بدھا ئی ہو

Updated: March 15, 2020, 2:24 PM IST | Prof Syed Iqbal

جدید ٹیکنالوجی کی برکت سے آج بڑی عمرکے افراد بھی اولاد کی نعمت سے مالا مال ہورہے ہیں۔ کل تک جنہوں نے اپنے حالات پرصبر کرلیا تھا اور یہ سوچ لیا تھا کہ ان کی قسمت میں اولاد کا سکھ نہیں ہے، آج ان کے آنگن میںبھی بچوں کی کلکاریاں سنائی دیتی ہیں۔ آئی وی ایف کی تکنیک سے کافی لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں

Children - Pic : INN
چھوٹا بچا ۔ تصویر : آئی این این

 ہماری ایک عزیزہ تھیں، خوش شکل، ہنس مکھ اور صحت مند۔ ان کے میاں بھی اتنے ہی خوش شکل ، ہنس مکھ  اور صحت مند تھے۔ دونوں میں بڑا پیارتھا۔ نتیجتاً گھر میںخوشیوں کی ریل پیل تھی۔چونکہ ان کی شادی کم عمری میں ہوگئی تھی، اس لئے اللہ تعالیٰ نے کئی اولادیں بھی عطا کی تھیں۔ البتہ چالیس کے پیٹھے میں پہنچنے پر جب زچہ خانہ جانے لگیں تو بڑی نادم تھیں کیوں کہ انہی دنوں ان کی بڑی بیٹی بھی اسی مرحلے میں تھیں۔ خیر سے اولاد تو ہوگئی مگر انہوںنے اپنے قریبی عزیزوں کے علاوہ کسی کو خبر نہیں دی۔ سارا وقت انہیں یہی دھڑکا لگا رہا کہ اب لوگ باگ کیا کہیں گے۔ ادھیڑ عمری کی منزل کو پہنچ گئیں اورا بھی بھی....( ان دنوں ہندوستانیوںکی اوسط عمر کم ہوا کرتی تھی۔ عورتیں پینتالیس  پچاس میں رخصت  ہوجاتیں اور مرد مشکل سے پچاس سے کراس کرپاتے.... لیکن آج میڈیکل ٹیکنالوجی  نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ عام ہندوستانی عورت۷۰؍ (ستر)سال تک اور مرد۶۸؍  اڑسٹھ سال تک مزے سے جی لیتا ہے) لیکن یہ بات چھپتی کیسے ؟ آہستہ آہستہ سب کو پتہ چل گیا۔ بیبیوں نے چھیڑنا شروع کردیا۔ تم نے تو حد کردی۔اپنی عمر کا تو خیال کیا ہوتا۔ یہ عمر تو پوتوں اور نواںسوں کو کھلانے کی ہے اور تم ہو کہ ابھی تک پنگوڑا ہلارہی ہو۔  غریب یہ سب سنتیں اور خاموش رہتیں۔
 ہمارا معاشرہ بھی عجیب ہے۔ بچے نہ ہوںتو ہرکوئی ملامت کرتا ہے۔ نئی بہو سال دوسال میں ماں نہ بنے تو چہ میگوئیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ ڈھکے چھپے لفظوں میں یہاں تک کہہ دیاجاتا ہے کہ جلد سے جلد خوش خبری سناؤ ورنہ ہمارے بیٹے کیلئے دوسری لڑکی ڈھونڈنی پڑے گی۔ لڑکی کے ماں باپ اندیشوں اور وسوسوں کے پیش نظر اپنی بیٹی کا علاج کروانے لگتے ہیں۔ کبھی کسی حکیم کا نسخہ ، کبھی کسی آیورویدکا چورن۔ بات تعویذ گنڈوں سے لے کر مزاروں پر حاضری تک  پہنچ جاتی ہے اور سارا معاشرہ اس غریب لڑکی کو الزام دینے لگتا ہے جس کا اپنے جسم پر کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ اس سارے ہنگامے میں کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ خرابی مرد میں بھی ہوسکتی ہے۔ لوگ اس قادر مطلق کو بھول جاتے ہیں جو اپنے بندوں کے لئے ہر طرح کے فیصلے کرتا ہے۔ اگرکسی عورت کی قسمت میں بانچھ ہونا لکھا ہے تویہ اسی کی مصلحت ہے اورکہیں اولادوں کی کثرت ہے تویہ بھی اسی کی مصلحت ہے۔
  حال ہی میں اس موضوع پر ایک فلم( بدھائی ہو)ریلیز ہوئی تھی جس نے باکس آفس پر خوب بزنس بھی کیا۔ کسی گھرانے میں ادھیڑ عمر کی ایک خاتون کو اچانک احساس ہوتا ہے کہ وہ اُمید سے ہے۔بڑے دنوں تک تو وہ یہی سمجھتی رہتی ہے کہ اس کی طبیعت ناسازہے مگر جب ڈاکٹر تصدیق کردیتے ہیں تو گھر میں ایک ہنگامہ شروع ہوجاتا ہے۔ بوڑھی ساس، اس ’بغاوت‘ پر اسے برا  بھلا کہنے لگتی ہے اور نوجوان بیٹے بھی اس ’حادثے‘ پر ناراض ہوجاتے ہیں۔ وہ اپنے باپ کو بھی نہیں بخشتے کہ اس عمرمیں انہیں باپ بننے کی کیا ضرورت تھی؟ دراصل اس فلم کی تحریک ان بڑی عمرکی عورتوں سے ملی جنہوںنے برسوں انتظار کرکے  بالآخر’آئی وی ایف‘ نامی جدیدٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا اور ماں بن گئیں۔
  ۸۰؍ سالہ راجہ راؤ کی شادی کو ۵۷؍ سال ہوچکے تھے اور ابھی تک اولاد سے محروم تھے۔ انہوں نے اپنی ۷۴؍ سالہ بیوی ( اِراماتی) کو سمجھایا کہ ہم چاہیں توآئی وی ایف کے توسط سے اولاد کی نعمت حاصل کرسکتے ہیں۔ اراماتی جو برسوں سے ماں بننے کی خواہش کو دبائے ہوئے تھی ، فوراً راضی ہوگئیں۔ ’اہلیہ نرسنگ ہوم‘ ( گنٹور) کے ڈاکٹروں کا کمال ہی سمجھا جائے کہ آج یہ جڑواں بچوں کے ماں باپ ہیں۔ قدرت کا کرشمہ دیکھئے کہ۸۰؍ سالہ راجودیوی لوہان کو ماں بننے کیلئے ۶۰؍ سال تک انتظار کرنا پڑا، جب ان کے شوہر بالا رام لوہانی نے اخبار  میں ’حصار‘ کے کلینک کی خبر پڑھی تو میاںنے فوراً فیصلہ کیا کہ اب انہیں جلداز جلد کلینک پہنچنا چاہئے۔ ۱۰؍ سال قبل یہ خاصا انقلابی قدم تھا مگر میاں بیوی کی ہمت کے سبب آج ان کی  بیٹی نوین ۱۱؍ سال کی ہوچکی ہے۔ امرتسر کی۷۲؍ سالہ دجیندر کور بھی بے حد خوش ہیں کہ ان کے ہاں ارمان ایسا بیٹا تو لد  ہوا جو ماں باپ کی آنکھوں کا تارہ ہے اور پچھلے تین برسوں سے اس نے اپنے ماں باپ کی زندگی بدل دی ہے۔ 
  سب سے دلچسپ کہانی بھیتری دیوی کی ہے جن کے ہاں ۵۰؍ سال بعد بچوں کی آوازسنائی دی.... اور وہ بھی ایک  نہیں بلکہ بیک وقت تین بچوں کی ۔ بدقسمتی  سے ایک لڑکا زندہ نہ رہا مگرایک بیٹا اور بیٹی آج بھی حیات ہیں اوراسکول جانے لگے ہیں۔ بھیتری اوران کےشوہر دیواسنگھ کے پاس قدرت کا دیا سب کچھ تھا... نہیں تھے تو بچے جن کی کلکاریاں سننے کیلئے وہ برسوں سے بے چین تھے۔ دیواسنگھ پچھلے سال گزرچکے مگر جب تک وہ زندہ رہے بچوں کی ہر خواہش پوری کی  ۔ بھیتری اپنے گاؤں والوں کے طعنے سن سن کر عاجز آچکی تھیں۔ ابتدا میں تو لوگ ’ خوش خبری ‘ سننے کے بہانے ٹوہ میں لگے رہتے لیکن جب عمر بڑھنے لگی تو طعن وتشنیع میں بھی اضافہ ہونے لگا۔ وہ لوگوں سے کیا کہتیں کہ ایک بے اولاد عورت کا دکھ کوئی نہیں جانتا۔بچوں کے بغیر زندگی کتنی بے رونق اور خشک ہوتی ہے، یہ وہی جان سکتے ہیں جن کے ہاں بچے نہیں ہیں۔ اس لئے جس دن انہیں پتہ چلا کہ حصارمیں کوئی کلینک ہے، جہاں نئی میڈیکل تکنیک سے بڑی عمر کے افراد بھی ماں باپ بن سکتے ہیں تو انہوںنے وقت ضائع کئے بغیر وہاں کا سفر کیا اوراپنی کل جمع پونجی(۷؍ لاکھ روپے) اسپتال والوں کے قدموں میں رکھ ردی ۔ خوش قسمتی  سے جب  بچے تولد ہوئے تو  رات رات بھر جاگ کر ان کا خیال رکھا، پانی بھی ابال کر پلایا اورانہیں صاف ستھرا رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔  یہ بھیتری دیوی کی محنت کا نتیجہ ہے کہ آج ان کے بچے انگریزی اسکول میں پڑھ رہے ہیں اور ان کی دیکھا دیکھی آس  پاس کے کئی عمررسیدہ افراد نے حصارکے کلینک میں نام لکھادیاہے۔
  جب انڈین کاؤنسل آف میڈیکل ریسرچ کو ان خواتین کی ماں بننے کی کوششوں کا پتہ چلا تو وہ بڑی ناراض ہوئی۔ اس نے ایسے سارے کلینک بند کرنے کے احکام جاری کردیئے۔ اس کا موقف یہی تھا کہ آئی وی ایف تکنیک کا عمل عمر رسیدہ  افراد کیلئے جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے لیکن جب انہوںنے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ پچھلے ۱۰؍ برسوں میں پچاس سے زیادہ عمررسیدہ عورتوں نے آئی وی ایف تکنیک کا استعمال کیا ہے اور سارے ملک میں ایک لاکھ سے زائد خواتین مختلف اسپتالوں میں اس تکنیک کیلئے درخواست دے چکی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آپ’عمررسیدہ‘ کسے کہیں گے؟ ۵۰؍ سالہ خاتون عمر رسیدہ ہے یا  ۶۰؍ سال سے اوپر والی خاتون  عمر رسیدہ کہلائے گی؟ بہرحال ، ۲۰۱۱ء تک یہ طے کرلیا گیا کہ ۴۵؍ سال سے زائد عمر والی خواتین کو آئی   وی ایف سے استفادے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ویسے مرکزی سرکار نے ایک بل بھی تیارکرلیا ہے۔ 
 Assisted Reproductive Technology Billمگر نہ اس پر خاطر خواہ بحث ہوئی، نہ مختلف مکاتب فکر سے رائے طلب کی گئی۔ غرض یہ بل ابھی تک سرد خانے میں قید ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ اس مسئلے پر حکومت کی حتمی رائے کیا ہے؟ چونکہ اس ضمن میں ابھی تک کوئی قانون نہیں بنا، اس لئے کسی کلینک کے خلاف کارروائی کا بھی امکان نہیں۔ نتیجے میں ڈاکٹر صاحبان اپنے طور پر فیصلے کرتے ہیں۔ انہیں نہ کسی سرکاری ادارے کی طرف سے سرزنش کا خوف ہے، نہ یہ ڈر کہ ان کا رجسٹریشن کینسل ہوجائے گا۔ ویسے بھی اولاد کے خواہش مند افراد کلینک  کا رجسٹریشن نمبر نہیں دیکھتے۔ وہ تو اس مسیحا کی تلاش میں آتے ہیں جو اُن کی ماں بننے کی آرزو پوری کرنے تیار ہو۔  پھر چاہے عمر رسیدہ خاتون کو ایورسٹ کی چوٹی پر کیوں نہ چڑھنا پڑے۔ وہ ہنسی خوشی راضی ہوجاتی ہے۔
  اس تکنیک کی مقبولیت کی ایک وجہ اوربھی ہے۔ ہمارے  ہاں بے اولاد والدین کسی یتیم اور بے سہارا بچے کو گود لینا پسند نہیں کرتے۔ انہیں اپنے غریب رشتہ داروں کے بچوں کا خیال نہیں آتا بلکہ اولاد کی لالچ میں نوجوان لڑکی کو بیاہ لاتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی برسوں کی رفیق سفر نے ان پر کتنے احسانات کئے ہیں اور وہ کن کن آزمائشوں  سے گزری ہیں۔  اب تو  معاشرے میں یہ چلن بھی عام ہونے لگا ہے کہ نوجوان جوڑے ابتدائی دنوں میں  بچوں کی آمد پر رو ک لگا دیتے ہیں تاکہ اپنے کریئر کو مستحکم کرسکیں۔ ان حالات میں کچھ بے اولاد افراد آئی وی ایف کا استعمال کرکے اولاد کی نعمت سے بہرہ ور ہوسکیں تو کوئی بری بات نہیں۔ ہاں بڑی عمر میں بچوں کی آمد عجیب ضرور لگتی ہے مگر تعلیم کا فروغ اور  فارغ البالی کا دور رفتہ رفتہ اس سوچ کو بھی بدل دے گا۔ بس یہ خوف دامن گیر  رہتا ہے کہ کیا بوڑھے والدین اپنے کم عمر بچوں کی ترقی دیکھنے تک زندہ رہ پائیں گے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK