قبولیت ِ رمضان کی علامت یہ ہے کہ نیکیوں پر استقامت اختیار کی جائے اور اطاعت و فرمانبرداری کو مستقل شعار بنا لیا جائے۔ اللہ نے رمضان اس لئے واجب کیا کہ ہم اس سے دلوں کی بیٹریاں چارج کر لیں۔
EPAPER
Updated: March 20, 2026, 3:40 PM IST | Yusuf Al Qarzavi | Mumbai
قبولیت ِ رمضان کی علامت یہ ہے کہ نیکیوں پر استقامت اختیار کی جائے اور اطاعت و فرمانبرداری کو مستقل شعار بنا لیا جائے۔ اللہ نے رمضان اس لئے واجب کیا کہ ہم اس سے دلوں کی بیٹریاں چارج کر لیں۔
ہم رمضان کے دنوں اور قرآن کی تلاوت کے اختتام کی طرف بڑھ رہے ہیں اور ہر اس چیز کا اختتام ناگزیر ہے جس کا آغاز ہوا ہو۔ جس کی ابتدا ہو اس کی انتہا بھی ہوتی ہے، البتہ پاک ہے وہ ذاتِ اول جس سے پہلے کچھ نہیں، اور وہ ذاتِ آخر جس کے بعد کچھ نہیں، اور وہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔ دن بادلوں کی طرح کتنی تیزی سے گزر جاتے ہیں۔ بادلوں کی طرح ہی نہیں بجلی جیسی تیزی سے ختم ہو جاتے ہیں، اور یہ تمام دن ہماری عمر کا حصہ ہیں، ہماری کتابِ زندگی کے صفحات ہیں جو پلٹتے جاتے ہیں اور اختتام قریب آتا جاتا ہے۔ حضرت حسن بصری ؒ فرماتے ہیں: اے ابن آدم، تو حقیقت میں ایام کا مجموعہ ہے، جب ایک دن گزر گیا تو تیرا ایک حصہ بھی کھو گیا۔
لہٰذا یہ دن جو گزر رہے ہیں وہ ہمارا حصہ ہیں، اور خوش نصیب ہے وہ شخص جس کے یہ دن اور راتیں اس کی نیکیوں کے ترازو میں ہوں، اس کی برائیوں کے ترازو میں نہ ہوں۔ ہم میں سے خوش نصیب وہ ہے جس کے حق میں رمضان گواہ بن جائے، اس کے خلاف گواہی نہ دے، اس کے حق میں شفاعت کرنے والا ہو، اس کی شکایت کرنے والا نہ ہو۔
یہ بھی پڑھئے: الوداع وہ لمحات!
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کیلئے شفاعت کریں گے۔ روزہ کہے گا: اے میرے رب، میں نے اسے دن کے وقت کھانے پینے اور خواہشات سے روکے رکھا، لہٰذا اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما۔ اور قرآن کہے گا: میں نے اسے رات کے وقت سونے سے روکے رکھا (یعنی قیام اللیل کی وجہ سے)، لہٰذا اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما۔چنانچہ دونوں کی شفاعت قبول کی جائے گی۔‘‘ لہٰذا خوشخبری ہے اس کے لئے قرآن اور رمضان جس کی شفاعت کرنے والے ہوں گے۔
کچھ لوگ پورا ماہِ رمضان اپنا تعلق اللہ سے جوڑے رکھتے ہیں، لیکن رمضان ختم ہوتے ہی وہ اپنے اور اللہ کے درمیان اس تعلق کو توڑ دیتے ہیں۔ اسی لئے ہم ہمیشہ کہتے ہیں: جو شخص رمضان کی عبادت کرتا تھا تو رمضان جا چکا ہے، یا جانے کے قریب ہے، اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا ہے، تو اللہ زندہ و قائم ہے ۔ سلف کہا کرتے تھے: بُرے لوگ ہیں وہ جو اللہ کو صرف رمضان میں پہچانتے ہیں، لہٰذا ربانی بنو رمضانی نہ بنو، موسمی فرماں بردار نہ بنو کہ سال کے ایک مہینے میں اللہ کو پہچانو اور باقی سارا سال اس کو بھولے رہو۔
قبولیت ِ رمضان المبارک کی علامت یہ ہے کہ نیکیوں پر استقامت اختیار کی جائے اور اطاعت و فرمانبرداری کو مستقل شعار بنا لیا جائے۔ اللہ نے رمضان صرف اس لئے واجب کیا کہ ہم اس سے دلوں کی بیٹریاں چارج کر لیں، کیونکہ بیٹریاں خالی ہو جاتی ہیں اور انہیں دوبارہ چارج کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ رمضان اس لئے آتا ہے کہ ہم روزے، قیام، ذکر، تلاوتِ قرآن، اجتماعی دروس قرآن اور دروسِ رمضان سے اپنی بیٹریاں چارج کر لیں۔رمضان میں چارج شدہ بیٹری ہمیں اگلے گیارہ مہینوں تک فائدہ پہنچانے کے لئے ہے۔ لہٰذا اگر رمضان گزر جائے اور ہماری بیٹری خالی ہو، تو اس صورت میں رمضان ہمیں کوئی فائدہ نہیں دے گا۔
یہ بھی پڑھئے: رمضان ڈائری (۲۸): اُدھر میزائل گرنے لگے، اِدھر دام
اُمت مسلمہ کی منفرد خصوصیات
یہ اللہ کی طرف سے اس امت کی عزت افزائی کی نشانیوں میں سے ہے کہ ہمیں بطور امت مسلمہ ایسی چیزوں سے نوازا گیا ہے جو کسی اور امت کو عطا نہیں ہوئیں:
lہم میں کون ایسا ہے جو نہیں جانتا کہ ہمیں پانچ نمازوں، اور ان نمازوں میں جماعت، اور قبلہ کی وحدت سے نوازا گیا ہے۔
ایک فرانسیسی مصنف نے اپنی ایک کتاب میں کہا ہے: میں روئے زمین پر مسلمانوں کو کعبہ کے گرد دائرہ بنائے خیال کرتا ہوں۔ اگر کوئی آسمان سے تصویر کھینچے، تو وہ تصور کرے گا کہ ان دائروں نے پوری زمین کو بھر رکھا ہے۔ یہ کعبہ کے انتہائی قریب شروع ہونے والے چھوٹے دائروں کے بعد بڑے اور پھر ان کے بعد ان سے بڑے دائرے بنتے جاتے اور زمین کو بھرتے جاتے ہیں۔ آپ ان دائروں میں ہر وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کو پائیں گے۔
جاپانیوں کا ایک گروہ قطر آیا تھا اور ستائیسویں رات کو ہمارے ساتھ یہاں نمازِ باجماعت کی تصویریں لے رہے تھے۔ وہ حیران اور متاثر تھے۔ اس کے بعد میرے گھر آئے، اور میرے ساتھ طویل بات چیت ہوئی اور بتایا کہ ہم بہت دیر سے پہنچے، اس نماز کو مکمل طور پر نہ دیکھ سکے۔ یہ سچ ہے کہ ہمیں اس کے بارے میں کچھ نہیں سمجھا لیکن جس گرمجوشی سے نماز ادا کی گئی، اور دعا اور مسلمانوں کا اتحاد، صفیں ایکدوسرے سے ملی ہوئی جیسے ایک جسم ہو، اس نے ہمیں بہت متاثر کیا۔
میں نے انہیں بتایا کہ یہ واحد مسجد نہیں ہے۔ دنیا میں ہزاروں اور لاکھوں مساجد ہیں جہاں نمازیں ایسے ہی ادا کی جاتی ہیں، خاص طور پر مکہ اور مدینہ میں۔ کوئی بھی امت ایسی نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی ایسی عبادت کرتی ہو، جیسی امت مسلمہ کرتی ہے۔
اسلام مسلمان کو پانچ بار اُس کے رب سے جوڑتا ہے، اور اسی لئے ان نمازوں کو ایک نہر سے تشبیہ دی گئی ہے جس میں مسلمان ہر روز پانچ بار نہاتا ہے، چنانچہ جب مسلمان گناہوں کی آگ میں جلتا ہے، تو یہ نماز اس آگ کو بجھاتی ہے اور ان گناہوں کے زخموں کو مندمل کرتی ہے۔ پانچ وقت کی نماز روزانہ کا غسل ہے، اور جمعہ کی نماز ہفتہ وار غسل ہے، رمضان کے روزے اور قیام سالانہ غسل ہے اور حج زندگی بھر کا غسل ہے۔
lاللہ نے ہمیں قرآن کریم سے بھی نوازا ہے، یہ وہ کتاب ہے جس کے بارے میں اللہ نے فرمایا: ’’باطل نہ سامنے سے اس پر آ سکتا ہے نہ پیچھے سے، یہ ایک حکیم و حمید کی نازل کردہ چیز ہے۔‘‘ (حم السجدہ: ۴۲)
’’یہ کتاب ہے، جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ارشاد ہوئی ہیں، ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے۔ ‘‘ (ھود:۱)
یہ قرآن کسی بھی امت کے پاس نہیں ہے۔ ہم امت مسلمہ کے پاس طاقت کے ایسے عوامل اور ایسی خصوصیات ہیں جو کسی دوسری امت کے پاس نہیں ہیں، لیکن افسوس کہ ہم اس روحانی قوت اور اس توانائی کو بروئے کار نہیں لاتے۔ امت مسلمہ نے اپنی ان صلاحیتوں، قابلیتوں اور قوتوں کو استعمال نہیں کیا جو اللہ نے اسے عطا کی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ہولناک دن کی کیفیات،غفلت کا علاج، ابرہہ کا انجام اور شر سے پناہ کی دُعا سنئے
یہودی دندناتے پھرتے ہیں، فساد مچاتے ہیں، خون بہاتے ہیں، گھروں کو جلاتے ہیں، اور مکانات کو تباہ کرتے ہیں اور امت مسلمہ قبروں کی طرح خاموش ہے۔ کیا یہ ایک زندہ امت ہے؟ اس کی زندگی کی علامت کہاں ہے؟ مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی جا رہی ہے، وہ مسجد جس کے اردگرد اللہ نے برکت دی، اور جس کا ذکر اللہ نے قرآن میں کیا، اور جسے رسولؐ اللہ نے اسلام کی تین عظیم مساجد میں سے ایک مسجد قرار دیا، بلکہ اللہ نے قرآن میں اس کا ذکر مسجدنبویؐ کی تعمیر سے پہلے کیا، کیونکہ سورۂ بنی اسرائیل رسولؐ اللہ کے مدینہ ہجرت کرنے اور مسجد نبویؐ بنانے سے پہلے مکہ میں نازل ہوئی تھی۔ فرمایا:
’’پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اُس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے، تاکہ اسے اپنی کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرائے حقیقت میں وہی ہے سب کچھ سننے اور دیکھنے والا۔ ‘‘ (بنی اسرائیل ۱۷:۱)
قرآن نے اس کا ذکر امت کے دلوں کو اس مسجد سے جوڑنے کیلئے کیا ہے۔اُمت غفلت سے دوچار ہے کیونکہ کوئی ایسی قیادت دکھائی نہیں دیتی جو امت کی رہنمائی کرے۔
جذبات و شعائر کا اتحاد
اسلام نے اس امت کو متحد کیا، اس کے جذبات، احساسات، روایات اور افکار کو متحد کیا۔ پوری امت رمضان میں تراویح پڑھتی ہے، ایک ہی قبلے کی طرف رخ کرتی ہے، اور اس مبارک مہینے میں اللہ سے دعا کرتی ہے۔ پوری امت روزے رکھتی ہے اور غروب آفتاب کے وقت افطار کرتی ہے۔ پوری امت سحری کرتی ہے اور فجر کی نماز پڑھتی ہے، اور پوری امت زکوٰۃ دیتی ہے، عمرہ کرتی ہے اور بیت اللہ کا حج کرتی ہے۔
یہ امت جس طرح شعائر میں متحد ہے، اسی طرح یہ احساسات میں بھی متحد ہے۔ اللہ کی قسم! میں جہاں بھی گیا، میں نے مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ کے لئے پریشان اور بے چین پایا۔ روایات اور آداب بھی مشترک ہیں چنانچہ آپ جہاں بھی کسی مسلمان سے ملیں گے، آپ اسے السلام علیکم کہیں گے تو وہ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہہ کر جواب دے گا۔ آپ اسے دائیں ہاتھ سے کھاتے، کھانا بسم اللہ سے شروع کرتے اور الحمد للہ پر ختم کرتے ہوئے پائیں گے۔ یہ تصورات میں اتحاد ہے۔
یہ بھی پڑھئے: قیامت کی منظرکشی، نافرمانوں اور فرمانبرداروں کی حالت اور جنات کا قبول اسلام
اگر امت شریعت پر جمع ہو جاتی تو اس کی بات بھی ایک ہوتی، اس کا شیرازہ بھی جمع ہوتا، اور اس کی صفیں بھی متحد ہوتیں، لیکن اس نے مشرق اور مغرب سے، دائیں اور بائیں سے درآمد شدہ راستوں اور مذاہب کی پیروی کی، اور ٹکڑوں میں بٹ گئی۔ ایک گروہ دائیں بازو کا، اور ایک گروہ بائیں بازو کا، اور دائیں بازو کی اپنی اقسام ہیں اور بائیں بازو کی اپنی۔ اگر امت نے اپنے بنیادی مرجع یعنی اپنی شریعت کو چھوڑ دیا جس کا اللہ نے اسے پابند کیا ہے، تو اُمت کبھی متحد نہیں ہوسکتی۔