جاری مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ملک کی جی ڈی پی کا ۸ء۷؍ فیصد ہونا ظاہر کرتا ہے کہ قومی معیشت اُس تناور پیڑ کی طرح ہے جو تند و تیز ہوا بلکہ آندھی میں بھی خود کو سنبھالے رکھتا ہے۔
EPAPER
Updated: September 02, 2026, 2:16 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
جاری مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ملک کی جی ڈی پی کا ۸ء۷؍ فیصد ہونا ظاہر کرتا ہے کہ قومی معیشت اُس تناور پیڑ کی طرح ہے جو تند و تیز ہوا بلکہ آندھی میں بھی خود کو سنبھالے رکھتا ہے۔
جاری مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ملک کی جی ڈی پی کا ۸ء۷؍ فیصد ہونا ظاہر کرتا ہے کہ قومی معیشت اُس تناور پیڑ کی طرح ہے جو تند و تیز ہوا بلکہ آندھی میں بھی خود کو سنبھالے رکھتا ہے۔ معیشت کی یہ خصوصیت ڈاکٹر من موہن سنگھ کی وزارت عظمیٰ کے دور میں بھی دیکھنے کو ملی تھی جب ۲۰۰۸ء کی عالمی کساد بازاری کے باوجود ہندوستانی معیشت اپنے تحفظ میں کامیاب تھی۔ اُس دور میں کئی عالمی مالیاتی اداروں نے دم توڑدیا تھا مگر ہندوستانی بینکنگ سسٹم پر آنچ بھی نہیں آئی تھی۔ یہ معیشت اتنی بڑی ہے اور اس کی رگوں میں تازہ خون دوڑانے والی آبادی اتنی وسیع ہے کہ اس کے قدم اچانک ڈگمگانے لگیں یہ نہیں ہوسکتا۔یہ تو ڈگمگاتے قدموں کو بھی تھام لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گرین لینڈ کی برف کی چادر لگاتار ۳۰؍ ویں سال سکڑ گئی
یہی خوبی اِس وقت دیکھنے کو مل رہی ہے جب وزارت شماریات نے رواں مالی سال کی اولین سہ ماہی میں معیشت کے صحتمند ہونے کے شواہد فراہم کئے ہیں۔ دو دو جنگوں کی وجہ سے بظاہر مخدوش حالات کے باوجود معیشت کی یہ رفتار (اگر اس کی درست نشاندہی کی گئی ہے تو) قابل ستائش ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق مینوفیکچرنگ میں اضافہ (۹ء۲؍ فیصد) ہوا ہے، تعمیراتی سرگرمیاں بڑھی ہیں (۷ء۷؍ فیصد)، سروس سیکٹر کی فراہمی کی رفتار تیز ہوئی ہے (۱۰؍ فیصد) اور برآمدات کا پلڑا بھاری ہوا ہے (۱۲؍ فیصد) ۔ دو باتوں نے جی ڈی پی کی ۷ء۸؍ فیصد کی سطح کو قابل ذکر بنا دیا ہے۔ اول یہ کہ رائٹرس پول پر ماہرین کی متفقہ رائے تھی کہ پہلی سہ ماہی کی شرح ۷ء۱؍ فیصد رہے گی۔ دوسری بات یہ کہ خود ریزرو بینک آف انڈیا نے اس کے تعلق سے ۷؍ فیصد کی پیش گوئی کی تھی۔ اس پر اگر وزیر اعظم نے فخر و انبساط کا اظہار کیا اور خصوصی ویڈیو جاری کرتے ہوئے ’’بدخواہوں‘‘ کو ایک طرح سے گھڑکی دی ہے تو بلاشبہ یہ وقت ہے اُنہیں اپنی پالیسیوں کے صحیح ہونے کا دعویٰ کرنے کا مگر اس کے ساتھ ہی حکومت کو یہ شرح برقرار رکھنے کا چیلنج بھی قبول کرنا چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: اگست میں نا مناسب بارش کے سبب کئی اضلاع میں خشک سالی کا خدشہ
جنگ، تیل کے عالمی نرخوں میں اضافے اور غیر یقینی عالمی حالات کو بہانہ بنایا گیا تو یہ دُہرا معیارہوگا۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور چیلنج ہے جو حکومت کو قبول کرنا چاہئے۔ وہ ہے اس شرحِ نمو کو کاغذ سے حقیقی دُنیا تک لانا اور زمینی سطح تک پہنچانا۔ معیشت مضبوط قدموں سے آگے بڑھ رہی ہے تو روزگار بھی پیدا ہونا چاہئے اور بے روزگاری کی شرح کم ہونی چاہئے، افراط زر کو قابو میں آنا چاہئے، روپے کی حالت بہتر ہونی چاہئے اور رفتارِ صرف (عوام کے ذریعہ اشیاء کی خریداری) جس میں اضافہ ہوا ہے وہ بینکوں کے قرض کی مرہون منت نہ ہوبلکہ اس کا دار و مدار عوام کی بچت پر ہو۔ معیشت کی صحت تو ۷ء۸؍ فیصد سے دکھا تو دی گئی مگر صحت کے اور بھی معیارات ہیں جن پر موجودہ حالات کو پرکھا نہیں جاسکتا۔ معیشت کے چہرے پر سرخی تب دوڑے گی جب اس شرحِ نمو کو بچایا جائے گا، تیل کی قیمت کم ہوگی، اشیائے خوردنی کی قیمتیں قابو میں آئینگی، زراعت کا حال بہتر ہوگا، روزگار کا حصول آسان ہوگا اور صارفین ہر ماہ خاطرخواہ رقم پس انداز کرسکیں گے۔ اگر حکومت کے ۵؍ کھرب ڈالر کی معیشت بننے کے ہدف کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو محض ایک کوارٹر کی ۷ء۸؍ فیصد کی یہ شرح اُن لوگوں کو شرمندہ کردے گی جنہوں نے اس کا تعین کیا۔