اللہ کے رسولؐ اور صحابۂ کرامؓنے ہمیشہ اپنی استطاعت کے مطابق ضیافت کا اہتمام فرمایا اور کبھی بھی تکلف يا دکھاوے کا سہارا نہیں لیا۔ جہاں دعوتوں میں سادگی کی تاکید کی گئی، وہیں یہ بھی سکھایا گیا کہ کوئی، صرف ایک فرد کی دعوت کرنا چاہے تو اس میں بھی حرج نہیں۔
انسان کی جتنی حیثیت اور گنجائش ہو اسی کے مطابق دعوت کرنی چاہئے۔ تصویر: آئی این این
اسلام فطری، آسان اور معتدل دین ہے جو کسی بھی معاملے میں انسان پر اس کی طاقت و استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ ضیافت اور دعوت کا بنیادی مقصد باہمی تعلقات میں خوشگواری، رشتے داروں اور دوستوں کی تالیف ِ قلب اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکرادا کرنا ہے، نہ کہ فخر، نمائش یا مالی تباہی کا سبب بننا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں شادی بیاہ، نکاح اور ولیمے کی تقاریب دکھاوے اور رسم و رواج کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں۔ لوگ محض نام و نمود اور برادری میں اپنی ناک اونچی رکھنے کے لیے کثیر تعداد میں لوگوں کو مدعو کرتے ہیں۔ جن کی استطاعت نہیں ہوتی وہ بھی قرض لے لے کر یا اپنا اثاثہ بیچ کر بڑی بڑی دعوتوں کا اہتمام کرتے ہیں اور پھر مہینوں اور سالوں تک اس کی ادائیگی کی فکر میں گھلتے رہتے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف عقل و دانش کے خلاف ہے بلکہ روحِ شریعت کے بھی منافی ہے۔ سیرتِ طیبہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کی سب سے بابرکت ہستی، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنے سب سے بڑے ولیمے (حضرت زینب بنتِ جحشؓسے نکاح) میں بھی تقریباً تین سو صحابۂ کرامؓکی دعوت کی تھی، جبکہ دیگر ازواجِ مطہراتؓسے نکاح کے موقع پر محض چند صاع ستّو، کھجور، یا حیس (ایک قسم کا حلوا) پر ہی ولیمہ کیا تھا۔ اسی طرح جب حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓنے، جو مدینے کے امیر ترین تاجر تھے، شادی کی تو اللہ کے رسولؐ نے انہیں فرمایا: ’’ولیمہ کرو، خواہ ایک ہی بکری کا ہو۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: فتاوے: زوال کا وقت، تکبیر تحریمہ سے قبل ہاتھ باندھنا، اسلامی تقریبات میں غیر اسلامی اعمال
استطاعت و وسعت کا لحاظ ضروری
شریعتِ اسلامیہ کا یہ عالمگیر اور طے شدہ اصول ہے کہ کسی انسان کو اس کی وسعت سے زیادہ کا مکلف نہیں بنایا جاتا۔ قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’’اللہ کسی بھی شخص کو اس کی وسعت سے زیادہ ذمّےداری نہیں سونپتا۔‘‘ (البقرۃ) اسی طرح مالی معاملات اور اخراجات میں سادگی اور میانہ روی کی ہدایت دیتے ہوئے فرمایا گیا:’’ہر وسعت رکھنے والا اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے، اور جس شخص کیلئے اس کا رزق تنگ کردیا گیا ہو، تو جو کچھ اللہ نے اسے دیا ہے وہ اسی میں سے خرچ کرے، اللہ نے کسی کو جتنا دیا ہے، اس پر اس سے زیادہ کا بوجھ نہیں ڈالتا۔‘‘ (الطلاق)
دعوت و ضیافت کا معاملہ بھی اسی بنیادی اصول کے تابع ہے۔ انسان کی جتنی حیثیت اور گنجائش ہو اسی کے مطابق دعوت کرنی چاہئے۔ اگر کسی کے پاس صرف ایک یا دو افراد کو کھلانے کی گنجائش ہو تو اس کیلئے اتنی ہی دعوت کافی ہے اور یہ شرعی نقطۂ نظر سے سنت کے عین مطابق ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ڈیجیٹل تنہائی میں اللہ کی یاد ہی گناہوں سے بچاتی ہے!
عصرِ حاضر میں بدانتظامی اور اخلاقی کجی
آج کل ہماری تقریبوں اور دعوتوں میں میزبان اور مہمان دونوں کی طرف سے اخلاقی اور انتظامی کجی دیکھنے میں آتی ہیں، جو اسلام کی تعلیمات کے برعکس ہے؛ ایک طرف لوگ شادی بیاہ اور تقاریب میں بے شمار افراد کو دعوت دے دیتے ہیں، جن کی نہ تو ٹھیک سے دیکھ بھال ہو پاتی ہے اور نہ ان کا اکرام کیا جا سکتا ہے۔ میزبان کو یہ تک نہیں معلوم ہوتا کہ کون آیا اور کون نہیں۔ مہمان آتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ اس طرح میزبانی اور اکرامِ مسلم کا جو مقصد تھا، وہ فخر و نمائش کی نذر ہو کر رہ جاتا ہے۔ ضیافت کا مقصد محض کھانا کھلانا نہیں بلکہ مہمان کی قدر، توجہ اور خوش دلی سے پیش آنا ہے۔ دوسری طرف وہ مہمان جنہیں دعوت دی جاتی ہے وہ بھی اپنی اخلاقی اور شرعی ذمّے داری کا احساس نہیں کرتے۔ دعوت نامہ ملنے پر وہ زبانی طور پر ان شاء اللہ تو کہہ دیتے ہیں لیکن اپنی حاضری یا غیر حاضری کنفرم نہیں کرتے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بعض اوقات پورے گھرانے میں سے صرف ایک فرد آتا ہے جس سے بڑی مقدار میں کھانا بچ جاتا ہے اور رزق ضائع ہوتا ہے۔ اور بعض اوقات بغیر بتائے پورا کا پورا گھرانہ تشریف لے آتا ہے جس کی وجہ سے کھانا کم پڑ جاتا ہے اور تقریب میں بدانتظامی، ندامت اور میزبان کی رسوائی ہوتی ہے۔ حیرت اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں میزبان کا مہمان سے صاف صاف یہ کہنا کہ ’’آپ کے گھر سے صرف آپ کی دعوت ہے‘‘ یا یہ پوچھنا کہ’’کتنے افراد تشریف لائیں گے؟‘‘ اور مہمان کا کھل کر اپنی آمد سے آگاہ کرنا ’’عیب‘‘ اور ’’کم ظرفی‘‘ سمجھا جاتا ہے، جب کہ شریعت اور عقلِ سلیم کا تقاضا یہی ہے کہ انتظام کو درست رکھنے اور رزق کے اتلاف سے بچنے کیلئے باہمی گفتگو میں صفائی اور سچائی کا دامن تھاما جائے۔
حضورؐ کے ساتھ ایک واقعہ
اللہ کے رسولؐ اور صحابۂ کرامؓنے ہمیشہ اپنی استطاعت کے مطابق ضیافت کا اہتمام فرمایا اور کبھی بھی تکلف يا دکھاوے کا سہارا نہیں لیا۔ جہاں دعوتوں میں سادگی کی تاکید کی گئی، وہیں یہ بھی سکھایا گیا کہ کوئی، صرف ایک فرد کی دعوت کرنا چاہے تو اس میں بھی حرج نہیں۔ حضرت انسؓ بن مالک سے روایت ہے، نبی کریمؐ کا ایک فارسی پڑوسی شوربہ اچھا بناتا تھا، اس نے اللہ کے رسولؐ کیلئے شوربہ تیار کیا، پھر آکر آپؐ کو دعوت دی۔ آپ نے حضرت عائشہ ؓکی طرف اشارہ کرکے فرمایا : کیا ان کی بھی دعوت ہے ؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: پھر مجھے بھی تمہاری دعوت قبول نہیں۔ وہ دوبارہ آپؐ کو بلانے آیا۔ آپؐ نے فرمایا: کیاان کی بھی دعوت ہے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ آپؐ نے فرمایا:پھر نہیں۔ وہ پھر دعوت دینے کیلئے آیا۔ آپؐ نے فرمایا : کیاان کی بھی دعوت ہے؟ تیسری مرتبہ اس نے کہا : ہاں، ان کی بھی۔ پھر آپؐ دونوں ایک دوسرے کے پیچھے چل پڑے یہاں تک کہ اس کے گھر آگئے۔(مسلم)
یہ بھی پڑھئے:جب گھر کا ماحول سیرت ِ نبویؐ سے وابستہ ہو جائے
صرف ایک شخص کی دعوت کا ثواب
شارحینِ حدیث نے اس واقعے سے چند نکات اخذ کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان صحابیؓکے پاس صرف اتنی گنجائش اور کھانا تھا کہ وہ ایک شخص کی ضیافت کر سکتے تھے، اس لیے انہوں نے بغیر کسی جھجھک کے حضورؐ کی تنہا دعوت کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اپنی حیثیت کے مطابق ایک دو افراد کی دعوت کرنے میں کوئی عیب نہیں۔ نیز چونکہ ان کے پاس کھانا بہت مختصر تھا، اس لئے انہوں نے بغیر کسی جھوٹ یا مصنوعی تکلف کے سچائی کے ساتھ دو بار صاف منع کر دیا اور حضور نے اس پر برا بھی نہیں منایا۔ اسلام میں دعوت کی مقبولیت کا تعلق کھانے کی مقدار، ہجوم یا مہمانوں کی کثرت سے نہیں بلکہ نیت کے اخلاص اور حلال روزی سے ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ اعمال میں سے ایک یہ ہے کہ تم کسی مومن کو کھانا کھلاؤ! اس میں کہیں بھی یہ شرط نہیں کہ پورا محلہ یا سیکڑوں لوگ جمع کیے جائیں؛ ایک شخص کو بھی اگر اخلاص کے ساتھ کھلایا جائے تو وہ اللہ کے ہاں مقبول ہے۔
راہِ اعتدال
حضور پاکؐ نے حضرت صفیہؓکے ولیمے میں ستو اور کھجور کا اہتمام فرمایا، جبکہ حضرت زینبؓکے ولیمے میں روٹی اور گوشت کا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حالت اور استطاعت کے مطابق دعوت کی نوعیت بدل سکتی ہے اور کم سے کم پر بھی سنت ادا ہو جاتی ہے۔ شریعتِ اسلامیہ کا بتایا ہوا معتدل اور آسان راستہ یہ ہے کہ اگر گنجائش صرف ایک یا چند افراد کی ہے تو اتنے ہی لوگوں کو مدعو کیا جائے تاکہ اکرام اور دیکھ بھال ہو سکے اور میزبان اور مہمان دونوں کو چاہئے کہ تعداد کے معاملے میں صاف بات کرنے کو عیب نہ سمجھیں اور مہمان اپنی آمد اور افراد کی حتمی تعداد سے میزبان کو وقت پر مطلع کردے تاکہ کھانا ضائع ہونے یا کم پڑنے کی نوبت نہ آئے۔ اگر امت مسلمہ تمام تقاریب بالخصوص نکاح اور ولیمے میں تکلفات، دکھاوے، قرض کے رجحان اور باہمی غیر ذمّےدارانہ رویوں کو چھوڑ کر سادگی، سچائی اور اسوۂ نبویؐ کو اپنا لے تو نہ صرف معاشی بوجھ اور بدانتظامی سے نجات مل سکتی ہے بلکہ ہماری تقاریب میں حقیقی برکت، الفت اور عافیت کا دور دورہ ہو سکتا ہے۔