• Sat, 03 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اترپردیش: نفرت انگیز جرائم میں ۴؍ مسلم ہلاک، ۷۰؍ ہاف اینکاؤنٹر میں زخمی: رپورٹ

Updated: October 03, 2026, 7:33 PM IST | Lukhnow

ایک رپورٹ کے مطابق اترپردیش میں دو ماہ میں نفرت انگیز جرائم میں کم از کم ۴؍ مسلم ہلاک، ۷۰؍ پولیس ہاف اینکاؤنٹرمیں زخمی ہوئے، اس کے علاوہ تشدد کے ۱۴؍ واقعات میں سے کسی میں بھی حملہ آور کی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی، بلکہ دو واقعات میں پولیس نے الٹا متاثرین کے خلاف ہی کارروائی کی۔

Uttar Pradesh Chief Minister Yogi Adityanath. Photo: INN
اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ۔ تصویر: آئی این این

ساؤتھ ایشیا جسٹس مہم (ایس اے جے سی) کے بریفنگ بلیٹن الیکشن واچ، اتر پردیش ۲۰۲۷ء کے پہلے ایڈیشن کے مطابق، یکم اگست سے ۳۰؍ ستمبر کے درمیان اتر پردیش میں مبینہ طور پر مذہبی تعصب کی بنیاد پر کئے گئے نفرت انگیز جرائم میں کم از کم چار مسلمان ہلاک ہوئے ہیں۔ہلاک ہونے والوں میں ایک ۲۰؍ سالہ نوجوان بھی شامل ہے جسے اس کی چچا زاد بہن کے برقعہ پر اعتراض کے بعد پیٹ پیٹ کر مار دیا گیا، جبکہ ایک اسکول ٹیچر کو لو جہاد کا حوالہ دیتے ہوئے ایک شخص نے گولی مار دی۔ ان چار ہلاکتوں کے بعد ریاست میں سال ۲۰۲۶ء کے دوران اس طرح کے واقعات میں جان گنوانے والے مسلمانوں کی مجموعی تعداد نو ہو گئی ہے، جبکہ ۲۰۲۵ء  کے پورے سال میں یہ تعداد سات تھی۔اسی مدت کے دوران، ۵؍ اگست کو شاملی میں پولیس کی گولی لگنے سے ایک مسلمان شخص کی موت ہو گئی۔ 

یہ بھی پڑھئے: ناگپور: ۳؍ دن تک موبائل ٹھیک نہیں ہوا توگاہک تلوار لیکر دکان پر پہنچا

مزید برآں رپورٹ کے مطابق، ریاست کے ۷۵؍ اضلاع میں سے ۲۷؍ اضلاع میں ہاف اینکاؤنٹر کے واقعات میں کم از کم ۷۰؍ مسلمان زخمی ہوئے، جن میں سے ۵۲؍ پر گؤ کشی یا مویشی چوری کے الزامات تھے۔رپورٹ کے مطابق، کم از کم ۱۵۲؍ مسلمانوں کو من مانے طریقے سے گرفتار کیاگیا، جن میں گوشت کے معاملے پر حراست میں لی گئیں سات خواتین اور آن لائن وزیراعلیٰ پر تنقید کرنے کے جرم میں جیل بھیجے گئے افرادشامل ہیں۔ اس کے علاوہ کم از کم ۱۶؍ دیگر افراد پر تشدد کیا گیا، جن میں ایک ۱۲؍ سالہ لڑکا بھی شامل ہے جسےجے شری رام کا نعرہ لگانے سے انکار پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بعد ازاں تشدد کے ان ۱۴؍ واقعات میں سے کسی میں بھی حملہ آور کی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی، بلکہ دو واقعات میں پولیس نے الٹا متاثرین کے خلاف ہی کارروائی کی۔ 
اس کے علاوہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریکارڈ کئےگئے نفرت انگیز تقاریر کے کم از کم ۲۱؍ واقعات میں سے دس تقاریر خود وزیراعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ نے کیں۔ بی جے پی لیڈروں نے اپنے سیاسی مخالفین کو مغل شہنشاہ کے نام پر بابر کی اولادقرار دیا۔ نائب وزیراعلیٰ نے کہا کہ مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے والے کسی بھی شخص کی ذہنیت دہشت گرد کی طرح ہو جاتی ہے، جبکہ ریاست کے ایک وزیر نے یہاں تک اعلان کیا کہ ہمیں مسلمانوں کے ووٹوں کی ضرورت نہیں ہے۔ حالانکہ ان میں سے کسی بھی عہدیدار کو کسی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ مزید برآںستمبر میں، ایک عدالت نے حکومت کو ۲۰۱۳ء کے مظفر نگر تشدد سے پہلے دی گئی اشتعال انگیز تقاریر کے معاملے میں بی جے پی لیڈروں سمیت ہندو قوم پرست تنظیموں کے ۲۵؍ افراد کے خلاف درج کیس واپس لینے کی اجازت دے دی۔ 

یہ بھی پڑھئے: گجرات میں یکساں سو ِل کوڈ کو صدر جمہوریہ کی منظوری، اُتراکھنڈ کے بعد دوسری ریاست بن گئی

 واضح رہے کہ اس تشدد میں ۶۰؍ سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ اس کے علاوہ، حکام نے انہدام کے نو واقعات میں مسلمانوں کے کم از کم ۳۴؍ مکانات، دکانوں اور مذہبی عمارتوں کو گرایا۔ریاست نے مدرسہ بورڈ سے ڈگریاں دینے کا اختیار بھی چھین لیا، جس سے تقریباً ۳۷؍ ہزار مسلم طلبہ کا مستقبل غیر یقینی کا شکار ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ انتخابات میں محض کچھ ماہ باقی رہ جانے پر، اتر پردیش پولیس نے ۱۰؍ اضلاع میں کم از کم ۱۲؍ مواقع پر اپوزیشن سیاستدانوں کو نظر بند کر دیاتاکہ انہیں پولیس حراست میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے ملنے، کسی مسجد کے انہدام کے وقت وہاں پہنچنے یا وزیراعلیٰ کے دوروں کے دوران موجود رہنے سے روکا جا سکے۔ ستمبر میں کانگریس پارٹی کے ریاستی صدر کو بھی تین بار حراست میں لیا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: مسلم ووٹرس حذف کر نے کا معاملہ، بی جے پی لیڈروں پرکیس

ذہن نشین رہے کہ اتر پردیش ہندوستان کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست ہے اور یہاں ملک کی کل مسلم آبادی کا پانچواں حصہ رہتا ہے۔ ایس اے جے سی نے کہا ہے کہ اس دستاویز سازی کا مقصد اتر پردیش میں انتخابی مہم کے آغاز کے ساتھ ہی تمام حقائق کو ریکارڈ کرنا ہے، تاکہ وقت رہتے مداخلت اور روک تھام کی امید میں ابتدائی طورپر خبردار کرنے کیلئے ثبوت فراہم کئے جا سکیں۔ یہ مہم ماہ بہ ماہ اتر پردیش میںاقلیتوں کے انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں اور انتخابی شفافیت کی پامالی کے واقعات کو ریکارڈ کررہی ہے۔مارچ میں، تین معروف قانون دانوں پر مشتمل پینل آف انڈیپنڈنٹ انٹرنیشنل ایکسپرٹس ( پی آئی آئ ای ) نے ریاست میں مسلمانوں کے خلاف وسیع اور منظم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے قابلِ اعتماد ثبوت پائے تھے، جن میں سے کچھ انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس ریاست میں پہلے بھی انتخابات کے قریب مسلم مخالف نفرت انگیز تقاریر اور تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK