والدین وہ نعمت ہیں جن کی دُعائیں انسان کیلئے حوصلے کا سرچشمہ ، تربیت کردار کی بنیاداور محبت زندگی کا قیمتی سرمایہ ہے۔
EPAPER
Updated: October 31, 2026, 4:41 PM IST | Ayesha Parveen | Mumbai
والدین وہ نعمت ہیں جن کی دُعائیں انسان کیلئے حوصلے کا سرچشمہ ، تربیت کردار کی بنیاداور محبت زندگی کا قیمتی سرمایہ ہے۔
انسانی زندگی کے وسیع و عریض دائرے میں بعض رشتے ایسے ہوتے ہیں جن کی عظمت و رفعت کو الفاظ کے محدود پیمانے میں سمیٹنا ممکن نہیں۔ ان رشتوں میں والدین کا مقام سب سے ممتاز، سب سے مقدس اور سب سے بلند ہے۔ ماں کی آغوش انسان کی پہلی درس گاہ ہے، جہاں محبت، ایثار اور خلوص کے ابتدائی اسباق ملتے ہیں، جب کہ باپ کی شفقت ،محنت اور ان کی عظمت و تکریم کو غیر معمولی اہمیت عطا کی ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کا حکم دینے کے بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید فرمائی ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اور تمہارے رب نے حکم فرما دیا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔‘‘
یہ آیتِ مبارکہ والدین کے بلند مرتبے اور ان کے حقوق کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ اسلام محض والدین کی ظاہری خدمت کا مطالبہ نہیں کرتا، بلکہ ان کے ساتھ گفتگو کے انداز، رویّے، جذبات اور احساسات میں بھی احترام و محبت کا تقاضا کرتا ہے۔ قرآنِ کریم نے یہاں تک ہدایت فرمائی کہ اگر والدین میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ’’اُف‘‘ تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑکو، بلکہ ان سے ادب و احترام کے ساتھ بات کرو۔
یہ تعلیم اس حقیقت کی غماز ہے کہ والدین کی عزت و تکریم محض معاشرتی روایت نہیں، بلکہ ایک دینی فریضہ اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ آج جب مادّی ترقی، خود غرضی اور ذاتی مفادات کی دوڑ نے انسانی تعلقات کو متاثر کیا ہے، ایسے میں قرآن کی یہ ہدایات ہمارے لئے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔
ماں کی عظمت کا بیان کیا جائے تو اس کی ممتا، بے خوابی، صبر اور بے لوث محبت کا تصور ذہن میں ابھرتا ہے۔ وہ اپنی اولاد کی خاطر راتوں کی نیند قربان کرتی ہے، اس کی بیماری میں خود بے چین رہتی ہے اور اس کی خوشی میں اپنی خوشیوں کا جہان تلاش کرتی ہے۔ حمل کی تکالیف سے لے کر پرورش کے دشوار مراحل تک، ماں اپنی ذات کو پسِ پشت ڈال کر اولاد کی زندگی سنوارنے میں مصروف رہتی ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے ماں کے حسنِ سلوک کی حق دار ہونے کو خصوصی طور پر بیان فرمایا۔ ایک صحابیؓ نے دریافت کیا کہ میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تمہاری ماں۔‘‘ انہوں نے دوبارہ پوچھا، پھر کون؟ آپؐ نے فرمایا: ’’تمہاری ماں۔‘‘ تیسری مرتبہ بھی آپؐ نے ماں ہی کا ذکر فرمایا، پھر چوتھی مرتبہ باپ کا ذکر کیا۔ اس حدیثِ مبارکہ سے ماں کی عظمت اور اس کی بے مثال قربانیوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
والدین کے حقوق صرف ان کی زندگی تک محدود نہیں، بلکہ ان کے انتقال کے بعد بھی ان کے لئے دعا، صدقۂ جاریہ اور ان کے تعلقات کا احترام اہمیت رکھتا ہے۔ قرآنِ مجید میں دعا سکھائی گئی ہے:’’اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا۔‘‘ (الاسراء:۲۴)
یہ بھی پڑھئے: گناہ اور گناہ کی طرف لیجانے والے راستوں سے بھی بچئے
یہ دعا ہر صاحبِ اولاد کو یاد رکھنی چاہئے، کیونکہ والدین کے احسانات کا اعتراف اور ان کیلئے رحمت کی درخواست بندۂ مومن کے اخلاق کا حسین مظہر ہے۔
تاہم ہمارے معاشرے کا ایک تلخ پہلو یہ بھی ہے کہ بعض اولاد والدین کی بڑھتی ہوئی عمر کو ان کی کمزوری سمجھ کر ان سے بے اعتنائی برتنے لگتی ہے۔ جن ہاتھوں نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا، انہی ہاتھوں کو بڑھاپے میں سہارے کی ضرورت ہوتی ہے؛ جن لبوں نے ہمارے لئے دعائیں کیں، وہی لب کبھی ہماری توجہ کے منتظر رہتے ہیں۔ ایسے وقت میں والدین کو تنہا چھوڑ دینا، ان کی باتوں کو نظر انداز کرنا یا انہیں اپنی زندگی پر بوجھ سمجھنا اخلاقی انحطاط کی علامت ہے۔ حقیقی کامیابی صرف دولت، عہدے اور شہرت کا نام نہیں، بلکہ اس کردار کا نام ہے جو انسان اپنے محسنوں کے ساتھ اختیار کرتا ہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ والدین کے احترام کو محض تقریروں اور تحریروں تک محدود نہ رکھا جائے۔ ان کی ضروریات پوری کرنا، ان کی بات توجہ سے سننا، ان کی بیماری میں خدمت کرنا، ان کے جذبات کا خیال رکھنا اور ان کے ساتھ نرمی سے پیش آنا ہماری عملی ذمہ داریاں ہیں۔ جہاں والدین کی رائے سے اختلاف ہو، وہاں بھی گفتگو کا دامن ادب و شائستگی سے خالی نہیں ہونا چاہئے۔ اسی طرح والدین کو بھی اولاد کی عزتِ نفس، جائز ضروریات اور جذبات کا لحاظ رکھنا چاہیے، تاکہ خاندان محبت، اعتماد اور باہمی احترام کی بنیاد پر استوار ہو۔
مختصر یہ کہ والدین اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایسی عظیم نعمت ہیں جن کی قدر و منزلت کا احساس زندگی کے ہر مرحلے پر ہونا چاہیے۔ ان کی دعائیں انسان کے لئے حوصلے کا سرچشمہ، ان کی تربیت کردار کی بنیاد اور ان کی محبت زندگی کا قیمتی سرمایہ ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ان کی موجودگی کو غنیمت جانیں، ان کی خدمت کو سعادت سمجھیں اور ان کے دلوں کو اپنی باتوں یا رویّوں سے مجروح کرنے سے بچیں۔ یاد رکھئے، وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا؛ آج جن والدین کے سائے میں ہم محفوظ ہیں، کل ان کی خدمت کا موقع رہے گا یا نہیں۔ لہٰذا اس سے پہلے کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے، محبت، احترام اور خدمت کا وہ حق ادا کرنے کی کوشش کریں جس کے وہ مستحق ہیں۔ یہی دین کی تعلیم، انسانیت کا تقاضا اور ایک صالح معاشرے کی حقیقی بنیاد ہے۔