سیاسی نظریہ ساز امریکی پروفیسر سیموئیل پی ہنٹنگٹن کی ۱۹۹۶ء میں شائع ہونے والی شہرہ آفاق کتاب ’کلیش آف سیویلائزیشن اینڈ ری میکنگ آف ورلڈ آرڈر‘ کا جائزہ، جس میں انہوں نےنظریہ پیش کیا ہے کہ دنیا میں مستقبل کے بڑے تصادم نظریاتی یا معاشی نہیں بلکہ تہذیبی ہوں گے۔
اس وقت مشرق وسطیٰ میں ایک بھیانک جنگ جاری ہے۔ یہ سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ نئے زمانے میں ملکوں کے درمیان جنگ و جدال کی بنیادی وجوہات کیا ہیں ؟ کیا صرف قدرتی وسائل، مال ودولت پر قبضے جیسے معاشی محرکات کارفرما ہیں ؟ ہم نے دیکھا کہ گزشتہ صدی میں نظریاتی بنیادوں پر ملکوں کی دھڑے بندی ہوئی اور ان کے درمیان جنگیں لڑی گئیں۔ سرمایہ داری کے علمبردار امریکہ اور اشتراکیت کا پرچم تھامے سویت یونین کے درمیان سرد جنگ بھی ایک طویل عرصہ جاری رہی۔ ان نظریاتی اسباب سے ہٹ کر، امریکی سیاسی سائنسداں سیموئیل پی ہنٹنگٹن نے ایک تھیوری پیش کی۔ دنیا کے بدلتے ہوئے منظرنامے کو انھوں نےایک نئے زاویۂ نگاہ سے سمجھانے کی کوشش کی۔ ان کا مرکزی دعویٰ یہ تھا کہ مستقبل کے بڑے تصادم نظریاتی یا معاشی نہیں بلکہ تہذیبی ہوں گے؛ یوں کہئے کہ آنے والے دور کی جنگیں ثقافتی اور مذہبی بنیادوں پر لڑی جائیں گی۔ آنے والا دور تو اب آچکا اوریہ تھیوری کسی حد تک حقیقت بنتی نظر آتی ہے۔
ہنٹنگٹن کی تحقیقی کتاب’ تہذیبوں کے درمیان تصادم اور عالمی نظام کی دوبارہ تشکیل‘ ۱۹۹۶ء میں منظر عام پر آئی، لیکن اس سے قبل ۱۹۹۳ء میں امریکی جریدے فارن افیئرس میں اس موضوع پران کا مقالہ علمی وصحافتی حلقوں میں تہلکہ مچا چکا تھا۔ سوویت یونین کو ٹوٹے چند ہی برس گزرے تھے۔ سرمایہ دارانہ نظام کو بظاہر حتمی فتح حاصل ہو چکی تھی۔ یک ستونی دنیا میں بہت سے دانشور اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ اب دنیا ایک لبرل جمہوری عالمی نظم کی طرف بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں ہنٹنگٹن کی آواز گویا کسی خاموش جھیل میں پتھر کی طرح گری جس نے فکری لہروں کو تیز کر دیا۔
ہنٹنگٹن کے مطابق انسانی تاریخ میں شناخت کی کئی سطحیں رہی ہیں ؛ قبیلہ، قوم، ریاست اور نظریہ۔ مگر سرد جنگ کے بعد سب سے طاقتور شناخت تہذیب کی ہے۔ وہ تہذیب کو ایک وسیع ثقافتی اکائی کے طور پر دیکھتے ہیں جس میں زبان، تاریخ، مذہب، رسوم و رواج اور اجتماعی شعور شامل ہیں۔ وہ دنیا کو چند بڑی تہذیبوں میں تقسیم کرتے ہیں : مغربی، لاطینی امریکی، افریقی، اسلامی، چینی، ہندو، آرتھوڈوکس مسیحی، بدھسٹ اور جاپانی۔ یہ تقسیم محض جغرافیائی نہیں بلکہ تہذیبی و ثقافتی بنیادوں پر ہے۔ ہنٹنگٹن کا استدلال ہے کہ عالمی سیاست میں دراڑیں انہی تہذیبوں کے سنگم پر زیادہ نمایاں ہوں گی۔
کتاب میں ایک اہم نکتہ مغرب کے رو بہ زوال ہونے کا ہے۔ پچھلی چند صدیوں میں مغربی تہذیب نے سائنسی، عسکری اور معاشی برتری کے ذریعے دنیا پر غلبہ قائم رکھا، مگر اکیسویں صدی میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے۔
چین عروج پا رہا ہے اور آج تو وہ ایک مضبوط عالمی معاشی طاقت بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے اخبارات نے جنگ بندی میں مودی سرکار پر پاکستان کو اہمیت دینے پر تنقید کی
اسلامی دنیا کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
کئی غیرمغربی معاشرے ثقافتی طور پر خود اعتمادی محسوس کر رہے ہیں۔
یہ سب اس تبدیلی کی علامتیں ہیں۔ ہنٹنگٹن مغرب کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنی اقدار کو یونیورسل یعنی عالمگیر سمجھنے کی غلطی نہ کرے۔ ان کے نزدیک جمہوریت، انسانی حقوق اور سیکولر ازم مغربی تاریخ کی پیداوار ہیں ؛ انہیں زبردستی عالمی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش ردعمل کو جنم دے گی۔ عالمی سیاست میں مذہب کا کردار بڑھتا جارہا ہے۔ ہنٹنگٹن کے مطابق موجودہ دور میں سیاسی نظریات کے خلاء کو مذہب نے پُر کیا ہے۔ تمام قوموں میں مذہب سے وابستگی بڑھی ہے۔ لوگوں کو ایک نئی شناخت درکار ہے، وہ ایک مستحکم معاشرے کی آرزو کرتے ہیں، انہیں نئی اخلاقی اقدار کی ضرورت ہے کہ جو انہیں زندگی کی مقصدیت اور معنویت عطا کریں۔ مذہب اُن کی یہ ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کتاب کیا ہے، تحقیق کا ایک گہرا سمندر ہے۔ تہ در تہ پرتوں پر مشتمل اعداد و شمار کا خزانہ ہے۔ بتاتے ہیں کہ غیر مغربی قوتوں کا عالمی امور میں اثرونفوذ اور فیصلہ کن کردار (مغرب کے مقابلے) نسبتاً تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ہنٹنگٹن خصوصی طور پر جاپان، ہانگ کانگ، تائیوان، جنوبی کوریا، سنگاپور اور چین جیسے ملکوں پر توجہ مرکوز کرتے ہیں جنہوں نے اپنی ثقافتی معقولیت کو معاشی میدانوں میں ترقی اور کامیابی سے بزورِ قوت منوالیا ہے۔ ایشیائی معاشرے امریکہ کے تحفظات و مطالبات پرسرِ تسلیم خم کرنے کی روش کو رفتہ رفتہ خیر باد کہتے جارہے ہیں۔ امریکی یا مغربی دباؤ کے سامنے کھڑے ہونے کی طاقت دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ راقم الحروف کے خیال میں ان سب کو عمومی رجحان کے طور پر دیکھا جانا چاہئے ورنہ استثناعات بھی موجود ہیں۔
متاثر کن علمی اورتحقیقی شکل کے باوجود ہنٹنگٹن کا تعصب کہیں کہیں جھلک پڑتا ہے۔ کتاب کا متنازع حصہ اسلامی اور مغربی تہذیب کے تعلق سے ہے۔ ہنٹنگٹن نے ایک ذیلی سرخی میں یہ فقرہ تحریر کیا جو بعد میں بارہا نقل ہوا: ’اسلام کی خون آشام سرحدیں ‘۔ مسلم اور غیر مسلم ملکوں کے درمیانی سرحدوں پر ہونے والے کشت وخون کے ذریعے مصنف نےکچھ معنی خیز باتیں کہنے کی کوشش کی ہے۔ مسلمان معاشروں میں لوگوں کا مذہب سے لگاؤ اور عملی رجحان اوروں کے مقابلے زیادہ شدت اور قوت سے ابھر کر سامنے آیا ہے۔ ہنٹنگٹن کے مطابق مسلم معاشروں میں مغربی ثقافت کو مسترد کرنے کا رجحان بھی بڑھا ہے اورمسلمانوں میں خیال بھی تقویت پکڑ رہا ہے کہ اسلام ہی دنیا بھر کیلئے مکمل ضابطہ حیات ہے اور نئی دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ مصنف اس بات کو بھی دلائل سے واضح کرتا ہے کہ مسلمان ریاستوں کی معاشی ناکامی، غیرمطمئن نوجوانوں کی تعداد میں اضافے اور آمرانہ طرزِ حکومت نے لوگوں کو مذہب میں پناہ لینے کی طرف مائل کیا ہے۔
کہتے ہیں کہ مغرب کا مسئلہ اسلامی بنیاد پرستی نہیں بلکہ خود اسلام ہے، ایک بالکل مختلف تمدن جس کے لوگ اپنی تہذیب کی برتری پر شرح صدر رکھتے ہیں اور اپنی طاقت کی کمتری کے خیال ہی سے جنوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح اسلام کیلئے سی آئی اے یا امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نہیں بلکہ مغرب ہی مسئلہ ہے، ایک مختلف تمدن جس کے لوگ اپنے کلچر کی آفاقیت کے قائل ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ( زوال پذیر سہی) ان کی غالب طاقت، ان پر دنیا بھر میں اپنے کلچر کی توسیع کی ذمہ داری عائد کرتی ہے۔ اسلام اور مغرب کے درمیان تصادم کی آگ بھڑکانے والے یہ بنیادی اجزا ہیں۔
ہندوستان میں اکھنڈ بھارت کے عزائم نیز ہندوتوا کے سانسکرتک راشٹرواد سے ہنٹنگٹن زیادہ واقف نہ تھے لیکن ان کے خیالات کی لائن درست ثابت ہوئی۔ انھوں نے چینی تہذیب کے احیاء کی پیش گوئی کی۔ آج جب چین عالمی معیشت میں مرکزی کردار ادا کررہا ہے تو ان کا تجزیہ بصیرت افروز محسوس ہوتا ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ چین اپنی تہذیبی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے ایک ماڈرن، ترقی یافتہ ملک بنے گا اور مغربی اقدار کو مکمل طور پر قبول نہیں کرے گا۔ مغرب اور چین کے درمیان مسابقت صرف معاشی نہیں بلکہ تہذیبی بھی ہے۔
ان کے نظریے پر متعدد اعتراضات بھی اٹھائے گئے۔ بعض ناقدین کے مطابق ہنٹنگٹن نے تہذیبوں کو حد سے زیادہ جامد اور یکساں اکائیوں کے طور پر پیش کیاجبکہ حقیقت میں ہر تہذیب کے اندر بے شمار اختلافات اور تنوعات موجود ہیں۔ مثال کے طور پر اسلامی دنیا میں عرب، ایرانی، ترک، ملائی اور جنوبی ایشیائی معاشرے ایک جیسے نہیں ہیں۔ مغرب بھی امریکہ اور یورپ کے باہمی اختلافات سے خالی نہیں۔ دوسری بات یہ کہ اگر ریاستیں اسی تہذیبی زاویے سے دنیا کو دیکھیں تو باہمی تعاون کے امکانات کم ہونے کا اندیشہ پیدا ہوتا ہے۔ ایڈورڈ سعید نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ نظریہ مشرق و مغرب کے درمیان ایک مصنوعی دیوار کھڑی کرتا ہے اور تاریخی روابط و اشتراک کو نظر انداز کرتا ہے۔
نائن الیون کے بعد، بہت سے لوگوں نے ہنٹنگٹن کے نظریے کو سو فیصد درست قرار دیا۔ امریکہ کی افغانستان اور عراق میں مداخلت، دہشت گردی کے خلاف مہمات اور بڑھتی ہوئی مذہبی سیاست نے تہذیبی کشمکش کے بیانیے کو تقویت دی۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ یہ بھی واضح ہوا کہ دنیا کو صرف ایک ہی عدسے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ بہارِ عرب، چین-امریکہ تجارتی جنگ اور عالمی ماحولیاتی بحران جیسے مسائل تہذیبی تقسیم سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔
راقم الحروف کے ادنیٰ خیال میں مختلف تہذیبوں میں اختلاف ایک تاریخی حقیقت ہے لیکن کلچر ہمیشہ سے ایک دوسرے پر فطرتاً اثر انداز بھی ہوتے ہیں۔ انسانیت کیلئے یہ امر افسوسناک ہوگا کہ تہذیبوں کے درمیان تصادم اورتشدد دنیا کا مقدر بنے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ تصادم دو تہذیبوں کے درمیان نہیں بلکہ تہذیب و بد تہذیبی، نیکی و بدی کے درمیان ہو، تمدن و وحشت کے درمیان ہو۔ کیا یہ لازمی ہے کہ دو تہذیبیں ایک دوسرے سے متصادم ہی ہوں ؟ ضرورت تہذیبوں میں تصادم کی نہیں بلکہ مکالمے کی اور تعاون و اشتراک کی ہے۔