• Sat, 31 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھولئے مت کہ بُری صحبت سے تنہائی بہتر، بُری بات سے خاموشی بہتر ہے

Updated: October 31, 2026, 4:35 PM IST | Dr. Muhammed Junaid Nadvi | Mumbai

نبیؐ کریم کے چار جامع ارشادات۔ اِسلام نے زندگی کے ہر پہلو میں اِنسان کی رہنمائی کی ہے، ارشاداتِ نبوی رشد و ہدایت کا منبع ہیں، ان کا بار بار مطالعہ کرنا اور ان پر عمل کرنا دنیا و آخرت کی کامیابی کا راز ہے۔

Urging people toward goodness and virtue is a better course of action than remaining silent. Image: INN
خاموشی اختیار کرنے کے مقابلے میں لوگوںکو نیکی اور بھلائی کی تلقین کرناایک احسن عمل ہے۔ تصویر: آئی این این

حضرت عمران بن حطاّن تابعی ؒ رو ایت کرتے ہیںکہ ایک روز مَیں حضرت ابو ذر غفاریؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ وہ ایک کالی کملی لپیٹے ہوئے مسجد میں با لکل اکیلے بیٹھے ہیں۔ میںنے عرض کیا: ’’ اے ابوذر! یہ تنہائی اور یکسوئی کیسی ہے (یعنی آپ نے اِس طرح اکیلا اور سب سے الگ تھلگ رہنا کیوں اختیار فرمایا ؟‘‘ تو جواب ملا: میں نے سرکار دو عالمؐ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ’’ برے ساتھی کی ہم نشینی سے اکیلے رہنا اچھا ہے، اور اچھے ساتھی کے ساتھ بیٹھنا تنہائی سے بہتر ہے، اور کسی کو اچھی باتیں بتانا خاموش رہنے سے بہترہے، اور بری باتیں بتانے سے خاموش رہنا بہتر ہے۔ ‘‘ (شعب الایمان البیہقی)

ہادیِ اعظمؐ کے اِس حکیمانہ اور جامع ارشادِ مبارکہ سے ہر مسلمان مرد و عورت کو چار اہم ہدایا ت مل رہی ہیں۔ آئیے! اِن چار اہم ہدایا ت کو ہا دیِ اعظمؐ کی چند دیگر ہدایاتِ عالیہ کی روشنی میںسمجھنے کی کوشش کریں:

بری رفاقت سے تنہائی بہتر ہے

آپؐ کی سب سے پہلی ہدایت تویہ ہے کہ برے لوگوں کی صحبت میں بیٹھنے کے مقابلے میںتنہائی اختیار کر لینا مفید ہے۔ اوراِس کی وجہ بھی اللہ کے رسول ؐ نے ایک حکیمانہ مثال سے سمجھا  دی کہ ’’اچھے او ر برے دوست کی مثال مشک بیچنے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے۔ مشک بیچنے والے کی صحبت سے تم کو کچھ فائدہ پہنچے گا، یا تو مشک خریدو گے یا مشک کی خوشبو پاؤ گے لیکن لوہار کی بھٹی تمہارا گھر یا کپڑے جلائے گی یا تمہارے دماغ میں اِس کی بدبو پہنچے گی۔‘‘ (بخاری، مسلم) اسی لئے حضور اکرمؐنے یہ بھی فرمایا ہے کہ ’’آدمی اپنے  دوست کے دین پر ہوتا ہے، اِس لئے ہر آدمی کو دیکھنا چاہئے کہ وہ کس سے دو ستی کر رہا ہے۔‘‘ (مسند احمد‘ مشکوٰۃ)

یہ بھی پڑھئے: مسائل، مصائب، مشکلات اور آزمائش میں ثابت قدم رہنا یعنی کیا؟

 ایک موقع پر اللہ کے رسول ؐنے حضرت ابو ذر غفاریؓ سے فرمایا: ’’اے ابو ذر! کیا میں تمہیں دو خصلتیں نہ بتادوں جنہیں اختیار کرنے سے آدمی پر کچھ زیادہ بوجھ نہیں پڑتا مگر اللہ کے میزان میں وہ بہت بھاری ہوتی ہیں؟‘‘ حضرت ابوذر غفاریؓ نے عرض کیا: ’’کیوں نہیں؟ یا رسولؐ اللہ! وہ دونوں خصلتیں ضرور بتائیے۔‘‘ آپؐ نے فرمایا:ـ’’زیادہ خاموش رہنے کی عادت اور حسنِ خلق۔‘‘ (پھر فرمایا) ’’قسم ہے اُس ذ اتِ پاک کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، مخلوقات کے عمل میں یہ دونوں چیزیں بے مثا ل ہیں۔ ‘‘ (شعب الایمان‘ البیہقی)

 نبی مکرمؐکے اِن حکیمانہ اور جامع ارشادات  مبارکہ سے معلوم ہوا کہ برے لوگوں کی صحبت میں بیٹھنے کے مقابلے میں تنہائی اختیارکرلینافائدہ کا فیصلہ ہے۔

اچھوں کا ساتھ 

دوسری ہدایت یہ ہے کہ تنہا ئی اختیار کرنے کے مقابلے میں اچھے مسلمانوں کی صحبت میں بیٹھنا زیادہ سود مند ہے۔ اس کی وجہ بھی اللہ  کے رسولؐ   نے ایک حکیمانہ مثال سے اُس موقع پرسمجھا دی جب کسی نے حضو ؐر سے پوچھاکہ ’’ہم نشین کیسے ہوں، کن لوگوں کی صحبت میں بیٹھیں؟‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’اُن لوگوں کی صحبت میں بیٹھو جن کو دیکھ کر خدا یاد آئے،  جن کی گفتگو سے تمہاری دینی معلومات میں اضافہ ہو اور جن کا عمل تمہیں آخرت یاد دلائے۔‘‘ (عبداللہ ابن عباس،ترغیب وترھیب )

اِس ہدایت کی مزید تاکید کیلئے ایک اور موقع پر فرمایا: ’’تم کسی مومن ہی کواپنا ساتھی بناؤ اور متقی شخص کے سوا کسی اور کو کھانا نہ کھلاؤ‘‘ (یعنی  فاسق اور فاجر آدمی کو دعوتِ طعام نہ دو)۔‘‘(عن ابو سعید خدریؓ ، ترغیب وترھیب ،بحوالہ صحیح ابن حبّان)۔ نبی مکرم ؐکے اِن حکیمانہ اور جامع ارشادات مبارکہ سے معلو م ہوا کہ تنہائی اختیار کرنے کے بجائے اچھے مسلمانوں کا ساتھ دینا چاہئے۔ اِس کے نتیجے میں، محبت، بھائی چارے اورنیک اعمال میں اضافہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھئے: مسجد کیلئے وقف زمین سے حاصل ہونے والی آمدنی پر کسی بندے کا کوئی حق نہیں، وہ خالص اللہ کی ملک ہے

نیکی کی تلقین

تیسری ہدایت یہ ہے کہ لوگوںکو نیکی اور بھلائی کی تلقین کرنا، خاموشی اختیا ر کرلینے کے مقابلے میںزیادہ بہتر ہے۔ قرآن مجید میںبھی اللہ تعالیٰ نے اِس  کی ہدایت اِن الفاظ میںکی ہے: ’’ اور لوگوں سے اچھی بات کرو۔‘‘ (سورہ البقرہ: ۸۳) 

حضور اکرمؐ نے اِس بات کو ایک اور انداز سے سمجھایا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’بلاشبہ بندہ اللہ کی خوشنودی کی کوئی ایسی بات اپنی زبان سے کہہ دیتا ہے جس کی طرف اُس کا دھیان بھی نہیں ہوتا اور اُس کلمے کی بدولت اللہ تعالیٰ اُس کے درجات بلند فرمادیتا ہے۔‘‘ 

(عن ابوہریرہؓ، بخار ی، مشکوٰۃ)  

خاموشی اختیار کرنے کے مقابلے میں لوگوںکو نیکی اور بھلائی کی تلقین کرناایک احسن عمل ہے۔

ایک روز اللہ کے رسولؐ  نے اپنے خطبہ میں کچھ افراد کی تعریف فرمائی (جو دوسروں کو دین کی باتیں بتاتے تھے)  پھر فرمایا: ’’ایسا کیوں ہے کہ کچھ لوگ اپنے پڑوسیوں میں دینی سوجھ بوجھ پیدا نہیں کرتے؟ اُن کو تعلیم نہیں دیتے؟ اُن کو نصیحت نہیں کرتے؟ بری باتوں سے کیوں نہیں روکتے؟‘‘ پھر فرمایا: ’’ اور ایسا کیوں ہے کہ کچھ لوگ دین کی باتیں نہیں سیکھتے؟کیوں اپنے اندردینی شعور پیدا نہیں کرتے؟ کیوں دین نہ جاننے کے نتائج معلوم نہیں کرتے؟ خدا کی قسم! لوگوں کو آس پاس کی آبادی کو دین سکھانا ہوگا، اُن کے اندر دینی شعور پیدا کرنا ہوگا، وعظ و تلقین کاکام کرنا ہوگا، اور لوگوں کو لازماً اپنے قریب کے لوگوں سے دین سیکھنا ہو گا، اپنے اندر دینی سمجھ بوجھ پیدا کرنی ہوگی اور وعظ و نصیحت قبول کرنی ہوگی۔‘‘ 

(عن ابو موسیٰ الاشعریؓ، الطبرانی)

نبی مکرمؐ، سرکار دو عالمؐ کے اِن حکیمانہ ارشادات مبارکہ سے معلو م ہواکہ لوگوںکو نیکی اور بھلائی کی تلقین کرنا، خاموشی اختیا ر کر لینے کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہے۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ صرف وہی بات کرتے تھے جس پر آپ ؐ کو ثواب کی امید ہوتی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: دین محض معلومات کا مجموعہ نہیں بلکہ علم، فہم، تحقیق اور جوابدہی کا نام ہے

بُری بات سے خاموشی بھلی

چوتھی ہدایت یہ ہے کہ بدی اور برائی کی طرف مائل کرنے والی گفتگو کے مقابلے میں خاموشی اختیار کر نا زیادہ اچھا اور فائدہ مند عمل ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اِس طرح کی گفتگو کے نقصانات کو ان الفاظ میںبیان کیا ہے: ’’ کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا جسے محفوظ کرنے کیلئے ایک حاضر باش نگراں موجود نہ ہو۔‘‘(سورہ قٓ: ۱۸) اِس لئے ہر شخص کو چاہئے کہ کوئی با ت منہ سے نکالنے سے پہلے اچھی طرح یاد رکھے کہ وہ نوٹ ہو رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے یہاں اِس کا لازماً حساب بھی دینا ہو گا۔

حضوراقدسؐ نے اِس بات کو ایک اور انداز سے سمجھایا ہے۔ آپؐ نے فرمایا:’’بلاشبہ بندہ اپنی زبان سے کبھی اللہ کی ناراضی کا کوئی ایسا کلمہ کہہ گزرتا ہے جس کا اُسے خیال بھی نہیں ہوتا اوروہ کلمہ اُسے جہنم میںگرادیتا ہے۔‘‘ (عن ابوہریرہؓ، بخاری‘ مشکوٰۃ) ایک اور موقع پر آپؐ نے فرمایا: ’’بلاشبہ انسان اپنی زبان سے اتنا زیادہ پھسل جاتا ہے،جتنا اپنے قدم سے بھی نہیں پھسلتا۔‘‘ (عن ابوہریرہؓ، بیہقی، مشکوٰۃ )

بدی اور برائی کی طرف مائل کرنے والی گفتگو کے بارے میں ہا دیِ اعظم ؐکی چند اور ہدایات عالیہ ملاحظہ کیجئے جو آپؐ نے مختلف مواقع پرعطا فرمائی ہیں ۔ آپؐ نے فرمایا:  ’’فضو ل باتیں کرنے والے اور یاوہ گوئی کرنے والے میری اُمت کے بد ترین لوگ ہیں۔‘‘

(موطا امام مالک‘ ابوداؤد)

ایک اور موقع پرفرمایا: ’’جو شخص مجھے اپنے دونوں کلّوںکے درمیان والی چیز (یعنی زبان) اور اپنی دونوں رانوں کے درمیان والی چیز(یعنی شرم گاہ )کی حفاظت کرنے کی ضمانت دے دے گا میں اُسے جنت کی ضمانت دے دوں گا۔‘‘ (عن سہل بن سعدؓ، بخاری‘ مشکوٰۃ)۔ 

یہ بھی پڑھئے: بدلتے سکے، بدلتا زمانہ اور اصحابِ کہف کا پیغام

فرمایا:’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اورہاتھ سے مسلمان ایذا نہ پائیں۔‘‘  (عن عبداللہ بن عمروؓ، بخاری )

 اسی طرح ایک اور موقع پرآپؐ نے فرمایا: ’’جو شخص اللہ اور روزِآخرت پر یقین رکھتا ہے، اُس کو چاہئے کہ وہ بھلی بات کہے یا چپ رہے۔‘‘ (کتاب الایمان، مسلم)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مسلمانوں کوہادیِ اعظمؐکی ہدایات پر عمل کر نے کی توفیق عطافرمائے۔آمین۔ دورِ حاضر میں بات چیت کا آسان ذریعہ موبائل میسر ہے۔ ایسے میں ہمیں سوچنا چاہئے کہ اس کا غلط استعمال نہ ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK