یکم ستمبر کو مسلمانوں کی جانب سے سماجی، مذہبی، قانونی، سیاسی اور سول سوسائٹی سے وابستہ اہم شخصیات پر مشتمل ۵۱؍ رکنی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کا مقصد آئین میں حاصل حقوق، شہری آزادی، سیاسی نمائندگی اور دیگر اہم معاملات پر کام کرنا ہے۔ اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔
گزشتہ دنوں نئی دہلی میں مسلمانوں نے سماجی، مذہبی، قانونی، سیاسی اور سول سوسائٹی سے وابستہ اہم شخصیات پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی۔ تصویر: آئی این این
ملک کے موجودہ سیاسی اور سماجی حالات کا جائزہ لینے کیلئے ڈیڑھ ماہ قبل ۲۴؍ جولائی کو نئی دہلی میں مسلمانوں کی اعلیٰ سطحی میٹنگ ہوئی تھی۔اس میٹنگ میں مختلف تنظیموں کے ذمہ داران اور اہم شخصیات نے شرکت کی تھی۔ اس میں یہ طے پایا تھا کہ مسلمانوں کے شہری اور سیاسی امور پر گہری نظر رکھنے اور کسی مسئلے کے تدارک کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے۔ میٹنگ کے اُس فیصلے پر عمل کرتے ہوئے ابھی یکم ستمبر کو سماجی، مذہبی، قانونی، سیاسی اور سول سوسائٹی سے وابستہ اہم شخصیات پر مشتمل ۵۱؍ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس کمیٹی کے علاوہ۱۰؍ رکنی سکریٹریٹ بھی قائم کیا گیا ہے، جو مختلف معاملات کی نگرانی اور باہمی رابطہ کاری میں معاونت کرے گا۔کمیٹی کے اعلان کیلئےمنعقدہ پریس کانفرنس میں اس کے متعدد اراکین نے خطاب کیا اوراس کے اغراض و مقاصد بیان کئے۔اس میں انہوں نے بتایا کہ آئین میں حاصل حقوق، شہری آزادی، سیاسی نمائندگی اور دیگر اہم معاملات پر یہ کمیٹی جمہوری اور آئینی طریقوں سے متعلقہ مسائل کو اٹھانے، سرکاری اداروں سے بات چیت کرنے اور ضرورت پڑنے پر قانونی و سیاسی مداخلت کرنے کا کام کرے گی۔ کمیٹی کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں تجربہ کار اور بزرگ قائدین کے ساتھ ہی نوجوان چہرے بھی ہیں، جن کی وجہ سے کمیٹی کے سنجیدہ اورفعال رہنے کی پوری امید ہے۔کمیٹی کی تشکیل کے بعد اس کے اعلان کے وقت ایک اہم ذمہ دار اور راجیہ سبھا کے سابق رکن محمد ادیب نے واضح کیا کہ یہ کوشش پرسنل لاء بورڈ یا کسی قومی جماعت کے خلاف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرعی معاملات میں ہم پرسنل لا بورڈ کی رہنمائی کے تحت ہیں جبکہ کمیٹی کا دائرہ بنیادی طور پر سیاسی اور شہری حقوق سے متعلق ہے ۔
یہ ایک اچھی پیش رفت ہے جس کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔یہ کام بہت پہلے ہوجانا چاہئے تھالیکن دیر آید، درست آید کے مصداق قوم کو اس کا استقبال کرنا چاہئے۔ ملک کے موجودہ حالات بظاہر اچھے نہیں ہیں لیکن اگر غور کیا جائے تو انہی حالات میں کچھ اہم اور مثبت اشارے بھی موصول ہورہے ہیں۔ اسے ’ شر میں خیر کے پہلو‘ کی طرح دیکھنا چاہئے۔ حالانکہ یہاں اس کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ ’خیر کے اس پہلو‘ میں ہمارا کوئی خاص کردار نہیں ہے۔ یہ خالق کائنات کی اپنے خاص بندوں پرخاص عنایت ہے۔ اس سے قبل کہ ہم اپنے کردار کا جائزہ لیں، آئیے ان پہلوؤں پر ایک نظر ڈالنے کی کوشش کریں جنہیں ہم اندھیرے میں امید کی کرن کے طور پر دیکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بالی ووڈ اسٹارسنجے دت نے ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ کے سامنے مراٹھی کیوں نہیں بولی؟
مسلمان سیاسی اچھوت نہیں رہے
گزشتہ ۱۲؍ سال میں ملک کے سیاسی حالات اچھے نہیں رہے۔ اس دوران مسلمانوں کو ہر طرح سے حاشئے پر دھکیلنے کی پوری پوری کوشش کی گئی۔ ملک کی حکمراں جماعت خود تو مسلمانوں کا نام کبھی مثبت انداز میں نہیں لیتی، اس نے کچھ اس طرح کے سیاسی اور سماجی حالات پیدا کردیئے کہ مسلم ووٹوں کی دعویدار جماعتیں بھی مسلمانوں کا نام لینے سے گھبرانے لگیں،لیکن اب حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔ کانگریس کےساتھ ہی دیگر سیاسی جماعتیں بھی اب کہیں کھل کر تو کہیں اشاروں کنایوں میں مسلمانوں کی بات اوران کے مسائل پر گفتگو کرنے لگی ہیں۔
اسی سال مئی میں کانگریس کے اقلیتی شعبے کی ایک میٹنگ میں راہل گاندھی نے کھل کر اس مسئلے پر اظہار خیال کیا تھا۔ انہوں نے پارٹی لیڈروں اور کارکنوں پر زور دیا تھا کہ جب بھی مسلمانوں کے خلاف کسی ناانصافی یا ظلم کا مسئلہ اٹھایا جائے، تو مبہم طور پر ’مائناریٹی‘ یا ’اقلیت‘ کا لفظ استعمال کرنے کے بجائے براہِ راست’مسلمان‘ لفظ کہہ کر بات کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اپنی کمیونٹی کے مسائل کو اٹھاتے وقت کسی مخصوص شناخت کے پیچھے چھپنے یا ہچکچانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ سچائی اور واضح شناخت کے ساتھ مسائل کو سامنے لایا جانا چاہئے۔
اس کے بعد ہم نے کئی مواقع پر دیکھا کہ کانگریس لیڈروں نے واضح طورپر ’مسلمان‘ کہنے کی جرأت دکھائی۔ گزشتہ دنوں دہلی پولیس کی ہراسانی کی شکار شاہین اور نفیسہ کے معاملے پر کانگریس لیڈر الکا لامبا نے باقاعدہ پریس کانفرنس کی۔ اسی طرح سہارنپور میں مسجد کی انہدامی کارروائی کو کانگریس کے ترجمان آلوک شرما نے ’صرف ایک مسجد پر نہیں بلکہ آئین ہند پر حملہ‘ قرار دیا تھا۔ اس سے قبل کانگریس سے بھی اس طرح کی توقع نہیں کی جاتی تھی۔ ماب لنچنگ کے شکار محمد اخلاق، پولیس ہراسانی کے شکار صدیق کپن، شرجیل امام اور عمر خالد....اس طرح کے اور کئی معاملات حالیہ برسوں میں پیش آچکے ہیں جسے اٹھانے میں کانگریس نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مرکز اوراپنی حکمرانی والی تمام ریاستوں میں ایک بھی مسلم وزیر نہ بنانے والی بی جے پی ، اب اپنی تنظیم میں مسلمانوں کو شامل کرنے پر مجبور ہورہی ہے اور آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کو امریکہ جاکر اپنے لیڈروں کے کرتوت کی صفائی دینی پڑرہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: منوسمرتی کی پول کھلنے سے بی جے پی اور آر ایس ایس کی پریشانیاں بڑھ گئی ہیں
آر ایس ایس پر شکنجہ کسنے کی تیاری
ماضی میں آر ایس ایس پر تین مرتبہ پابندیاں لگ چکی ہیں ۔ پہلی بار ۱۹۴۸ء میں مہاتما گاندھی کے قتل پر، دوسری مرتبہ ۱۹۷۵ء میں ایمرجنسی کے دوران اور تیسری مرتبہ ۱۹۹۲ء میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد لیکن تینوں ہی مرتبہ اس کے خلاف کوئی خاص کارروائی نہیں ہوئی اورجلد ہی پابندیاں اٹھا بھی لی گئیں۔ گزشتہ ۱۲؍ برسوں کے دوران تو آر ایس ایس کے خلاف کچھ بولنا ہی مشکل ہوگیا تھالیکن اب کئی سیاسی جماعتیں ایسی ہیں جو کھل کر آر ایس ایس کو نشانہ بنا رہی ہیں اور کانگریس کی جانب سے تو باقاعدہ شکنجہ کسنے کی تیاری بھی شروع ہوگئی ہے۔ راہل گاندھی کا عزم صاف دکھائی دیتا ہے جن سے تحریک پاکر کانگریس سربراہ ملکارجن کھرگے کے صاحب زادے پریانک کھرگے نے باقاعدہ ایک تحریک بھی شروع کردی ہے۔ یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اگر ایک بار ٹھیک سے آر ایس ایس کی جانچ شروع ہوگئی تو اس کے کئی اراکین کو جیل میں ایڑیاں رگڑنی پڑسکتی ہیں۔ یہ پیش رفت ان حالات میں ہورہی ہے جب آر ا یس ا یس نے مسلمانوں کو ملک میں دوم درجے کا شہری بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی۔
منوسمرتی کے تئیں کانگریس کا رویہ
منوسمرتی سے مسلمانوں کا براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کانگریس کی جانب سے اس کی کاپیوں کا نذر آتش کیا جانا، ملک میں سیاسی تبدیلی کا واضح اشارہ ہے۔ ابھی ایک سال قبل تک بی جے پی کا ہر بڑا اور چھٹ بھیا لیڈر خود کو ’سناتنی‘ کہہ کرفخریہ اظہار کرتا تھااور اس کے مخالفین کو ملک دشمن ٹھہرانے کی کوشش کرتا تھا۔ یہاں تک کہ سماجوادی اور آر جے ڈی جیسی جماعتیں بھی منوسمرتی اور سناتن کے خلاف کچھ بول نہیں پا رہی تھیںلیکن گزشتہ دنوں پونے میں ہونے والی ’چھاتروں کی گونج‘ کے بعد اب طلبہ بالخصوص لڑکیاںکھل کر اس کی مخالفت کررہی ہیں۔ اس کے بعد دیگر سیاسی جماعتوں کے حوصلے بھی بلند ہوگئے ہیں۔
گودی میڈیا پراقتصادی بحران کا سایہ
میڈیا اور انٹرٹین منٹ کی مختلف رپورٹوں کے مطابق گودی میڈیا کی کرتوتوں کی وجہ سے ٹی وی چینلوں کی ساکھ بری طرح متاثر ہو ئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان چینلوں کی آمدنی اور براہِ راست گھروں تک پہنچنے والے ڈی ٹی ایچ کنکشنوں کے سبسکرائبرز میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔ بعض رپورٹوں میں یہاں تک کہا گیا ہے کہ جنتر منتر پر ’جین زی‘ کے مظاہروں کے بعدگودی میڈیا کے بیشتر چینل اقتصادی بحران کا شکار ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب ان چینلوں پر زہر افشانیوں کی مقدار تھوڑی کم ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: Pinterest Mood Board قائم کر رہا ہے آج کا بزنس ماڈل
ہم نے کیا کیا اور ہمیں کیا کرنا ہے؟
یہاں ہمیں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ گزشتہ ۱۲؍ برسوں میں جبکہ ہمیں سیاسی اور سماجی طور پر حاشئے پر دھکیلا جارہا تھا، خود کو بچانے، سنبھلنے اورمستحکم کرنے کیلئے ہم نے کیا کیا؟اپنی صفوں کو مضبوط کرنے اور اتحاد کیلئے ہم نے کون سے اقدامات کئے؟ برادران وطن سے تعلقات استوار کرنے کیلئے ہم نے کتنی ٹھوس کوششیں کیں؟اس دوران صرف ہم پر نہیں، دوسروں بالخصوص دلتوں اور پسماندہ طبقات پر بھی ظلم و ستم ہوئے، ان مواقع پر ہم نے ان کے ساتھ کتنا یکجہتی کااظہار کیا؟ اپنے مسائل کے تئیں بھی ہم کتنے سنجیدہ رہے؟ ایک چھوٹی سی مثال تین طلاق پرقانون سازی کے مسئلے کی ہے، ہم نے اس سے نمٹنے کی کوشش کس طرح سے کی؟ ہم نے اس سلسلے میں ایک دستخطی مہم چلائی تھی۔انڈیا ٹوڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق اس دستخطی مہم کے دوران ۴؍کروڑ۸۳؍ لاکھ۴۷؍ ہزار ۵۹۶؍ مسلمانوں نے دستخط کر کے شریعت اور مسلم پرسنل لا میں کسی بھی قسم کی سرکاری مداخلت کی مخالفت کی تھی۔ اس کا کیا نتیجہ نکلا؟ اتنی توانائی ہم نے قوم کو بیدار کرنے،انہیں بیک وقت تین طلاق دینے سے روکنے اور اس تعلق سے قرآنی احکامات کو عام کرنے پر کیوں نہیں خرچ کی؟
خیر جو ہوا، سو ہوا۔ اب جبکہ ملک کے حالات کروٹ لے رہے ہیں اور کچھ حد تک اس میں ہمارے لئے موافقت نظر آرہی ہے، اس نئی تنظیم سے بڑی امیدیں کی جاسکتی ہیں؟ خدا کرے یہ ہمارے لئے کارآمد ثابت ہو۔