دو دن قبل ہم نے تعلیمی انقلاب کی ۹؍ویں سالگرہ منائی ہے۔ اس دوران تمام حلقوں سے اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ یہ اخبار بچوں کیلئے بہت مفید ہے،اس کے ساتھ ہی اس کے کئی مشمولات ایسے ہیں جو بڑوں کیلئے بھی کارآمد ہیں۔ ذیل میں انہیں نکات پر گفتگو کی گئی ہے۔
تعلیمی انقلاب پورے خاندان کیلئے فکری تربیت کا ذریعہ ہے

تعلیمی انقلاب ایسا ایک خوبصورت اور بامقصد سفر ہے۔ جب یہ رسالہ بچوں کیلئے پہلی مرتبہ شائع ہوا، اسی وقت سے مجھے اس کے ساتھ وابستہ رہنے کا موقع ملا۔ میرے لیے یہ باعثِ مسرت اور فخر ہے کہ میں نے اس کے سفر، ارتقا اور مسلسل ترقی کو قریب سے دیکھا ہے۔تعلیمی انقلاب کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں بچوں کی بدلتی ہوئی تعلیمی، ذہنی اور فکری ضروریات کے مطابق مواد اور پیشکش کو مسلسل بہتر بنایا جاتا رہا ہے۔ اگرچہ یہ رسالہ بنیادی طور پر بچوں کیلئے شائع ہوتا ہے، تاہم اس کے مضامین اساتذہ، والدین اور دیگر بڑوں کیلئے بھی نہایت مفید ہیں۔ سائنس، تاریخ، سماجی مسائل، عالمی ادب، دلچسپ کہانیوں، سبق آموز واقعات اور معلوماتی موضوعات پر مشتمل اس کا مواد علم، فکری وسعت اور عمومی معلومات میں اضافے کا مؤثر ذریعہ ہے۔اساتذہ اس سے نئی معلومات اور دلچسپ مواد حاصل کرکے اپنی تدریس کو مزید مؤثر بنا سکتے ہیں۔ والدین بچوں کی دلچسپی کے موضوعات سمجھ کر ان سے تعلیمی اور فکری گفتگو کرسکتے ہیں، جس سے گھر میں مطالعے اور سیکھنے کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ عام قارئین بھی اس کے ذریعے نئے موضوعات سے آگاہی اور مختلف مسائل پر متوازن نقطۂ نظر حاصل کرسکتے ہیں۔
موبائل اور اسکرین کے موجودہ دور میں، جب مطالعے کی عادت کم ہوتی جارہی ہے، معیاری مطالعے کا فروغ نہایت ضروری ہے۔ تعلیمی انقلاب بچوں اور بڑوں کو مطالعے، جستجو، حصولِ علم اور مثبت سوچ کی طرف راغب کرتا ہے۔میری نظر میں یہ محض بچوں کا رسالہ نہیں، بلکہ پورے خاندان کے لیے علم، معلومات اور فکری تربیت کا مؤثر ذریعہ ہے۔
شمع خلیق الزماں تاراپوروالا(ڈائریکٹر، اسکول ایجوکیشن،انجمنِ اسلام، ممبئی)
تعلیمی انقلاب اپنے ہر قاری کو معلومات فراہم کرتا ہے

نو برس قبل جب ادارہ انقلاب نے بچوں کیلئے تعلیمی انقلاب کی شروعات کی تھی، اس وقت یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ پرچہ اس قدر مقبول ہوگا ۔ تعلیمی انقلاب خالصتاً بچوں کو تعلیم سے جوڑنے اور تعلیمی معلومات دینے کی غرض سے شروع کیا گیا تھا ، لیکن مجھ جیسے کئی لوگوں نے اس میں شائع ہونے والے مضامین سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ تعلیمی انقلاب کے مطالعہ کے سبب مجھے اپنے اور اپنے خاندان کے بچوں کو روایتی کورسز کے علاوہ دیگر کورسز میں بھیجنے میں آسانی ہوئی ۔ اس کے علاوہ اس کے مطالعہ سے معلوم ہوا کہ تعلیم کا میدان کتنا وسیع ہے اور ہماری معلومات کتنی کم ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ضمیر زندہ، غیرت باقی
اس پرچے سے ملنے والی معلومات نے جہاں بچوں کو اعلیٰ تعلیم کی طرف راغب کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے تو دوسری جانب ہم جیسوں کوکریئر گائیڈ بننے میں مدد بھی کی ہے ۔ ہر جمعہ کو مجھے میرے گھر والوں کو روزنامہ انقلاب کے ساتھ ساتھ تعلیمی انقلاب کا بے صبری سے انتظار رہتا ہے کہ اس کے تازہ شمارہ میں کیا نئی معلومات فراہم کی گئی ہے ۔ تعلیمی انقلاب کے سبب اس کا ہر قاری کم و بیش ملک عزیز اور بیرون ملک ملنے والی تعلیم اور تعلیم گاہوں سے ایسے متعارف ہوا ہے جیسے وہ ان کے بارے میں سب کچھ جانتا ہے ۔ آج مسلمانوں میں تعلیمی بیداری کی لہر پیدا کرنے میں اس کا اہم رول ہے ۔ مجھے امید ہے کہ آنے والے دنوں میں اس پرچے سے قوم مسلم خصوصاً اور اردو داں طبقہ عموماً کافی فائدہ اٹھاتے ہوئے کامیابی کی منزلوں کو طے کرے گا ۔
شاہد انور حسن فاروقی (سماجی خدمت گار، نائب صدر ، الانصار میڈیکل ویلفیئر سوسائٹی، بھیونڈی)
عمر کی قید سے آزاد ہے تعلیمی انقلاب

سب سے پہلے توتعلیمی انقلاب کی نویں سالگرہ پر پوری ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ تعلیمی انقلاب کی شروعات ہی سےمیں اس کا قاری ہوں اور ان نو برسوں میں یہ محسوس کیا ہے کہ یہ اخبار صرف بچوں کی علمی ضرورت پوری کرنے والا اخبار نہیں رہا، بلکہ بڑوں کے لیے بھی معلومات اور مطالعے کا ایک مفید ذریعہ بن گیا ہے۔
تعلیمی انقلاب کے کئی مشمولات ایسے ہیں جو یقیناً بڑوں کے لیے بھی کارآمد ہیں۔ میں خود اس سے براہِ راست فائدہ اٹھاتا ہوں۔ اسلامی تاریخ اور سیرت کے مضامین نہ صرف معلومات میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ دینی اور تاریخی شعور کو بھی تازہ کرتے ہیں۔ جنرل نالج کے مضامین عام معلومات میں اضافے کا ذریعہ بنتے ہیں، جبکہ مختلف زبانوں کے ترجمے، بیرون ممالک کی دلچسپ کہانیاں اور مشہور شخصیات کے تعارف سے علمی و ادبی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔ساتھ ہی سائنسی مضامین بھی بڑوں کیلئےقابلِ مطالعہ ہوتے ہیں ، کیونکہ ان میں نئی معلومات آسان اور دلچسپ انداز میں سامنے آتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:نیپولین کے دور کا ۲۱۷ سال پرانا پراسرار خط جی پی ٹی-۶ ایسٹرا نے ۶ گھنٹوں میں ڈی کوڈ کر لیا
ان سب کے درمیان’’کیوں؟‘‘ کا جواب دینے والا کالم مجھے سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے۔ یہ صرف معلومات نہیں دیتا بلکہ سوال کرنے، جاننے اور غوروفکر کرنے کی عادت پیدا کرتا ہے۔آخر میں سب سے اہم بات یہ کہ مصنوعی ذہانت کے بارے میں بڑوں کو جو معلو مات درکار ہوتی ہے وہ تعلیمی انقلاب کے ذریعے پوری ہوتی نظر آتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ تعلیمی انقلاب بچوں کے ساتھ ساتھ، گھر کے بڑوں کے لیے بھی یکساں طور پر کارآمد اور قابلِ مطالعہ ہے۔
ڈاکٹر سید شعیب ہاشمی(سپرنٹنڈنٹ مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی)
تعلیمی انقلاب والدین ا ور اساتذہ کیلئے بھی خاص ہے

میری نظر میں ’’تعلیمی انقلاب‘‘ صرف بچوں کے لیے ہی نہیں بلکہ گھر کے بڑوں کے لیے بھی بے حد مفید اور کارآمد اخبار ہے۔ آج کے تیز رفتار دور میں ہر شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اردگرد ہونے والی تبدیلیوں سے باخبر رہے۔ ’’تعلیمی انقلاب‘‘ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، صحت، ماحولیات، سماج، تاریخ اور ادب جیسے مختلف موضوعات پر مفید معلومات فراہم کرتا ہے، جس سے بڑوں کے علم میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی سوچ وسیع ہوتی ہے۔
والدین اور اساتذہ کے لیے یہ اخبار خاص طور پر اہم ہے۔ بچوں کی تعلیم، تربیت، نفسیات، شخصیت سازی اور تعلیمی مسائل سے متعلق مضامین والدین کو اپنے بچوں کو بہتر سمجھنے اور ان کی مناسب رہنمائی کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اساتذہ بھی اس کے ذریعے نئے تدریسی طریقوں، تعلیمی سرگرمیوں اور طلبہ کی ذہنی و فکری نشوونما سے متعلق مفید معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
اردو زبان و ادب سے متعلق مضامین بڑوں کے ادبی ذوق کو نکھارتے اور زبان و بیان بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ اخبار قاری میں مطالعے، غوروفکر، تحقیق اور مثبت سوچ کی عادت پیدا کرتا ہے۔
مختصراً، ’’تعلیمی انقلاب‘‘ بچوں اور بڑوں کے درمیان علم کا ایک خوبصورت پل ہے۔ یہ اخبار علم، آگہی، رہنمائی، مثبت سوچ اور شخصیت سازی کا مؤثر ذریعہ ہے۔ اگر بچے کے ساتھ والدین اور اساتذہ بھی اسے باقاعدگی سے پڑھیں تو اس کے فوائد کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔
مومن ناظمہ محمد حسن (لیکچرار،ستیش پردھان گیان سادھنا کالج، تھانے)
تعلیمی انقلاب کے تمام شمارے میرے پاس محفوظ ہیں

نو سال قبل شروع کئے گئے ’ تعلیمی انقلاب‘ نے نہ صرف ایک ضمیمہ کی صورت میں،’ انقلاب‘ میں اپنی جگہ محفوظ کرلی ہے بلکہ طلبہ و اساتذہ کیلئے مسلسل رہنمائی و تحریک کا باعث بنا ہوا ہے اور بڑی عمر کے قارئین کیلئے بھی مطالعہ کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس کے مطالعہ سے محسوس ہوتا ہے جیسے ’لوٹ آیا بچپن میرا‘.... تعلیمی انقلاب میں کہانیاں، اہم واقعات کی جھلک، انٹرویوز، ذو لسانی مہارت کی غرض سے انگریزی کی آمیزش، طلباء وطالبات کی تحریریں، الفاظ کے ذو لسانی معمہ وغیرہ ایسے کئی اندراجات ہر عمر کیلئے وجہ التفات بنے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: یاد رکھئے، صرف حصولِ مال ہی ہمارا مقصدِ حیات نہیں ہے
یہ حقیقت ہے کہ تعلیمی انقلاب طلبہ کی ذہنی تربیت کے مقصد سے شروع کیا گیا تھا جس میں کافی حد تک کامیابی نصیب ہوئی ہے، مگر مجھ جیسے ادھیڑ عمر کے شخص کیئے بھی’تعلیمی انقلاب‘ کا انتظار و مطالعہ لازمی ہوگیا ہے۔ میں طویل عرصے سے تعلیمی انقلاب کا ادنیٰ سا قاری رہا ہوں اور اس کے تقریباً سبھی شمارے جلد بند کرکے محفوظ کرکے رکھا ہوں۔ فرصت کے اوقات میں مطالعہ سے ذہنی سکون حاصل کرتا رہاہوں۔ ’تعلیمی انقلاب‘ موقع و محل کے مناسبت سے طلبہ کے اذہان کی خصوصی تربیت کا فریضہ ادا کر رہا ہے۔ متعدد تعداد میں طلبہ مجھ سے رابطے میں ہیں، جنھیں میں مطالعہ کرنے کی ترغیب دیتا ہوں۔ امتحان کے اوقات میں اس سلسلے کی تحریریں، یوم آزادی کے موقع پر اس تعلق سے خصوصی مضامین،جشن یوم جمہوریہ کے ماحول میں اسی مناسبت سے معلوماتی تحریروں کی اشاعت اس ضمیمہ کی اہمیت کو مزید آشکار کر تی ہے۔ تعلیمی انقلاب نے ادب کے موضوع کو نہایت خوبصورتی کے ساتھ اپنے یہاں جگہ دی ہے۔ اس سلسلے میں نہ صرف ملکی ادب کی شمولیت ہوتی ہے بلکہ عالمی ادب کے نمائندہ شاہکاروں کے اردو تراجم سے بھی طلبہ کو مستفیض ہونے کا موقع ملتا ہے۔ میں طلباء و طالبات کا یا والدین کا رابطہ نمبر حاصل کرکے انھیں پہنچانے کی کوشش کرتا ہوں۔ نو سال کے تمام ضمیمہ محفوظ ہونے کی وجہ سے انگنت طلبہ اقوال زرین، لطیفے، اشعار حاصل کرنے کے لئے مجھ سے رابطہ قائم کرتے ہیں۔ مستقبل میں اس کے جلد بند ضمیمے آنے والی نسل نو کے لئے علمی خزانہ بن سکتے ہیں۔
مصدر عبداللہ ملاجی( سماجی خدمت گار)
یہ صرف ایک اخبار نہیں، انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت اختیار کر چکا ہے
تعلیمی انقلاب محض طلبہ کے لیے مفید تعلیمی مواد کا مجموعہ نہیں بلکہ ہر عمر کے قارئین کے لیے علم و آگہی کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔ میرے نزدیک یہ صرف ایک اخبار نہیں ، بلکہ انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جو ذہن کے دریچے وا کرتا، معلومات میں وسعت پیدا کرتا اور قاری کو غور و فکر کی نئی جہتوں سے روشناس کراتا ہے۔
تعلیمی انقلاب کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ مختلف موضوعات کو باہم مربوط کرکے نہایت سلیقہ مند اور دلچسپ انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے مضامین طلبہ کے ساتھ ساتھ بڑوں کی شخصیت اور عملی زندگی پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔ وقت کی پابندی، مستقل مزاجی، عزم و حوصلہ، ذہنی یکسوئی اور توجہ مرکوز کرنے جیسے موضوعات ہر عمر کے افراد کے لیے یکساں مفید ہیں۔اس کے علاوہ ایسے مضامین بھی شامل ہوتے ہیں جو ہماری فکری وسعت، قوتِ استدلال اور منطقی اندازِ فکر کو پروان چڑھاتے ہیں۔ منطقی استدلال پر مبنی تحریریں ہمیں کسی معاملے کو گہرائی سے سمجھنے، تجزیہ کرنے اور دلیل کی بنیاد پر رائے قائم کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔
مختلف شخصیات، علمی موضوعات، اہداف کے تعین اور زندگی کے چیلنجز سے نبردآزما ہونے کے طریقوں سے متعلق مضامین بھی قارئین کے لیے بے حد معلومات افزا ہیں۔ اسی طرح اسلامی معلومات اور اسلامک کوئز کے ذریعے انبیائے کرام علیہم السلام اور دیگر دینی موضوعات کے بارے میں معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔
گزشتہ نو برسوں کا یہ سفر صرف طلبہ تک محدود نہیں رہا بلکہ ہر عمر کے قارئین نے اس سے استفادہ کیا ہے۔ بلاشبہ تعلیمی انقلاب بچوں کے لیے تو مفید ہے ہی، مگر یہ بڑوں کے لیے بھی علم میں اضافے، فکر کی پختگی اور شخصیت سازی کا ایک مؤثر وسیلہ ہے۔ ربِ کائنات سے دعا گو ہوں کہ یہ سلسلہ ایسے ہی جاری و ساری رہے اور ہم جیسے قارئین کے مطالعے میں اضافہ کرتا رہے۔
تبسم ہاشمی( معلمہ و ادیبہ،پونے)