واقعے کے اجزا سب وہی رہیں،لیکن اگر اجزا کی ترتیب الٹ دی جائے تو وہ واقعہ سچ سے جھوٹ میں تبدیل ہو جاتا ہے چہ جائیکہ بعض اجزا کو سرے سے نظرانداز کر دینا!
آج ہم میں انجمنوں کی کمی نہیں، کانفرنسوں کا قحط نہیں، جلسوں کی سردبازاری نہیں لیکن اس  ذوقِ انجمن آرائی و جلسہ سازی کے ساتھ کتنے ایسے ہیں جو اپنے اُمّی ہادیؐ کی پیروی میں رمضان المبارک کو اس کی شرائط کے ساتھ گزارنا اور پھر اعتکاف کرنا ضروری سمجھتے ہیں؟ کیا رسولؐ خدا کا یہ فعل عبث اور لاحاصل ہوتا تھا؟ کیا اس کی ضرورت آپؐ کو تھی؟ مگر ہمارے تہذیب یافتہ دل اور تعلیم یافتہ دماغ اس سے بے نیاز ہیں؟ کیا ہم نے کبھی اس عارضی زاویہ نشینی کا تجربہ کر کے دیکھا ہے،اور یہ تجربہ ناکام و لاحاصل رہا ہے؟
حاشا یہ مقصود نہیں کہ ساری قوم اجتماعی زندگی کو چھوڑ کر اپنے اپنے زاویوں کے اندر ہمیشہ کے لئے بیٹھ رہے لیکن یہ گزارش ضرور ہے کہ دوسروں کی اصلاح و ہدایت سے اپنی اصلاح و ہدایت ترتیباً مقدم ہے، اور اپنی اصلا ح کا ایک اہم ذریعہ یہ ہے کہ ہم اپنے مقدس ہادیؐ کے طریقے کے موافق کبھی کبھی ذرا دنیا کی کشمکش سے کنارہ کش ہو کر خود اپنے نفس کا جائزہ لینے، اپنے اعمال کا احتساب کرنے اور دنیا کے پاک و بے نیاز  خالق کے حضور میں اپنی کمزوریوں اور خطائوں کا اعتراف کرنے، اور آئندہ کیلئے اس کی توفیق طلب کرنے میں کچھ وقت صرف کیا کریں۔

یہ بھی پڑھئے: غزوۂ بدر تاریخی واقعہ ہی نہیں، حق و باطل کی پہچان کا معیار بھی ہے

چراغ پانی سے نہیںتیل سے روشن رہتا ہے۔ ہمارے اندر اگر روحانی صفائی و پاکیزگی کا تیل ختم ہوچکا ہے اور اس کی جگہ نمائش، نفسانیت و جاہ پسندی کے پانی نے لے لی ہے  تو کیونکر ہم سے ہدایت کی روشنی پیدا ہو سکتی ہے؟ ہر فرد سے پہلے سوال خود اس کی ذاتی زندگی کے متعلق ہوگا۔ یہ زندگی کانفرنسوں اور مجموعوں کی خود نمائیوں کے اندر نہیں سنورتی، اس کے سدھارنے اور سنوارنے کیلئے ضروری ہے کہ کبھی کبھی تو بندہ بے حجاب و بے واسطہ اپنی حضوری اس بڑے دربار میں محسوس کرے جہاں پرسش صرف خلوص و راستی کی ہوتی ہے۔ بحث و گفتگو یا مناظرہ و تردید کی حاجت نہیں۔ صرف تجربے کی ضرورت ہے۔ ان شاء اللہ ہرحال میں اعتکاف کا تجربہ مفید ہی نتائج پیدا کرے گا!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK