ایئر انڈیا، ٹاٹا گروپ کے پاس لوٹ آئی، کیا مہاراجہ پھر اُڑان بھر سکے گا؟

Updated: November 04, 2021, 3:19 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

ٹاٹا گروپ کا نیٹ ورک ہندوستان ہی نہیں ، دنیا بھر کے معروف شہروں میں پھیلا ہوا ہے، اس کے تحت کئی کامیاب برانڈز ہیں جو ایئر انڈیا کے طیاروں کو دوبارہ بلندیوں پر لے جانے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں ۔

Representation Purpose Only- Picture INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

حکومت ہند نے گزشتہ جمعہ کو اعلان کیا کہ ٹاٹا گروپ نے قومی ایوی ایشن کمپنی ایئر انڈیا خریدنے کی بولی جیت لی ہے، اور اس طرح ایئر انڈیا کی باگ ڈور ایک مرتبہ پھر ٹاٹا گروپ کے ہاتھ میں آگئی ہے۔ بولی جیتنے کے بعد ٹاٹا گروپ کے سابق چیئرمین رتن ٹاٹا نے ٹویٹ کیا ’’ویلکم بیک، ایئر انڈیا!‘‘ اس خبر کے بعد ایئر انڈیا کے عملے نے بھی یقیناً راحت کی سانس لی ہوگی۔ گزشتہ کئی برسوں سے ایئر انڈیا خسارے میں ہے اور ملازمین کو وقت پر تنخواہیں بھی نہیں مل رہی ہیں ۔ اب عملے کو نئی انتظامیہ کے تحت کچھ اطمینان تو یقینی طور پر ملے گا۔ لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا ٹاٹاگروپ کی قیادت میں ایئر انڈیا اپنی کھوئی ہوئی ساکھ حاصل کرسکے گا؟ 
 جے آر ڈی ٹاٹا نے ۱۹۳۲ء میں ایئر انڈیا کی بنیاد رکھی تھی۔ ۱۹۵۳ء میں پنڈت جواہر لعل نہرو کی حکومت نے اس کمپنی کو ۲ء۸؍ کروڑ روپے میں خرید کر قومیا دیا تھا۔ تقریباً ۶۸؍ سال بعد یہ کمپنی ٹاٹا گروپ کے پاس لوٹ آئی ہے۔ گروپ کو حکومت کے ساتھ کئے گئے اس سودے کے لئے ۱۸؍ ہزار کروڑ روپے ادا کرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹاٹا گروپ نے ایئر انڈیا کو دوبارہ ایک بہتر ایئرلائن کمپنی بنانے کیلئے جو منصوبہ پیش کیا ہے وہ ایک کامیاب نجکاری کی مثال بن سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف گاہکوں ، ملازمین اور شیئر ہولڈروں کو فائدہ ہوگا بلکہ ملک کی پوری ہوائی صنعت میں بڑی تبدیلی رونما ہوگی۔ہم سب جانتے ہیں کہ ٹاٹا گروپ ایک کامیاب کاروباری ادارہ ہے جو ۱۸۶۸ء سے قائم ہے۔ اس کے تحت مختلف برانڈز ہیں ، اور تمام ہی منافع بخش کاروبار کررہے ہیں ، ان میں ٹاٹا پاور، اسٹار بکس، متعدد ہوٹلیں ، کنزیومر پروڈکٹس اور ٹاٹا موٹرس (جس میں جیگوار اور لینڈ روور جیسے عالمی برانڈ شامل ہیں )، کے نام قابل ذکر ہیں ۔ اس لئے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ ٹاٹا گروپ کی قیادت میں ایئر انڈیا ایک مرتبہ پھر کامیابی سے اڑان بھرنے کے قابل ہوسکے گی۔ 
 ایئر لائن کمپنیوں کیلئے سب سے اہم یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے پاس دستیاب ذرائع کی مدد سے زیادہ سے زیادہ سرمایہ حاصل کریں ، اور یہ ان کے طیاور ں اور مسافروں کی تعدادکے ذریعے انجام پاتا ہے۔ ہوائی جہازوں کا فضا میں ہونا ضروری ہے، اگر وہ زمین پر کھڑے رہے تو ایئر لائن کمپنیاں خسارے کا شکار ہوجائیں گی۔ ایئر انڈیا کے علاوہ ملک میں ۶؍ بڑی ایئر لائن کمپنیاں ہیں جن میں سب سے کامیاب انڈیگو کو خیال کیا جاتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق انڈیگو کا شمار ملک کی منافع بخش فضائی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ اس کا ایک طیارہ روزانہ اوسطاً ۱۳ء۵؍ گھنٹے پرواز کرتا ہے جبکہ ایئر انڈیا کا ایک طیارہ ایک دن میں ۴؍ گھنٹے بھی پرواز کرنے کیلئے سخت مشکلات کا سامنا کررہا ہے۔ اس بات سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ اس کمپنی کی حالت کتنی خستہ ہوچکی ہے جبکہ اب تک یہ ادارہ حکومت کی سرپرستی میں تھا او رحکومت کے ذرائع اور وسائل اگر لامحدود نہیں تو محدود بھی نہیں ہوتے۔ 
 بلاشبہ ٹاٹا گروپ کی انتظامیہ تجربہ کار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بحسن و خوبی اپنے تحت جاری مختلف برانڈز کے امور کامیابی سے سنبھال رہی ہے۔ تاہم، یہ گروپ، ایئر انڈیا کو اپنے ٹی سی ایس، ٹاٹا ہوٹلس، وستارا، ٹاٹا اسٹیس اور ٹی اے ایس جیسے برانڈز کی مدد سے مزید بہتر بناسکتا ہے کیونکہ ایسے ادارے فضائی کاروبار میں کسی نہ کسی طرح شامل رہتے ہیں ۔ ایئر انڈیا کا ٹاٹا کی ملکیت میں آنا خوش آئند ہے۔ اس سے ہوا بازی کی صنعت پر مثبت اثر پڑے گا۔ اگر کمپنی اپنی خدمات کو بہتر کرلے تو وہ برانڈز بھی اس کے ساتھ تال میل کرنے میں دلچسپی لیں گے جو ہوائی اڈوں پر تجارت کرتے ہیں ۔ ایئر انڈیا کی بہتر کارکردگی سے ہوائی اڈوں پر مسافروں کی نقل وحمل بڑھ سکتی ہے۔ اس کو ان بین الاقوامی کمپنیوں سے بھی مقابلہ کرنا ہے جو اپنی بہتر سروس کے سبب مسافروں کو اپنی جانب متوجہ کرلیتی ہیں مثلاً قطرایئرویز، امیرٹس وغیرہ۔ یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب ایئر انڈیا اپنے خرچ کو مد نظر رکھتے ہوئے پر کشش آفرس کے ذریعے مسافروں کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کرے گی۔ خیال رہے کہ ایوی ایشن انڈسٹری کا ملک کی معیشت پر گہرا اثر پڑتا ہے۔
 ٹاٹا گروپ نے اعلان کیا ہے کہ کم از کم پہلے سال کیلئے کمپنی کے پورے عملے کو برقرار رکھا جائے گا۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نئی انتظامیہ ایئر انڈیا کے موجودہ نظام کو سمجھنے پر یقین رکھتی ہے۔ اس کے ذریعے گروپ یہ معلوم کرنے کی کوشش کریگا کہ پرانے عملے کو برقرار رکھا جائے یا ناقص کارکردگی کے سبب اسے کمپنی چھوڑ دینے کیلئے کہا جائے۔ جن کو ملازمت کو الوداع کہنے کیلئےکہا جائے گا انہیں رضاکارانہ سبکدوشی کی مناسب اسکیم کی پیشکش کی جائے گی۔ اس نوع کی حکمت عملی سے ملازمین میں بہتر خدمات فراہم کرنے کیلئے صحت مند مقابلہ کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ ایئر انڈیا کے عملے کے پاس اپنی صلاحیتیں منوانے کیلئے ایک سال ہے اور ایک سال کم نہیں ہوتا۔ 
 ایک رپورٹ کے مطابق ایئر انڈیا کے ۲۵؍ ہزار ملازمین میں سے ۱۰؍ ہزار گزشتہ ۲؍ سال میں سبکدوش ہوچکے ہیں بقیہ ۱۵؍ ہزار میں سے تقریباً ۶۵۰۰؍ آئندہ ۳؍ برسوں میں ریٹائر ہوں گے، اس طرح پرانے عملے میں صرف ۷؍ ہزار ملازمین بچیں گے جن کی صلاحیتوں کی بنیاد پر کمپنی انہیں مزید بہتر پیکیج دے سکتی ہے۔ ۲؍ ہزار سے زائد تجربہ کار پائلٹ کمپنی کا بڑا اثاثہ ہیں جس کے ذریعے کمپنی اپنے کاروبار کو ایک نیا رخ دے سکتی ہے۔ علاوہ ازیں ، ممبئی ایئرپورٹ پر سالانہ ۴۳؍ ملین مسافر سفر کرتے ہیں ۔ آئندہ چند برسوں میں نوی ممبئی میں نیا ایئرپورٹ بننے کے بعد یہ تعداد بڑھ کر ۹۰؍ ملین سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ایئر انڈیا ایک منافع بخش کمپنی بن سکتی ہے۔
 ماہرین معاشیات اس بات پر متفق ہیں کہ ایئر انڈیا کو بچانے کیلئے نجکاری ہی واحد ذریعہ تھی، اور ٹاٹا گروپ نے اپنے وسیع نیٹ ورک کو مد نظر رکھتے ہوئے بالکل صحیح فیصلہ کیا ہے۔ ٹاٹا گروپ کا کاروبار دنیا کے معروف شہروں میں پھیلا ہوا ہے جو ایئر انڈیا کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ یہ ایک یا دو سال میں نہیں بلکہ آہستہ آہستہ ہوگا۔ اس میں سب کا فائدہ ہے، حکومت کا بھی، سرمایہ کاروں کا بھی اور مسافروں کا بھی۔ ٹاٹا نے اس میں طویل مدتی سرمایہ کاری کی ہے جس کا پھل اسے چند برسوں بعد ضرور ملے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK