• Wed, 02 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایس سی او اجلاس : ایران پر حملوں کی مذمت

Updated: September 02, 2026, 1:41 PM IST | Agency | Bishkek

شنگھائی تعاون تنظیم نے رکن ممالک پر مغرب کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندیوں کو غلط قرار دیا۔

Shehbaz Sharif, Putin, Sadyr Japarov, Xi Jinping, Kassym-Jomart Tokayev, Masoud Pezeshkian, Narendra Modi, Alexander Lukashenko. Picture: INN
شہباز شریف، پوتن ،صدیر ظفروف، شی جن پنگ،قاسم تکایوف، مسعود پزشکیان،نریندرمودی، الیگزینڈر لوکاشینکو۔ تصویر: آئی این این

شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے لیڈران نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں۲؍و روزہ سربراہی اجلاس کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے، جس میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور بعض رکن ممالک پر مغربی پابندیوں کی مذمت کی گئی ہے۔ بشکیک اعلامیہ  پر چین کے صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادیمیر پوتن، وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سمیت ایس سی او کے رکن ممالک کے دیگر لیڈران نے دستخط کیے۔ ایس سی او میں روس، چین، ہندوستان، پاکستان، ایران، بیلاروس، ازبکستان، قازقستان، تاجکستان اور کرغزستان شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: نیپال کی جرأت، امریکہ، چین اور ہندوستان سے معاوضہ مانگا

ایس سی او نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی سرزمین پر ہونے والے فوجی حملوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہری ہلاکتیں اور ملکی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملےبین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں اور ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور عالمی امن، سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں۔رکن ممالک نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی ہلاکت پر ایرانی عوام اور حکومت سے تعزیت کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ ایس سی او ارکان نے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تنازع کا حل صرف سیاسی اور سفارتی ذرائع سے نکالا جانا چاہیے۔اعلامیے میں فلسطین کے خلاف اسرائیلی حملوں کا بھی ذکر کیا گیا اور کہا گیا کہ ان حملوں نے مغربی ایشیا میں عدم استحکام پیدا کیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا، مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام یقینی بنانے کا واحد ممکنہ راستہ فلسطین کے مسئلے کا جامع اور منصفانہ حل ہے۔ایس سی او نے کسی مخصوص ملک پر عائد پابندیوں کا نام لیے بغیر اقوام متحدہ اور عالمی تجارتی تنظیم کے اصولوں کے خلاف یکطرفہ جبری اقدامات کی مخالفت کی اور کہا کہ ایسی پابندیاں عالمی معیشت پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔ایس سی او نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے رکن کی حیثیت سے ایران کے حقوق کی بھی حمایت کی۔ ایران سمیت این پی ٹی کے غیر جوہری ہتھیار رکھنے والے رکن ممالک کو پرامن مقاصد کیلئےیہ پروگرام چلانےکا حق حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران امریکہ مذاکرات کی بحالی کیلئے کوششیں جاری ہیں : قطر

 اقتصادی ترقی پر زور

بشکیک اعلامیے میں اراکین نےایسے کھلے، شفاف، منصفانہ، جامع اور غیر امتیازی کثیر الجہتی تجارتی نظام کی حمایت کا عزم ظاہر کیا جو عالمی اقتصادی ترقی کو فروغ دے، منڈیوں تک منصفانہ رسائی یقینی بنائے اور ترقی پذیر ممالک کیلئے خصوصی اور امتیازی سلوک کی سہولت فراہم کرے۔ رکن ممالک نے۲۰۳۰ء تک کی ایس سی او اقتصادی ترقی کی حکمت عملی پر عمل درآمد کے ذریعے اقتصادی تعاون کو مزید گہرا کرنے اور مالی تعاون کے فروغ کیلئے عملی مذاکرات جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK