لاکھوں کے قرض میں ڈوب گئے، بچوں کی شادیاں ملتوی کرنی پڑیں، ۱۲؍لاکھ سے زائد افراد متاثر ، گزشتہ سال بھی سیلاب اور شاہراہوں کے بند ہوجانے سے ۷۰۰؍ کروڑ کا نقصان ہواتھا۔
ژالہ باری۔ تصویر:آئی این این
اننت ناگ میں رہنےوالی گلشن بانو زمین پر گرے ہوئے سیب نہر میں پھینک رہی تھیں۔ان کا چار کنال (نصف ایکڑ) پر مشتمل باغ ہے۔۵؍ اور ۹؍ جون کی طوفانی بارش اور ژالہ باری نے ان کی۹۰؍ فیصد فصل تباہ کر دی ہے۔ سیب درختوں سے ٹوٹ کر گر گئے اور فروخت کے قابل بھی نہیں رہے۔گلشن کہتی ہیںکہ ’’یہی ہماری روزی روٹی کا واحد ذریعہ ہے۔ اس سال اچھی فصل کی امید تھی لیکن ۲۲؍ منٹ کے طوفان نے ہمارے تمام خواب توڑ دیئے۔ اکتوبر اور نومبر میں بیٹی کی شادی کا ارادہ تھا، لیکن اب لگتا ہے کہ اسے ملتوی کرنا پڑے گا۔‘‘کشمیر میں اس درد سے گزرنے والی گلشن اکیلی نہیں ہیں۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران ۷؍ مرتبہ ژالہ باری ہوئی، جس سے سیب کی صنعت سے وابستہ تقریباً۱۲؍لاکھ افراد کی روزی روٹی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ ہر سال کشمیر سے تقریباً۲۰؍ لاکھ میٹرک ٹن سیب ملک بھر میں بھیجے جاتے ہیں، لیکن اس سال۷؍لاکھ میٹرک ٹن سیب تباہ ہو چکے ہیں جس سے تاجروں اور باغبانوں کو۳۰۰؍ سے۴۰۰؍کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔شوپیاں میں فیاض احمد بھٹ کا آٹھ کنال یعنی ایک ایکڑ کا باغ ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’’۵؍سے ۶؍ بار ژالہ باری ہوچکی ہے۔ یہ سیب بی اور سی کیٹیگری میں بھی فروخت کے قابل نہیں رہے۔ درختوں پر بچے ہوئے پھل بھی کسی کام کے نہیں ہیں۔‘‘
وہ زمین پر پڑے سیب دکھاتے ہوئے کہتے ہیںکہ ’’ہر سیب پر نشان پڑ چکے ہیں، ایسے سیب بازار میں نہیں بکتے۔ جون میں پھل کا سائز بڑھنا شروع ہوتا ہےلیکن صرف۲۲؍ منٹ کی ژالہ باری نے سال بھر کی محنت برباد کر دی۔‘‘فیاض احمد کو مسلسل دوسرے سال نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ وہ بتاتے ہیں، ’’گزشتہ سال اچھی فصل ہوئی تھی، لیکن ہم اسے بازار تک نہیں پہنچا سکے۔ رام بن کے قریب جموں-سری نگر قومی شاہراہ تقریباً ڈیڑھ ماہ تک بند رہی، جس کی وجہ سے سیب باغات میں ہی خراب ہو گئے اور انہیں نالوں میں پھینکنا پڑا۔ اس سال بہت امیدیں تھیں، لیکن موسم نے سب کچھ تباہ کر دیا۔‘‘ اس سال فیاض احمدکوتقریباً ۳؍لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’انہوں نے مرکزی حکومت سے کشمیر کی سیب صنعت کیلئےخصوصی امدادی پیکیج، قرض معافی اور معاوضے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بچوں کی تعلیم جاری رکھنے اور زندگی گزارنے میں مدد مل سکے گی۔ اکثر کسانوں نے اچھی فصل کی امید میں کسان کریڈٹ کارڈ سے لاکھوں کاقرض لیاتھا جسے اگست تک واپس کرنا ہے۔
گزشتہ سال جموں کشمیر میں تقریباً۲۱؍ لاکھ میٹرک ٹن سیب پیدا ہوئے تھے۔سیلاب اور قومی شاہراہ کے ہونے کی وجہ سے۲۰۲۵ءمیں کشمیر کی سیب صنعت کو تقریباً ۷۰۰؍ کروڑ روپے کا نقصان ہوا تھا جبکہ اس سال ژالہ باری اور بارش نے تباہی مچادی۔ کشمیر فروٹ گروورس اینڈ ڈیلرس اسوسی ایشن کے صدر فیاض احمد ملک کا کہنا ہے کہ یہ سال کسانوں اور زراعت کیلئے آفت ثابت ہوا ہے۔ سیب کی باغبانی سے وابستہ ۱۲؍ لاکھ سے زائد افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں۔