• Sat, 31 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گناہ اور گناہ کی طرف لیجانے والے راستوں سے بھی بچئے

Updated: October 31, 2026, 4:38 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai

لاعلمی یا دنیاداری میں اکثر افراد نے زندگی کے ایک نہیں، بے شمار شعبوں میں گناہوں سے سمجھوتہ کر رکھا ہے، پڑھئے وہ سمجھوتہ کس طرح کا ہوتا ہے!

It often happens that religious obligations are forgotten amidst business preoccupations; over time, this attitude becomes a habit, and one ceases to pay any attention to the fulfillment of these duties. Picture: INN
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کاروباری مصروفیات میں دینی فرائض کو فراموش کردیا جاتا ہے، یہی رویہ آگے چل کر عادت بن جاتا ہے اور فرائض کی ادائیگی پر توجہ ہی نہیں رہتی۔ تصویر: آئی این این

آج ہمارے معاشرے کے ایک بڑے طبقے کے اندر یہ خطرناک رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے کہ وہ وقتی فائدے، معمولی منفعت یا کسی دنیاوی مصلحت کے حصول کے لیے غیر شرعی اعمال کا ارتکاب یہ سوچ کر کر گزرتے ہیں کہ ابھی تو فائدہ اٹھا لیا جائے، بعد میں توبہ کرکے اپنی زندگی کو پاک صاف کرلیں گے۔   حقیقت میں یہ نفس کا ایک ایسا فریب ہے جو انسان کو گناہ کی دلدل میں دھکیل دیتا ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے گناہ کررہا ہے اور جب چاہے گا اس سے کنارہ کش ہوجائے گا، حالاں کہ رفتہ رفتہ گناہ اس کی عادت، عادت اس کی طبیعت اور طبیعت اس کے کردار کا حصہ بن جاتی ہے۔ پھر وہی انسان جو کبھی گناہ کے بعد ندامت محسوس کرتا تھا، آہستہ آہستہ اس کے احساسِ ندامت کی شدت کم ہونے لگتی ہے، یہاں تک کہ گناہ اسے گناہ محسوس ہونا بھی بند ہوجاتا ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال کاروبار، ملازمت اور دیگر مصروفیات میں مشغول ان لوگوں کی ہے جو بلا کسی شرعی عذر کے نماز کو اس کے مقررہ وقت سے مؤخر کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ کبھی نماز قضا بھی ہوجاتی ہے۔ ابتدا میں وہ سوچتے ہیں کہ آج کاروبار کی مجبوری ہے، کل سے پابندی کریں گے؛ لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ یہ وقتی سمجھوتہ رفتہ رفتہ مستقل غفلت میں تبدیل جاتا ہے۔ 

پھر نماز کے اوقات کی پابندی غیر ضروری محسوس ہونے لگتی ہے اور دنیاوی مصروفیات، اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری کے جذبہ پر غالب آجاتی ہیں۔ حالاں کہ نماز کو وقت پر ادا کرنا ایک شرعی ذمہ داری ہی نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی قربت، روحانی بالیدگی اور بندگی کے اعلیٰ مراتب حاصل کرنے کا عظیم ذریعہ بھی ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: ’’بے شک نماز مومنوں پر مقررہ اوقات میں فرض ہے۔‘‘ (سورۃ النساء:۱۰۳)  

یہ بھی پڑھئے:بھولئے مت کہ بُری صحبت سے تنہائی بہتر، بُری بات سے خاموشی بہتر ہے

جب ہم موجودہ دور میں مسلمانوں کے حالاتِ زندگی، ان کے معاشرتی رویوں اور روزمرہ کے معاملات کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے لوگوں نے زندگی کے ایک نہیں، بے شمار شعبوں میں گناہوں سے سمجھوتہ کر رکھا ہے۔ شادی بیاہ کی تقریبات میں فضول خرچی، نمائش، بے جا رسوم اور دوسروں کی برابری کرنے کی اندھی دوڑ کو سماجی وقار کا نام دے دیا گیا ہے؛ وعدہ خلافی کو معمولی بات سمجھا جاتا ہے، جھوٹ بولنے، غیبت کرنے، بہتان لگانے اور دوسروں کی عزت اچھالنے کو بعض محفلوں میں تفریح کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے۔ کاروبار میں ناپ تول کی کمی، دھوکا دہی، ناجائز منافع خوری اور حق دار کا حق دبانے کو ہوشیاری اور کاروباری مہارت قرار دیا جاتا ہے۔ کہیں ملازم کی محنت کا پورا معاوضہ ادا نہیں کیا جاتا، کہیں وراثت میں بہنوں اور بیٹیوں کے شرعی حقوق غصب کرلئے جاتے ہیں اور کہیں کسی کمزور کی مجبوری سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ سودی لین دین کے معاملے میں بھی لوگ اپنی سہولت، ضرورت یا دنیاوی مفاد کو سامنے رکھ کر شرعی احکام کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگ ان اعمال کی قباحت سے ناواقف نہیں ہوتے، بلکہ جانتے بوجھتے ہوئے اپنے لیے جواز تلاش کرتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ زمانہ ہی ایسا ہے، کوئی کاروبار کی مجبوری کا عذر پیش کرتا ہے، کوئی معاشرتی رسم و رواج کو دلیل بناتا ہے، اور کوئی یہ سوچ کر اپنے دل کو مطمئن کرلیتا ہے کہ سبھی تو ایسا کررہے ہیں۔ لیکن کیا کسی غلط عمل کا عام ہوجانا اسے صحیح بنا دیتا ہے؟ کیا معاشرے کا رواج اللہ تعالیٰ کے حکم سے زیادہ اہم ہوسکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ گناہوں سے سمجھوتے کی یہ فہرست بہت طویل ہے اور اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان کے دل سے برائی کی نفرت اور نیکی کی عظمت بتدریج کم ہونے لگتی ہے۔ 

شریعت ِ اسلامیہ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مومن کو صرف گناہ کے ارتکاب سے ہی نہیں بچنا چاہئے، بلکہ اسے ان راستوں اور اسباب سے بھی دور رہنے کی کوشش کرنی چاہئے جو گناہ تک پہنچاتے ہیں۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:’’اور بے حیائی کے کاموں کے قریب بھی نہ جاؤ، خواہ وہ کھلے ہوں یا چھپے۔‘‘ (سورۃ الانعام:۱۵۱) اسی طرح ایک اور جگہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے شک وہ بے حیائی ہے اور بہت برا راستہ ہے۔‘‘ (سورۃ الاسراء:۳۲)  یہی اصول ہمیں زندگی کے دیگر معاملات میں بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے کہ گناہ کے ماحول، اس کی ترغیبات اور اس کے اسباب سے حتی الامکان دور رہیں۔ 

نبی اکرم ﷺ نے بھی اس حقیقت کو نہایت جامع انداز میں بیان فرمایا: ’’حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے، اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے۔‘‘ پھر آپؐ  نے فرمایا کہ جو شخص مشتبہ امور سے بچ گیا، اس نے اپنے دین اور عزت کو محفوظ کرلیا۔ (صحیح البخاری) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک باشعور مومن صرف یہ نہیں دیکھتا کہ کوئی کام بظاہر جائز ہے یا ناجائز، بلکہ وہ اپنے دین کی سلامتی کے لئے مشتبہ اور خطرناک راستوں سے بھی احتیاط برتتا ہے۔ جب معاملہ واضح طور پر حرام ہونے کا ہو تو اس کے لئے تاویلیں تلاش کرنا اور وقتی فائدے کی خاطر اس کا ارتکاب کرنا ایمان کی روح کے خلاف ہے۔ تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ انسان گناہ کے دروازے پر پہنچ کر خود کو روک لے، نہ کہ اس کے اندر داخل ہونے کے بعد واپسی کا راستہ تلاش کرتا پھرے۔ اس لئے عقل مندی اس میں نہیں کہ انسان پہلے اپنی روح کو گناہوں سے آلودہ کرے اور پھر اس کی صفائی کی فکر میں مبتلا ہو، بلکہ اصل دانائی یہ ہے کہ دل، زبان، نگاہ، ہاتھ اور کردار کو ابتدا ہی سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی جائے۔

اس پس منظر میں ہماری اولین ذمہ داری یہ ہے کہ ہم شعوری طور پر کسی غیر شرعی عمل کا ارتکاب نہ کریں اور اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنے کا پختہ عزم پیدا کریں۔ ایک سچے مومن کی شان یہ نہیں کہ وہ جان بوجھ کر گناہ کا راستہ اختیار کرے اور پھر توبہ کو مستقبل کی کسی نامعلوم تاریخ کے لیے محفوظ کرلے، بلکہ اس کی شان یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے اپنے نفس، خواہشات، مفادات اور دنیاوی لالچ کو جھکا دے۔ 

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ گناہوں سے سمجھوتہ انسان کو بظاہر وقتی فائدہ، معمولی راحت اور دنیاوی منفعت تو دے سکتا ہے، لیکن اس کے بدلے وہ اپنے دل کا سکون، ضمیر کی بیداری، روح کی پاکیزگی اور آخرت کی کامیابی کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ انسان گناہ کو اپنے اختیار میں اور توبہ کو اپنے مستقبل کا یقینی حصہ سمجھنے لگتا ہے، حالاں کہ نہ زندگی کا کوئی بھروسہ ہے اور نہ توبہ کی توفیق پر کسی کا اختیار۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی زندگی کا بے لاگ محاسبہ کرتے رہیں!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK