کیا ملک میں لاک ڈاؤن کو کامیاب کہا جا سکتا ہے؟

Updated: May 10, 2020, 1:17 PM IST | Jamal Rizvi

لاک ڈاؤن کو کامیاب بنانے کیلئے حکومتی سطح پر جو اقدامات ناگزیر تھے، ان پر توجہ دینے کے بجائے عوام کو جذباتی سطح پر متاثر کرنے کی قواعد پر سارا زور دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ وبا اپنے اس دور میں پہنچ چکی ہے جس میں متاثرین کی تعداد میں اضافہ تیزی کے ساتھ ہوتا ہے

Lockdown - Pic : PTI
لاک ڈاؤن ۔ تصویر : پی ٹی آئی

تقریباً ڈیڑھ ماہ سے جاری ملک گیر لاک ڈاؤن نے ایک طرف جہاں معیشت کو تشویش ناک حد تک متاثر کیا ہے وہیں دوسری جانب کووڈ ۱۹؍ کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کی رفتار کے مد نظر یہ سوال بجا طور پر پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کا یہ فیصلہ کس حد تک کامیاب رہا؟ ملک میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کے حکومتی اعلان کے بعد ہی سے یہ سوال اکثر اٹھتا رہا ہے کہ ایسے کسی بڑے فیصلے کو عملی شکل دینے سے قبل جس طرح کی تیاریاں ضروری تھیں، وہ نہیں کی گئیں ۔ چونکہ اس طرح کے سوالات اکثر و بیشتر اپوزیشن کی طرف سے کئے گئے لہٰذا ان سوالوں سے وابستہ حقائق پر غور و فکر کے بجائے اسے حکومت پر تنقید محض کے زمرے میں ڈال دیا گیا۔اس مرحلے پر اقتدار پرست میڈیا نے بھی عوام کے درمیان اپوزیشن کی امیج کو حکومت مخالف عناصر کے طور پر مشتہر کرنے کی کوشش کی ۔ اس کوشش کااتنا اثر تو ضرور ہوا کہ معاشرہ کا ایک طبقہ تھالی و تالی بجانے، روشنی کرنے اور فوج کے ہیلی کاپٹر وں سے ڈاکٹروں اور پولیس والوں پر پھول برسائے جانے کو اس وبا کی روک تھام میں موثر اقدام کے طور پر دیکھنے لگا۔حکومت اور اقتدار پرست میڈیا اسی طبقہ کی دلجوئی میں لگا رہا اور اس وبا نے جو سنگین صورتحال اختیار کر لی اس حقیقت کو محسوس کرنے اور اس پر قابو پانے کیلئے ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدام کرنے کی طرف سنجیدہ توجہ نہیں دی گئی ۔
 اس وقت ملک میں لاک ڈاؤن کا تیسرا دور جاری ہے اور کووڈ۱۹؍ مریضوں کی تعداد میں اضافہ جس تیز رفتاری کے ساتھ ہو رہا ہے، اس کے مد نظرلاک ڈاؤن کی مدت میں توسیع کے امکان کو یکسر خارج نہیں کیا جا سکتا۔۳؍ مئی سے شروع ہونے والے لاک ڈاؤن کے اس تیسرے دور میں اگرچہ بعض مقامات پر کچھ نرمی برتی جارہی ہے تاہم اس نرمی سے نہ تو عوام کے مسائل میں کوئی کمی آئی ہے اور نہ ہی اس مرض کے پھیلنے کی رفتار پر کوئی اثر پڑ ا ہے ۔وزیر اعظم نے جب پہلی مرتبہ لاک ڈاؤن کے نفاد کا اعلان کیا تھا تو اس وقت یہ کہا جا رہا تھا کہ حکومت نے یہ فیصلہ بروقت کیا ہے اور اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ خود وزیر اعظم نے بڑے اعتماد کے ساتھ یہ کہا تھا کہ لاک ڈاؤن کی مدد سے ہم اس وبا کے پھیلا ؤ پر کم از کم اس حد تک قابو ضرور پا سکیں گے کہ اس کے متاثرین کی تعداد تشویش ناک حد تک نہ پہنچے۔دوسری مرتبہ عوام سے خطاب کے دوران بھی کم و بیش ان کا یہی کہنا تھا کہ اگر چہ اس فیصلے سے حکومت کو معاشی سطح پر کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تاہم عوام کو اس بیماری سے محفوظ رکھنے میں مدد ملے گی۔
 اس وقت ملک گیر سطح پر کورونا متاثرین کی تعداد میں اضافہ جس رفتار سے ہورہا ہے، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کا یہ فیصلہ موثر اور کارگر ثابت نہیں ہوا۔ ملک گیر  سطح پر کورونا متاثرین کی تعداد ۵۰؍ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور اس تعداد میں اضافہ مسلسل جاری ہے۔لاک ڈاؤن کی دوسری میعاد کے بعد جب ملک کی بعض ریاستوں میں حالات قدرے معمول پر لوٹ رہے تھے کورونا متاثرین کی تعداد میں اضافے کی رفتار نے ان ریاستوں میں بھی دہشت زدہ ماحول پیدا کر دیا۔مرکزی وزارت صحت کی جانب سے اس بیماری کے متعلق ہر روز جو معلومات فراہم کی جاتی ہیں اس میں اس بات پر خاصا زور دیا جاتا ہے کہ ملک میں اس وبا کے پھیلاؤ کی رفتار دیگر ممالک کے مقابلے کم ہے اور اس کیلئے حکومت کے فیصلوں اور اقدامات کی پذیرائی ہونی چاہئے۔
 مرکزی وزارت صحت کی جانب سے جاری کئے جانے والے ایسے بیانات تصویر کا صرف ایک رخ پیش کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس یکطرفہ حقیقت کی بنیاد پر حقیقی صورتحال کو تادیر فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ دینا کے وہ ممالک جہاں یہ بیماری وسیع پیمانے پر پھیلی ان تمام ملکوں میں متاثرین کی تعداد میں اضافے کی رفتار کا جو تناسب سامنے آیا، اس کے مقابلے میں ہندوستان میں اس بیماری کے پھیلنے کی رفتار کہیں زیادہ ہے ۔ عالمی سطح پر اس وبا کے متاثرین کی تعداد تقریبا ً ۲۱؍ دنوں میں دُگنا ہوئی جبکہ وطن عزیز میں اوسطاً ۱۱؍ دنوں میں متاثرین کی تعداد دُگنا ہوئی۔ لاک ڈاؤن کے  تیسرے دور میں متاثرین کی تعداد جس رفتار سے بڑھ رہی ہے، اس سے یہ خدشہ پیدا ہو چلا ہے کہ جب  اسے مکمل یا جزوی طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا تو حالات مزید سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ اس وبا سے جو ریاستیں سب سے زیادہ متاثر ہیں وہی ملک کے معاشی و اقتصادی نظام کو مضبوط بنائے رکھنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں ۔ مہاراشٹر، گجرات، کرناٹک اور  دہلی میں اس وقت جو صورتحال ہے وہ نہ صرف اس وبا کے پھیلنے کی رفتار کی وجہ سے بلکہ ان مقامات پر جاری رہنے والی معاشی سرگرمیوں کے درہم برہم ہو جانے کی وجہ سے تشویش کا باعث ہے۔
 لاک ڈاؤن کو کامیاب بنانے کیلئے حکومتی سطح پر جو اقدامات ناگزیر تھے، ان پر توجہ دینے کے بجائے عوام کو جذباتی سطح پر متاثر کرنے کی قواعد پر سارا زور دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ وبا اپنے اس دور میں پہنچ چکی ہے جس میں متاثرین کی تعداد میں اضافہ تیزی کے ساتھ ہوتا ہے۔ چین، امریکہ، اٹلی، برطانیہ اور دنیا کے دیگر ملکوں میں اس وبا کے پھیلنے کے جو مختلف مراحل رہے، اس کے تناظر میں یہ دعویٰ تو نہیں کیا جا سکتا تھا کہ یہ وباہندوستان میں اپنادائرہ وسیع نہیں کرے گی تاہم اگر لاک ڈاؤن کے دوران حکومتی سطح پر کچھ ٹھوس اقدامات کئے جاتے تو شاید اس کے پھیلاؤ کی رفتار پر کچھ قابو پایا جا سکتاتھا۔ ان اقدامات میں سب سے اہم اور ضروری یہ تھا کہ مشتبہ مریضوں یا متاثرین کی جانچ میں اضافہ کیا جاتا۔ اس وبا کے پھیلاؤ کی رفتار کو جاننے کا سب سے بنیادی مرحلہ ٹیسٹنگ کا ہے اورافسوس کی بات یہ ہے کہ اس مرحلے پر سنجیدگی سے عمل نہیں کیا گیا۔ ملک گیر سطح پراب تک محض ۱۳؍ لاکھ ٹیسٹ ہوئے ہیں اور ظاہر ہے کہ پورے ملک کی آبادی کے تناسب کے لحاظ سے یہ تعداد برائے نام ہے ۔ 
 کورونا کی زد میں آنے کے بعد میڈیکل شعبہ کی بعض ایسی خامیاں اجاگر ہوئی ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ یہ شعبہ ایسے ہنگامی حالات کا مقابلہ اطمینان بخش طور پر کرنے سے معذور ہے ۔ اس وبا کے متاثرین کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں اور دیگر میڈیکل اراکین کیلئے پی پی ای کِٹ اور دیگر ضروری لوازم بھی اس تعداد میں دستیاب نہیں ہیں کہ یہ میڈیکل افراد اپنی صحت کے تئیں مطمئن ہو کر متاثرہ افراد کا علاج کر سکیں۔ یہی سبب ہے کہ بہار اور یوپی کے کئی سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹر یا تو چھٹی پر چلے  گئے یا دانستہ طور پر ڈیوٹی پر آنے سے گریز کرتے رہے۔ جب حالات نے سنگین شکل اختیار کر لی تو حکومتوں کو اس سلسلے میں باقاعدہ حکم جاری کرنا پڑا کہ ڈاکٹر اپنی ڈیوٹی میں تساہلی نہ برتیں۔ پرائیوٹ پریکٹس کرنے والے ڈاکٹروں کا بھی معاملہ کم و بیش اسی طرح کا ہے، اسی لئے مہاراشٹر حکومت نے گزشتہ دنوں یہ حکم نامہ جاری کیا کہ پرائیویٹ پریکٹس کرنے والے ڈاکٹر لازمی طور پر ۱۵؍ دنوں کیلئے کورونا مریضوں کے علاج میں تعاون کریں۔کورونا کے سبب اسپتالوں میں جو ابتر صورتحال پیدا ہوگئی ہے، اس کے سبب دیگر امراض سے متاثرہ افراد کے علاج میں بڑی دشواریاں پیدا ہو گئی ہیں۔ اس ضمن میں مختلف ریاستوں میں بعض ایسے معاملات بھی سامنے آئے کہ امراض قلب یا ذیا بیطس کے مریضوں کو بروقت علاج نہ ملنے پر ان کی موت ہو گئی۔ ملک کے میڈیکل شعبہ کی یہ صورتحال فوری طور پر ایسے اقدامات کا مطالبہ کرتی ہے کہ کورونا کے علاوہ دوسری بیماریوںسے متاثرہ افراد کیلئے کارگر علاج کو یقینی بنایا جائے ۔ 
 میڈیکل شعبہ کے علاوہ وہ دیگر شعبہ جات جو سماجی نظام کورواں اور متحرک بنائے رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ان کی صورتحال بھی بہت اطمینان بخش نہیں ہے۔ اس ضمن میں مقامی انتظامیہ کی مثال دی جا سکتی ہے جو ایسے نازک وقت میں عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے میں بہت حد تک ناکام ثابت ہوا۔ جب ملک گیر سطح پر معاشرہ زندگی کی رفتار کو بدستور جاری رکھنے کی جد و جہد کر رہا ہو، ایسے میں مقامی انتظامیہ کی بد نظمی اور بد عنوانی یقیناً افسوس کی بات ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران عوام کو ضروری اشیا کی فراہمی کے سلسلے میں مختلف مقامات سے ایسی خبریں آئیں جو مقامی انتظامیہ کی نا اہلی اور جانب داری کو نمایاں کرتی ہیں۔ جب ملک ایسے سنگین حالات سے گزر رہا ہو تو تمام شعبہ ہائے حیات سے وابستہ افراد کو اپنی ذمہ داری اخلاص اور پوری دیانت داری کے ساتھ ادا کرنے اور ساتھ ہی حکومت کو بھی مثالی رویہ اختیار کرنے کے بجائے حقائق کو پیش نظر رکھ کر فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مشکل حالات پر اطمینان بخش حد تک قابو پا یا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK