• Wed, 02 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوگی کی سیلفیاں : سیاسی تبدیلی یا کچھ اور؟

Updated: September 02, 2026, 2:03 PM IST | Ashish Mishra | Mumbai

ایسا لگتا ہے کہ ۲۰۲۷ء کے انتخابات کے پیش نظر اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی سیاسی حکمت ِ عملی بدل رہی ہے۔ اب تقریر اور افتتاح کے ساتھ استفادہ کنندگان کے ساتھ سیلفی کا بھی انہوں نے معمول بنا لیا گیا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ طویل عرصے سے اتر پردیش کی سیاست میں ایک سخت ایڈمنسٹریٹر، زعفرانی لباس میں ملبوس  شعلہ بیان لیڈر اور  لاء اینڈ آرڈر کے بارے میں زیرو ٹالرینس کی پالیسی اختیار کرنے  والے والے چیف منسٹر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔تاہم ۲۰۲۷ء  کے اسمبلی انتخابات سے پہلے، یوگی کے سیاسی انداز میں ایک دلچسپ تبدیلی واضح ہے ۔ اب وزیر اعلیٰ صرف اسٹیج سے تقریر نہیںکرتے، صرف افسران کو ہدایات دیتے یا اسکیموں کا افتتاح کرتے ہوئے نظر نہیں آتے بلکہ نوجوانوں اور خواتین کے ساتھ سیلفی  لینے کا بھی انہوں نے معمول بنالیا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا سیلفی یوگی کے نئے سیاسی رابطے اور ۲۰۲۷ء کی انتخابی حکمت عملی کا حصہ بن گئی ہے؟ اگست کے آخری ہفتے میں منظر عام پر آنے والی تصاویر کے سلسلے نے اس سوال کو مزید تقویت دی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’کھیلو انڈیا‘‘ سے پہلے کھیلو اسکول، کھیلو کالج

۲۱؍ اگست کو جاپان کے یاماناشی  صوبے سے آئےطلبہ کے ساتھ وزیر اعلیٰ کی سیلفی خبروں میں تھی۔۲۵؍ اگست کو جب اپنا تقرری نامہ حاصل کرنے والے نوجوانوں نے وزیر اعلیٰ سے سیلفی لینے کی درخواست کی تو یوگی خود ان کے پاس پہنچے۔ بعد ازاں۲۶؍ اگست کو خواتین کیلئے خصوصی بس سروس کے آغاز پر وزیراعلیٰ نے بس میں خواتین کے ساتھ سیلفی لے کر ایک اور سیاسی پیغام دینے کی کوشش کی ۔اس کا مطلب ہے، تین دنوں میں تین مختلف سماجی گروپوں کے ساتھ تصاویر، نوجوان، غیر ملکی طلبہ اور خواتین۔  انہیں یوگی حکومت کے حالیہ اعلانات کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو یہ تینوں تصویریں ایک منظم سیاسی حکمت عملی کا اظہار معلوم ہوتی ہیں ۔

۲۶؍ اگست کو لکھنؤ میں اندرا گاندھی پرتشتٹھان میں منعقدہ ایک تقریب میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ’لوک ماتا اہلیا بائی ماتر شکتی یاترا ‘کا آغاز کیا اور خصوصی بسوں کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ بارش کے درمیان، بسوں میں سوار خواتین نے ہاتھ جوڑ کر وزیر اعلیٰ کا استقبال کیا۔اس کے بعد وزیر اعلیٰ بس میں سوار ہوئے اور خواتین کے ساتھ سیلفی لی۔ سرکاری اسکیم کے آغاز کی یہ تصویر عام سرکاری پروگرام کی تصاویر سے مختلف تھی۔ یہاں وزیر اعلیٰ استفادہ کنندگان سے کچھ فاصلے پر کھڑے نہیں ہوئے بلکہ ان کے درمیان جاکر کیمرے کے فریم میں نظر آئے۔ یہ یوگی کے بدلتے سیاسی انداز کا ایک  اہم پہلو ہے۔اس سے پہلے اکثر وزیر اعلیٰ کی تصویر ا سٹیج، عہدیداروں اور سرکاری اسکیموں کے افتتاح کے ساتھ ہوتی تھی ۔ اب استفادہ کنندگان ان کے ساتھ اور وہ استفادہ کنندگان کے ساتھ ایک فریم میں نظر آتے ہیں۔ 

لکھنؤ میں اودھ گرلز ڈگری کالج کی پرنسپل بینا رائے کہتی ہیں ’’خواتین کے ساتھ لی گئی سیلفی سیاسی اہمیت  رکھتی ہے کیونکہ خواتین رائے دہندگان اتر پردیش میں انتخابی سیاست کا ایک اہم حصہ ہیں۔ اس لئے خواتین کے درمیان وزیر اعلیٰ کا فوٹو شوٹ نہ صرف ذاتی حد تک کسی فریم میںنظر آنے کااقدام نہیں ہے بلکہ حکومت کی اسکیم سے فائدہ اٹھانے والی خواتین کو براہ راست جوڑنے کی کوشش بھی ہے۔‘‘ اسی تقریب میں یوگی حکومت نے ۶۰؍ سال سے زیادہ عمر کی خواتین کیلئے سرکاری بسوں میں تاحیات مفت سفر کا اعلان کیا ۔ انہوں نے اکتوبر-نومبر میں ۵۰؍ ہزار خواتین گریجویٹس کو اسکوٹر تقسیم کرنے کا بھی اعلان کیا۔یہ ایک ہی پلیٹ فارم سے معمر خواتین اور نوجوان طالبات دونوں تک پہنچنے کی کوشش ہے ۔وزیر اعلیٰ کے ساتھ تصویر کھنچوانے والی خاتون کیلئے یہ ا سکیم اب محض ایک سرکاری اعلان نہیں رہی بلکہ وزیر اعلیٰ سے وابستہ ایک ذاتی یادداشت بھی بن جاتی ہے۔

خواتین سے پہلے یوگی کی سیلفی کی سیاست کا سب سے واضح ہدف نوجوان  ہیں۔۲۵؍ اگست کو لکھنؤ میںتقرری خطوط کی تقسیم  کے ایک پروگرام میں وزیر اعلیٰ نے۳۴۴۶؍تکنیکی معاونین اور۱۲۶؍ منڈی سیکریٹریوں کو کل ۳۵۷۲؍نوجوانوں کو اپوائنٹمنٹ  لیٹرتقسیم کئے۔پروگرام کے بعد نوجوانوں نے وزیر اعلیٰ کے ساتھ سیلفی لینے کا مطالبہ کیا۔ یوگی اسٹیج سے نیچے آئے اور ان کے پاس پہنچے اور ان کے ساتھ تصویر کھنچوائی۔ یہ تصویر ایسے وقت میںلی گئی  جب وزیر اعلیٰ نے اگلے ۶؍ ماہ میں مزید ایک لاکھ نوجوانوں کو سرکاری نوکریاں دینے کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے ریکروٹمنٹ کمشنر اور بورڈز کو بھرتی کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔ حکومت اگلے چند مہینوں میں مرحلہ وار تقرری لیٹر تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت نے ’سوامی وویکانند یوتھ ایمپاورمنٹ اسکیم ‘ کے تحت ۲ء۵؍ ملین نوجوانوں کو ٹیبلٹ فراہم کرنے کی تیاری کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: خصوصی اداریہ

اس پوری حکمت عملی کو۲۰۲۷ء کے انتخابات کے تناظر میں دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہےکہ بی جے پی کو ایک اہم چیلنج کا سامنا ہے۔ نوجوان ووٹر صرف ہندوتوا یا امن و امان کی بنیاد پر ووٹ نہیں دیتے بلکہ روزگار، مسابقتی امتحانات، ٹیکنالوجی، تعلیم اور کریئر کے مواقع ان کے لئے اہم ہیں، خاص طور پر جین زی کیلئے۔ ان کا حکومت کے ساتھ ربط کا طریقہ روایتی سیاست سے مختلف ہے۔یہ وہ جگہ ہے جہاں سیلفی ایک مفید سیاسی آلہ کا کام کرتی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے ساتھ لی گئی تصویر منٹوں میں انسٹاگرام، فیس بک، ایکس یا وہاٹس ایپ تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی سرکاری تقریب کی تصویر فائدہ اٹھانے والے کے ذاتی سوشل نیٹ ورک کے ذریعے بھی حکومت کے پیغام کو پھیلا سکتی ہے۔

یوگی کی سیلفی کی سیاست کو سمجھنے کیلئے، ان کی سابقہ ​​مواصلاتی حکمت عملی کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ وزیر اعلیٰ نے عوام تک اپنا پیغام پہنچانے کے لئے ’یوگی کے خط ‘کا استعمال کیا۔ کھلے خطوط کے ذریعے انہوں نے نوجوانوں، خواتین، بچوں اور عام لوگوں سے براہ راست بات چیت کرنے کی کوشش کی۔ لیکن ایک خط اور سیلفی میں بنیادی فرق ہے۔ خط میں وزیر اعلیٰ عوام سے مخاطب ہوتے ہیں جبکہ ایک سیلفی میں عوام اور وزیر اعلیٰ ساتھ نظر آتے ہیں۔ ایک خط یک طرفہ مواصلات کی علامت ہوتا ہے جبکہ سیلفی  اپنے آپ میںخاموش دوطرفہ کمیونی کیشن کی مثا ل ہوتی ہے۔۲۱؍ اگست کو یوگی کی جاپانی طلبہ کے ساتھ تصویر ایسی ہی مثال ہے۔جاپان کے یاماناشی  صوبے سے تعلق رکھنے والے ۱۳؍ طلبہ اور لکھنؤ کے اسکول کے بچے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ پر اے ڈائیلاگ وِد دا فیوچر ‘پروگرام میں موجود تھے۔ اس دوران ایک جاپانی طالب علم وزیر اعلیٰ کے پاس پہنچا، سیلفی لی، فتح کا نشان بنایا اور وزیر اعلیٰ کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا جس سے ان کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی ۔ یوگی کی سیاست میں یہ نیا ’پرسنل ٹچ‘   بہت اہم ہے کیونکہ اب ووٹروں بالخصوص نوجوان ووٹروں سے جڑنے کے انداز میں تبدیلی آرہی ہے۔  (بشکریہ انڈیا ٹوڈے)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK