• Thu, 01 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

Doc at Home، جس طرح گروسری آرڈر کرتے ہیں، طبی خدمات بھی بک کر سکتے ہیں

Updated: October 01, 2026, 7:39 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

ہندوستان کے بڑے شہروں میں ’’آن ڈیمانڈ ہوم ہیلتھ کیئر‘‘ کا رجحان تیزی سے جگہ بنا رہا ہے، جہاں ایپس کے ذریعے ڈاکٹر کو گھر پر بلانے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ کوئک کامرس سے پیدا ہونے والی فوری خدمات کی توقع اب صحت کے شعبے تک پہنچ چکی ہے، تاہم طبی سہولت میں رفتار کے ساتھ معیار، رازداری اور مریض کی حفاظت بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

Until recently, patients would visit the doctor`s clinic, but now, for certain services, the doctor is reaching the patient. Photo: INN
کل تک مریض ڈاکٹر کے کلینک تک جاتا تھا مگر اب بعض خدمات کے ساتھ ڈاکٹر مریض تک پہنچ رہا ہے۔ تصویر: آئی این این

کیا آپ ’’آن ڈیمانڈ ہوم ہیلتھ کیئر‘‘ نامی اصطلاح سے واقف ہیں؟ یوں سوچئے کہ جب ۱۰؍ منٹ میں گروسری گھر پہنچ سکتی ہے تو ڈاکٹر کیوں نہیں؟ ہندوستان کے بڑے شہروں میں اسی سوال کا جواب دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جب ایپس کے ذریعے ۵؍ سے ۱۰؍ منٹ میں آپ تک گروسری، رکشا اور ٹیکسیاں پہنچ جاتی ہیں تو ڈاکٹر کیوں نہیں! ہندوستان میں ڈوک ہوم، پورٹی میڈیکل، اپولو ہوم کیئر اور کیئر ۲۴؍ جیسے چند ایپس یہ سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ ان کے ایپس یا ویب سائٹ پر ڈاکٹر کی بکنگ کیجئے اور ۲۰؍ سے ۶۰؍ منٹ میں ایک طبی ماہر آپ کے دروازے پر ہوگا۔ 

سوال یہ بھی ہے کہ مریض ڈاکٹر کو گھر پر کیوں بلائے گا؟ وجہ ہے ٹریفک، اسپتال کی قطار، اور بیمار شخص کو لے کر سفر کرنا، جیسی دشواریوں سے بچنا۔ یوں کوئک کامرس نے صرف سامان پہنچانے کی رفتار نہیں بدلی؛ اس نے صارف کی سہولت کی توقع بھی بدل دی ہے۔ یہیں سے یہ ایک دلچسپ کاروباری کہانی شروع ہوتی ہے۔ مریض نہ صرف ڈاکٹر کے وقت کی قیمت دے رہا ہے؛ وہ اپنے لئے بھی وقت خرید رہا ہے۔ اسپتال جانے میں سفر، پارکنگ، رجسٹریشن، انتظار اور واپسی شامل ہو سکتی ہے۔کسی شخص کیلئے کام سے چھٹی لینا اور معمر افراد کیلئے سفر مسئلہ بن سکتا ہے۔ اسی طرح والدین کا بچے کو ساتھ لے جانا خرچ بڑھا سکتا ہے۔ گھر پر مشاورت ان لاگتوں کو کم کرنے میں معاون ہوسکتی ہے۔ یعنی صحت کی نئی معیشت میں وقت بھی ایک قابلِ فروخت سہولت بن رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ جین زی ’اے بی وی پی‘ کے جھانسے میں آگئی ہے

کوئک کامرس نے صارف کو ایک خاص ذہنی معیار کا عادی بنایا ہے: اگر کھانا، دوا یا روزمرہ سامان فوراً مل سکتا ہے تو باقی خدمات میں اتنا انتظار کیوں؟ یہی توقع اب صحت تک پہنچ گئی ہے مگر یہاں ایک بنیادی فرق ہے۔ گروسری کو جلدی پہنچانا لاجسٹکس کا مسئلہ ہے؛ ڈاکٹر کو جلدی پہنچانا لاجسٹکس کے ساتھ طبی ذمہ داری کا مسئلہ بھی ہے۔ غلط تشخیص یا غیر ضروری تاخیر کی قیمت خراب خدمت (سروس)  سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی لئے ’کوئک ڈاکٹر‘ ماڈل کو صرف رفتار کی دوڑ بنانا خطرناک ہوگا۔ اچھی سروس کا سوال یہ ہے کہ مریض کی حالت درست سمجھی گئی، ضروری معائنہ ہوا اور ضرورت پر اسپتال بھیجنے کا فیصلہ بروقت کیا گیا یا نہیں۔ گھر پر ڈاکٹر کی سہولت معمولی بیماری، فالو اَپ اور ایسے مریضوں کیلئے موزوں ہو سکتی ہے جنہیں سفر مشکل لگتا ہے مگر ہنگامی صورت حال گھر پر حل نہیں ہو سکتی۔

کاروباری لحاظ سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک گھر کی وزٹ آمدنی کا واحد راستہ نہیں کھولتا۔ ڈاکٹر کی مشاورت کے بعد خون ٹیسٹ، ای سی جی، ایکسرے، نرسنگ، فزیوتھیراپی کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ یوں مریض کے گرد خدمات کا سلسلہ بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہوم ہیلتھ کیئر پلیٹ فارم ڈاکٹر بھیجنے تک محدود نہیں رہنا چاہتے۔ ان کیلئے موقع ’گھر کو کلینک‘ بنانے میں ہے۔

اس ماڈل میں بڑا شیئر بڑھتی ہوئی معمر آبادی کا ہے۔ والدین یا دادا دادی کیلئے بار بار اسپتال جانا مشکل ہو تو گھر پر معائنہ کیلئے ڈاکٹر کو بلایا جاسکتا ہے۔ اسی طرح چھوٹے بچوں کے والدین کیلئے رات کے وقت بخار یا کمزوری کی صورت میں ڈاکٹر کو ایپس کے ذریعے بکنگ کرکے گھر بلانا زیادہ آسان ہے لیکن صبح، دوپہر، شام اور رات کے وقت فیس مختلف ہوسکتی ہے۔ یہاں کاروبار، سہولت اور ضرورت کے بیچ جگہ بناتا ہے۔ لیکن خدمات کی فیس ہمیشہ اہم رہے گی۔ اگر گھر پر ڈاکٹر کی فیس اسپتال یا کلینک سے زیادہ ہو تو یہ خدمت متوسط طبقے کی روزمرہ ضرورت کے بجائے مخصوص صارفین تک محدود رہ سکتی ہے۔ دوسری طرف اگر پلیٹ فارم مناسب قیمت پر زیادہ ڈاکٹر، بہتر روٹ مینجمنٹ اور مسلسل بکنگ دیں تو یہ ماڈل شہری بازار میں پھیل سکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: جموئی اور سمستی پور کے ویڈیوز: ایسا کرنے والے اس قدر بےحس کیسے ہوسکتے ہیں؟

اصل مقابلہ صرف ڈاکٹر کا نہیں، ڈاکٹر کے وقت اور سفر کو منافع بخش بنانے کی صلاحیت کا بھی ہے۔ ٹیکنالوجی اس حساب کو مزید بدل سکتی ہے۔ لائیو لوکیشن، قریب تر ڈاکٹر کا خودکار تعین، ڈجیٹل نسخہ، گھر پر تشخیص اور آن لائن فالو اَپ ایک ہی پلیٹ فارم پر جڑ سکتے ہیں۔ مگر ہر تیز سروس کے ساتھ ڈیٹا، رازداری، لائسنس، طبی معیار اور ہنگامی حالات کیلئے واضح پروٹوکول بھی ضروری ہیں۔ صحت میں ’فوری‘ کا مطلب ’بد احتیاطی‘ نہیں ہو سکتا۔ 

ملک میں ’کوئک ڈاکٹر‘ کا اصل مطلب ڈاکٹروں کو بلنک اِٹ بنا دینا نہیں ہے۔ اصل تبدیلی یہ ہے کہ میڈیکل سروسیز بھی صارف کے وقت کو کاروباری قدر سمجھنے لگی ہیں۔ کل مریض ڈاکٹر کے پاس جاتا تھا؛ آج کچھ خدمات ڈاکٹر کو مریض تک لارہی ہیں۔ مستقبل میں کامیاب ماڈل وہ ہوگا جو رفتار کو سہولت سے، سہولت کو معیار سے اور معیار کو اعتماد سے جوڑ سکے۔ صحت کی دنیا میں سب سے قیمتی خدمت (سروس) وہی ہے جو وقت پر پہنچے، اور صحیح فیصلہ کی حامل ہو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK