• Wed, 02 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈجیٹل دُنیا خواتین کو کئی مواقع فراہم کر رہی ہے

Updated: September 02, 2026, 1:49 PM IST | Nikhat Anjum Nazimuddin | Mumbai

کئی خواتین تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اور صلاحیت رکھنے کے باوجود بھی گھریلو مصروفیات کے باعث اپنی قابلیت کو عملی میدان میں استعمال نہیں کر پاتیں۔ لیکن اب ڈجیٹل دنیا نے ان کیلئے یہ صورتحال بدلنے کے امکانات پیدا کئے ہیں۔ اب بہت سے کام گھر بیٹھے کئے جا سکتے ہیں۔ یہی سہولت خواتین کیلئے ڈجیٹل دنیا کی سب سے اہم خوبی ثابت ہورہی ہے۔

Remember, success is achieved only when one recognizes one`s abilities, strives to continuously improve them, and puts them to effective use. Picture: INN
خیال رہے کامیابی اسی وقت ملتی ہے جب اپنی صلاحیتوں کو پہچان کر اسے مسلسل بہتر بنانے کی کوشش کی جائے اور انہیں بروئے کار لایا جائے۔ تصویر: آئی این این

ڈجیٹل دنیا نے تعلیم کے امکانات بھی وسیع کر دیئے ہیں۔ اب علم کچھ مخصوص کتابوں، ادارہ یا شہر تک محدود نہیں رہا بلکہ اب دنیا بھر کے تعلیمی ذرائع تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ خواتین اپنی ضرورت اور دلچسپی کے مطابق مختلف مضامین اور ہنر سیکھ سکتی ہیں۔ خصوصاً وہ خواتین جن کی تعلیم کسی مرحلے پر رک گئی تھی، وہ دوبارہ سیکھنے کا سفر شروع کرسکتی ہیں۔ کسی نئی زبان کا علم حاصل کرنا ہو، کمپیوٹر سیکھنا ہو، کاروبار کے بنیادی اصول سمجھنے ہوں یا کسی فنی شعبے میں مہارت حاصل کرنی ہو، انٹرنیٹ پر بے شمار تعلیمی مواد دستیاب ہے۔ اس کے لئے کسی غیر معمولی صلاحیت کی ضرورت نہیں۔ روزانہ ایک گھنٹہ بھی مستقل مزاجی کے ساتھ کسی مفید کام کے لئے مختص کیا جائے تو چند ماہ میں ہم اپنی قابلیت میں نمایاں اضافہ کرسکتے ہیں۔ علم کا سفر ہمیشہ ایک قدم سے شروع ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بچّوں کی بہترین پرورش مضبوط، باوقار اور خوشحال قوم کی ضمانت

ہمارے معاشرہ میں بے شمار خواتین ایسی ہیں جو مختلف ہنر رکھتی ہیں، مگر ان کے ہنر کی دنیا ان کے گھر اور قریبی حلقے تک محدود رہتی ہے۔ کسی کے ہاتھ کی کڑھائی خوبصورت ہے، کوئی نفیس کپڑے تیار کرتی ہے، کوئی گھر میں عمدہ کھانے بناتی ہے اور کسی کو خوبصورت دستکاری کا ہنر آتا ہے۔ پہلے ان مصنوعات کے خریدار تلاش کرنا مشکل تھا، مگر اب حالات بدل چکے ہیں۔ ڈجیٹل ذرائع نے گھر میں تیار ہونے والی چیزوں کو وسیع بازار تک پہنچانے کی راہ ہموار کی ہے۔ ایک خاتون اپنی مصنوعات کی تصاویر اور تفصیلات لوگوں تک پہنچا سکتی ہے، آرڈر لے سکتی ہے اور مختلف ترسیلی ذرائع کے ذریعے سامان خریدار تک پہنچا سکتی ہے۔ اس طرح ایک گھریلو ہنر باقاعدہ کاروبار کی صورت اختیار کرسکتا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ کاروبار کی کامیابی صرف مصنوعات کی تشہیر سے حاصل نہیں ہوتی ہے بلکہ معیار، مناسب قیمت، وقت کی پابندی اور صارف کے اعتماد کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ جب خواتین اپنے کام کو سنجیدگی سے لیں گی، اپنے صارفین کے ساتھ اچھا برتاؤ رکھیں گی اور معیار پر سمجھوتہ نہیں کریں گی تو ان کے لئے آگے بڑھنے کے امکانات زیادہ ہوں گے۔

یہ بھی پڑھئے: اے سی سے ڈرائی آئیز کا خطرہ: اِن باتوں کا دھیان رکھیں

آئیے اب دیکھیں سوشل میڈیا کا استعمال۔ اس کا استعمال ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ یہ استعمال اگر بے مقصد ہو تو ہمارا قیمتی وقت ضائع ہوسکتا ہے لیکن اسے درست مقصد کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ علم، رابطے اور روزگار کا مفید ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس کا استعمال کرکے خواتین اپنے علمی خیالات لوگوں تک پہنچا سکتی ہیں، اپنی تحریریں شائع کروا سکتی ہیں، تعلیمی مواد تیار کرسکتی ہیں اور اپنے کاروبار کی تشہیر بھی کر سکتی ہیں۔ اسی طرح وہ اپنے شعبے سے وابستہ لوگوں سے رابطہ قائم کرکے نئے مواقع کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال میں مقصد واضح ہو۔ دوسروں کی زندگیوں کو دیکھتے رہنے کے بجائے اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے اس ذریعے سے فائدہ اٹھایا جائے۔ وقت کا درست استعمال ہمیں آگے لے جاتا ہے جبکہ بے مقصد مصروفیت منزل سے دور کر دیتی ہے۔

اس پلیٹ فارم کا استعمال خواتین کیلئے روزگار اور کاروبار کے حصول کا، نئے مواقع حاصل کرنے کا ایک اہم پہلو ثابت ہوسکتا ہے۔ جس سے مالی خود مختاری بھی حاصل ہوسکتی ہے۔ اپنی محنت سے حاصل ہونے والی آمدنی خواتین میں اعتماد پیدا کرتی ہے اور انہیں مستقبل کے بارے میں بہتر منصوبہ بندی کا موقع دیتی ہے۔ مالی خود مختاری کا مطلب یہ نہیں کہ سبھی خواتین کے لئے ملازمت یا کاروبار ضروری ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جو خاتون کام کرنا چاہتی ہے اور اس کے پاس کوئی ہنر موجود ہے، اسے اپنی صلاحیت استعمال کرنے کے مناسب مواقع حاصل ہوں۔ ایک چھوٹی سی آمدنی بھی وقت کے ساتھ بچت، تعلیم یا کسی بڑے مقصد کی بنیاد بن سکتی ہے۔ گھر کے معاشی معاملات میں سمجھ بوجھ بھی اسی قدر اہم ہے۔ آمدنی کے ساتھ اخراجات کا حساب، بچت کی عادت اور مستقبل کی منصوبہ بندی مالی استحکام کے لئے ضروری ہیں۔ ڈجیٹل ذرائع نے خواتین کو مالی معلومات تک رسائی بھی آسان بنا دی ہے، اس لئے اس شعبے میں سیکھنے کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ڈجیٹل دنیا کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ مواقع بڑے شہروں تک محدود نہیں رہے۔ چھوٹے شہروں اور دور دراز علاقوں میں رہنے والی خواتین بھی انٹرنیٹ کے ذریعے علم، تربیت اور کاروباری مواقع تک پہنچ سکتی ہیں۔

ڈجیٹل دور نے خواتین کے سامنے جو مواقع رکھے ہیں، ان کی قدر اسی وقت ہوگی جب انہیں سمجھ داری، محنت اور مثبت مقصد کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ ٹیکنالوجی خود کسی کی منزل نہیں یہ منزل تک پہنچنے کا ایک وسیلہ ہے۔ اصل قوت عورت کے عزم، صلاحیت، علم اور مسلسل جدوجہد میں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK