۲۰۲۱ء میں ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی ممتا بنرجی کو تخت سے ہٹانے میں ناکام رہی تھی لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کی بیساکھی کے ذریعے بنگال کے راج سنگھاسن تک پہنچنے کی کوشش میں ہے۔
ووٹرس۔ تصویر:آئی این این
انتخابات کو جمہوریت کاتہوار کہا جاتا ہے جس میں شہری اپنے حق رائے دہندگی کا استعمال کرکے اپنے نمائندے اور اپنی حکومت منتخب کرتے ہیں۔ مغربی بنگال میں اگلے اسمبلی الیکشن میں گرچہ محض پندرہ دن رہ گئے ہیں لیکن تہوار کے جشن کے ماحول کے بجائے فضا میں ایک غیر معمولی سوگواری پھیلی ہوئی ہے۔ پیر کی دیر رات میں الیکشن کمیشن کے اس اعلان نے کہ مزید ۲۷؍ لاکھ شہریوں کو اسمبلی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم رہنا پڑے گا، جمہوریت کے تہوارکی ساری شادمانی خاک میں ملادی ہے۔ بنگال میں کل ملاکر ۹۰؍ لاکھ ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے کاٹے جانے کا اندیشہ ہے۔ بے شمار زندہ ووٹروں کو مردہ قرار دے کر ان کے نام کاٹ دیئے گئے ہیں تو ۲۵۰؍لوگوں نے نام کاٹے جانے کی دہشت سے مغلوب ہوکر دم توڑ دیا ہے: انہوں نے یا تو خودکشی کرلی یا دل کا دورہ پڑنے سے مر گئے۔ دو مرحلوں میں ہونے والے مجوزہ اسمبلی الیکشن میں بھارتیہ جنتا پارٹی ہر قیمت پر بنگال کا راج سنگھاسن ہتھیانے کے لئے جتن کررہی ہے اورترنمول کانگریس ہر قیمت پر اپنا راج پاٹ بچانے کی کوشش۔
سیاسی جماعتوں کے علاوہ بھی ایک فریق ہے جو اس بار بنگال کے اسمبلی الیکشن پر پوری طرح حاوی ہے اور وہ ہے الیکشن کمیشن۔ نریندر مودی اور امیت شاہ کا دعویٰ ہے کہ الیکشن کمیشن خصوصی نظر ثانی (SIR) کے ذریعہ گھس پیٹھیوں کے ناموں سے ووٹر لسٹ کو پاک کر رہا ہے۔وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کاالزام ہے کہSIRکے بہانے الیکشن کمیشن بنگال میں بی جے پی کی فتح یابی کی راہ ہموار کررہا ہے۔ ممتا کا دعویٰ ہے کہ ایک خود مختار آئینی ادارہ کا جسے غیر جانبدار رہنا چاہئے کسی مخصوص سیاسی رنگ میں رنگ جانا جمہوریت اور آئین دونوں کے لئے بے حد خطرناک ہے۔ پچھلے پانچ ماہ سے دیدی الیکشن کمیشن کے ہتھکنڈوں کا مقابلہ کر رہی ہیں اور ان کے سدباب کی خاطر سپریم کورٹ تک بھی گئیں۔پھر بھی مختلف حیلے بہانوں سے الیکشن کمیشن تقریبا ً۹۰؍ لاکھ نام کاٹنے میں کامیاب ہوگیا۔
۲۰۲۱ء میں ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی ممتا بنرجی کو تخت سے ہٹانے میں ناکام رہی۔ بی جے پی کو ۷۷؍ سیٹیں اور ۳۹؍فیصد ووٹ ملے جبکہ ترنمول کانگریس کو ۲۱۵؍ سیٹیں اور ۴۹؍فیصد ووٹ ملے۔ بی جے پی کو اندازہ ہوگیا کہ اگلے الیکشن میں بی جے پی کے ووٹ شیئر میں دس فی صد ی کے اضافہ کی توقع فضول ہے۔اس کی جیت اسی صورت میں ممکن ہے جب ترنمول کانگریس کے ووٹ شیئر میں بھاری تخفیف ہوجائے۔ اب ذرا پوری صورتحال پر غور فرمائیے: الیکشن کے قبل ہی ووٹر لسٹ سے اگر ۹۰؍ لاکھ نام کاٹ دیئے جاتے ہیں تو پولنگ میں ترنمول کانگریس کا ووٹ شیئر کم ہونے کا امکان روشن ہوجائے گا۔ پہلے پولنگ کے دوران رگنگ کی جاتی تھی اب اس کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ الیکشن سے قبل ہی ’’کھیلا‘‘ ہوگیا ہے۔ ایس آئی آر کی کاروائی شروع ہونے کے قبل بنگال میں ووٹروں کی مجموعی تعداد ۷؍ کروڑ۶۶؍ لاکھ تھی۔ ۲۸؍ فروری کو جب فائنل لسٹ شائع کی گئی تو ووٹروں کی تعداد گھٹ کر ۶؍ کروڑ ۴۴؍ لاکھ رہ گئی۔ اس کے علاوہ ساٹھ لاکھ ووٹروں کو مشکوک قرار دے کر under adjudication کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ اب لگ رہا ہے کہ تیس لاکھ ووٹروں کے ناموں کے اضافے کے بعد الیکشن کمیشن ۶؍ کروڑ ۷۵؍ لاکھ ووٹروں کوووٹ دینے کا مستحق قرار دے سکتا ہے۔ ۲۰۲۱ء میں ہندوستان کی آبادی تقریباً ۱۴۰؍کروڑ تھی جو آج بڑھ کر ۱۴۷؍ کروڑ ہوگئی ہے۔ ان پانچ برسوں میں چین کو پیچھے چھوڑ کرہندوستان دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن چکا ہے لیکن الیکشن کمیشن کی کرشمہ سازی سے بنگال میں ووٹروں کی تعداد بڑھنے کے بجائے گھٹ گئی ہے۔ قارئین کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ کس مذہبی گروپ کے ووٹروں پر الیکشن کمیشن کی خصوصی نظر عنایت ہوئی ہے۔ جن ۶۰؍لاکھ ناموں پر under adjucationکی تلوار لٹک رہی تھی ان میں ۲۰؍لاکھ ووٹرز صرف دو اضلاع مرشد آباد اور مالدہ کے تھے۔ ان دو اضلاع میں مسلمان ووٹروں کا تناسب تقریباً ۷۰؍فیصد ہے۔ سنیچر کے دن مالدہ کے عنایت پور(کالیا چک) میں ممتا بنرجی نے انتخابی ریلی میں اعلان کیا کہ جن ووٹروں کے نام حذف کردیئے گئے ہیں وہ اپنے اپنے ہاتھ اٹھائیں توجلسے میں موجود ۶۰؍ فی صد لوگوں نے جن میں خواتین کی اکثریت تھی اپنے ہاتھ اٹھادیئے۔ ممتا نے یہ دعویٰ کیا کہ’’ امیت شاہ کے حکم پر‘‘ ہر علاقے میں اسی طرح مسلم ووٹروں کے نام کاٹے جارہے ہیں۔ ممتا الیکشن کمیشن کو’’ بی جے پی کی کٹھ پتلی‘‘ اور’’ بی جے پی کا دلال‘‘یوں ہی نہیں کہتی ہیں۔
الیکشن کمیشن نے بھوانی پور میں بھی ایس آئی آر کے بہانے تقریباً ۴۷؍ ہزار نام حذف کردیئے اور ۱۴؍ ہزار ناموں کی تصدیق ابھی باقی ہے۔ جنوبی کلکتہ میں واقع اس حلقہ میں ممتا بنرجی خود امیدوار ہیں۔ یہ اسمبلی حلقہ آٹھ میونسپل وارڈوں پر مشتمل ہے جن میں وارڈ نمبر ۷۷؍ بھی شامل ہے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ یہ وارڈ ترنمول کانگریس کا مضبوط اور محفوظ قلعہ مانا جاتا ہے۔ بھوانی پور میں لگ بھگ دولاکھ ووٹر ہیں اور وارڈ نمبر ۷۷؍ میں ۴۴؍ ہزار ووٹر۔ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس حلقہ میں حذف کئے گئے ووٹروں کے ناموں میں ۶۰؍ فیصد اس ایک وارڈ کے ووٹر ہیں۔بھوانی پور میں بی جے پی نے اپنے بھاری بھرکم صوبائی لیڈر شوبھیندو ادھیکاری کودیدی کے مقابل اتارا ہے۔ادھیکاری ۲۰۲۱ء ممتا کو نندی گرام میں ہراچکے ہیں۔بی جے پی ممتا کے خلاف اعصابی جنگ لڑ رہی ہے۔ادھیکاری کے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے بعد بی جے پی نے بھوانی پور حلقہ میں ایک جلوس نکالا جس کی قیادت امیت شاہ نے کی اور یہ دعویٰ کیا کہ بھوانی پور میں دیدی کی شکست طے ہے۔ مطلب یہ کہ بی جے پی ممتا بنرجی کو گھیرنے کی پوری تیاری کرچکی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ لاکھوں ووٹروں کو حق رائے دہندگی سے محروم رکھ کر ایک صوبے میں انتخاب کرائے جارہے ہیں اور کوئی اس ناانصافی کو نہیں روک رہا ہے، سپریم کورٹ بھی نہیں۔ اور ہم دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
امیت شاہ مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات کے دوران پندرہ دنوں تک صوبے میں ہی قیام کرینگے۔ ایسے وقت میں جب ہندوستان بھی دوسرے ممالک کی طرح ایران جنگ کے بھیانک اثرات جھیل رہاہے ملک کا وزیر داخلہ اگر اپنے فرائض منصبی کو نظر انداز کر کے پندرہ دنوں تک سیاسی اور انتخابی فائدے کیلئے راجدھانی دلی سے ۱۴۰۰؍کلو میٹر دور ایک صوبہ میں ڈیرہ ڈالے رہے تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت بنگال کا قلع فتح کرنے کیلئے کتنی بے چین ہے۔