• Mon, 05 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سہارنپور میں مسجد پر بلڈوزر، کیا مسجد کمیٹی کو عدالت سے رجوع کرنے کا مناسب موقع ملنا ضروری نہیں تھا؟

Updated: October 05, 2026, 3:59 PM IST | Sameer Chaudhary | Mumbai

یہ سوال اب محض ایک مسجد کی عمارت کا نہیں بلکہ انتظامی طریقۂ کار اور انصاف کے تقاضوں کا بھی ہے اور ایک سوال علاقے کی سیاسی اور سماجی نمائندگی سے بھی ہے کہ کیا انہوں نے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں؟ جتنی کوشش ہونی چاہئے تھی ، کیا انہوں نے کی؟

A photograph of the Saharanpur mosque, which has now been demolished. Photo: INN
سہارنپور مسجد کی تصویر جو اَب شہید کردی گئی۔ تصویر: آئی این این

سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع ایک سو سال پرانی مسجد کو سنیچر کی صبح بلڈوزروں کی بھاری تعداد کے ذریعے نہ صرف ملبے میں تبدیل کردیا گیابلکہ بہت سے ایسے سوالات بھی چھوڑ دیئے ہیں جن کا جواب صرف انتظامیہ سے نہیں بلکہ سہارنپور کی سیاسی اور ملی نمائندگی سے بھی طلب کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کا موقف اپنی جگہ ہے کہ مسجد کو غیر قانونی تعمیر قرار دیا گیا تھا اور اسے ہٹانے کے لیے کارروائی مکمل ہوچکی تھی، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس کارروائی کو کچھ وقت مزید نہیں دیا جاسکتا تھا؟ کیا مسجد کمیٹی کو اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنے کا مناسب موقع ملنا ضروری نہیں تھا؟ اگر ہائی کورٹ سے حکمِ امتناعی حاصل ہوجاتا تو شاید آج یہ عمارت اپنے مقام پر کھڑی ہوتی اور وہاں سجدوں کا سلسلہ جاری رہتا۔

یہ سوال اب محض ایک مسجد کی عمارت کا نہیں بلکہ انتظامی طریقۂ کار اور انصاف کے تقاضوں کا بھی ہے۔ کلکٹریٹ مسجد کا معاملہ گزشتہ تقریباً ڈیڑھ سال سے زیرِ بحث تھا۔ ایک معمولی شکایت سے شروع ہونے والا معاملہ رفتہ رفتہ قانونی تنازع میں تبدیل ہوا اور۱۶؍ جولائی ۲۰۲۶ء کو سٹی مجسٹریٹ کی جانب سے مسجد کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے ہٹانے کے ساتھ تقریباً۶؍ کروڑ۴۲؍ لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ اس کے بعد قانونی جنگ جاری رہی۔ کئی سیاسی و سماجی شخصیات نے مسجد پہنچ کر نماز بھی ادا کی اور اپنے اپنے انداز میں معاملہ اٹھایا، لیکن عملی سطح پر ایسی کوئی مؤثر پیش رفت سامنے نہیں آسکی جو اس کارروائی کو روکنے میں کامیاب ہوتی۔

اس پورے معاملے کا ایک تکلیف دہ پہلو وکلا کی صفوں میں سامنے آنے والا اختلاف بھی ہے۔ اس حساس معاملے میں وکلا کا ایک پینل تشکیل دیا گیا تھا، لیکن بعد میں اختلافات کی خبریں سامنے آئیں اور بعض سینئر وکلا اس مقدمے سے الگ ہوگئے۔ یہاں تک کہ مسجد کمیٹی سے وابستہ ایک شخص کی جانب سے عدالت میں درخواست دے کر ایک سینئر وکیل کو مقدمے سے الگ کیے جانے کی بات سامنے آئی۔ نتیجتاً ایک حساس اور پیچیدہ قانونی معاملے کی پیروی محدود دائرے میں ہوتی رہی۔

یہ بھی پڑھئے:گزشتہ ۱۲؍ برسوں میں اگر ملک میں کچھ برا ہوا ہے... تو اب کچھ اچھا بھی ہو رہا ہے

یہ کہنا کسی ایک وکیل کی قابلیت پر سوال اٹھانا نہیں، لیکن اتنے بڑے ملی اور قانونی معاملے میں اجتماعی قانونی حکمتِ عملی کی ضرورت بہرحال محسوس ہوتی ہے۔ بڑے مقدمات صرف جذبات سے نہیں، مضبوط دستاویزات، مؤثر قانونی نکات، تجربہ کار وکلا کی اجتماعی کاوش اور مسلسل پیروی سے لڑے جاتے ہیں۔ اگر وکلا کے درمیان اختلافات ہوں، تجربہ کار لوگ الگ ہوجائیں اور قانونی حکمتِ عملی منتشر ہوجائے تو نقصان کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔

دوسری جانب سہارنپور کی سیاسی نمائندگی بھی اس معاملے میں کئی سوالات کے گھیرے میں ہے۔ کارروائی سے ایک رات قبل سیاسی لیڈران، افسران سے رابطے میں رہے۔ بعض  لیڈروں نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز جاری کر کے بتایا کہ مسجد پر انہدام نہیں بلکہ سیل کی کارروائی کی جارہی ہے۔ اگر واقعی انہیں یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی تو پھر سوال  پیدا ہوتا ہے کہ کارروائی کو صرف سیل تک محدود رکھنے کی بات کیوں کی گئی اور چند گھنٹوں بعد بلڈوزر مسجد کے سامنے کیسے پہنچ گئے؟

یہاں ایک اور سوال بھی اہم ہے: اگر سیاسی نمائندوں کو خدشہ تھا کہ مسجد منہدم کی جاسکتی ہے تو کیا محض افسران سے گفتگو اور سوشل میڈیا پر بیان جاری کرنا کافی تھا؟ کیا انہیں قانونی ماہرین کے ساتھ فوری طور پر عدالتی عمل نہیں کرنا چاہیے تھا؟ کیا اس معاملے میں ایک مشترکہ قانونی اور سیاسی حکمتِ عملی نہیں بنائی جاسکتی تھی؟

یہ بھی پڑھئے:Doc at Home، جس طرح گروسری آرڈر کرتے ہیں، طبی خدمات بھی بک کر سکتے ہیں

ٍسہارنپور کوئی معمولی ضلع نہیں۔ یہاں نہ صرف بڑی تعداد میں مسلم سیاسی و سماجی رہنما موجود ہیں، بلکہ کئی معروف ملی و دینی تنظیموں کے ذمہ داران اور عالمی شہرت کے حامل دینی ادارے بھی قائم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں پیش آنے والے کسی بھی بڑے مذہبی معاملے کی گونج مقامی حدود سے نکل کر ملک اور دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچتی ہے۔ کلکٹریٹ مسجد کے انہدام کے بعد بھی یہی ہوا۔ صبح ہوتے ہی مسجد کے ملبے کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا کے ذریعے دور دور تک پہنچ گئیں۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ منظر وہ تھا جب بلڈوزروں کی کارروائی کے دوران مسجد کی چٹائیاں اور دیگر سامان ملبے کے درمیان بکھرتا نظر آیا۔ جس جگہ طویل عرصے سے سجدے کیے جاتے رہے، جہاں جمعہ کی نماز بھی ادا کی گئی، وہاں چند ہی گھنٹوں بعد ملبہ موجود تھا۔ ایک عمارت ختم ہوئی، مگر اس سے وابستہ یادیں اور جذبات ختم نہیں ہوسکتے۔

یہاں یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر انتظامیہ اور عدالتوں کے درمیان قانونی عمل جاری تھا تو کیا ایسے حساس مذہبی مقام کے معاملے میں زیادہ احتیاط، زیادہ وقت اور زیادہ حساسیت کا مظاہرہ نہیں کیا جاسکتا تھا؟ مذہبی مقامات سے متعلق کارروائیوں میں طریقۂ کار اور حساسیت بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے۔تاہم، اس پورے معاملے کی ذمہ داری صرف حکومت یا انتظامیہ پر ڈال کر سہارنپور کی سیاسی و ملی قیادت خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی۔ حکومت نے جو فیصلہ کیا، اس کی قانونی حیثیت عدالتوں میں طے ہوگی، لیکن سیاسی نمائندگی کا امتحان ایسے ہی مواقع پر ہوتا ہے۔ اگر نمائندے صرف بیان جاری کریں، یقین دہانیاں حاصل کریں اور عملی قانونی قدم اٹھانے میں تاخیر ہوجائے تو پھر عوام کا سوال اٹھانا فطری ہے۔اسی طرح وکلا کے لیے بھی یہ واقعہ ایک سبق ہے۔

ملی اور حساس نوعیت کے معاملات میں ذاتی یا گروہی اختلافات سے بالاتر ہوکر مشترکہ قانونی حکمتِ عملی اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ اگر ایک مضبوط قانونی ٹیم پہلے دن سے تمام دستاویزات، پرانے ریکارڈ، ملکیت کے دعووں اور دیگر قانونی نکات کو پوری قوت کے ساتھ عدالت کے سامنے رکھتی تو شاید معاملے کی سمت کچھ اور ہوتی۔ حتمی طور پر یہ کہنا ممکن نہیں کہ نتیجہ کیا نکلتا، لیکن کم از کم قانونی جدوجہد زیادہ منظم اور مؤثر ہوسکتی تھی۔

اب مسجد کمیٹی ہائی کورٹ اور ضرورت پڑنے پر سپریم کورٹ جانے کی بات کر رہی ہے۔ عدالتِ عالیہ اور عدالتِ عظمیٰ میں کیا فیصلہ ہوگا، یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ ممکن ہے قانونی جنگ میں کوئی نیا رخ سامنے آئے، ممکن ہے انہدام کی کارروائی کی قانونی حیثیت پر بھی سوال اٹھیں۔ لیکن ایک حقیقت بہرحال سامنے آچکی ہے کہ جس جگہ برسوں تک سجدے ہوتے رہے، وہاں اب مسجد کی عمارت موجود نہیں۔اس عمارت کو دوبارہ تعمیر کرنا شاید ہی مستقبل میں ممکن ہو، لیکن جو وقت گزر گیا، جو منظر لوگوں نے دیکھا اور جو سجدے اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں، انہیں واپس لانا آسان نہیں ہوگا۔یہ واقعہ صرف ایک مسجد کے انہدام کی داستان نہیں، بلکہ یہ سہارنپور کی سیاسی قیادت، ملی نمائندگی، وکلا اور انتظامیہ، سب کے لیے ایک بڑا سوال بھی ہے۔مسجد گر گئی ہے، ملبہ ہٹا دیا جائے گا، ممکن ہے کل وہاں کوئی نئی تعمیر بھی ہوجائے، لیکن اس کارروائی نے جو سوالات کھڑے کیے ہیں، وہ اتنی آسانی سے ملبے میں دفن نہیں ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK