Inquilab Logo Happiest Places to Work

اس ہفتے اخبارات نے جنگ بندی میں مودی سرکار پر پاکستان کو اہمیت دینے پر تنقید کی

Updated: April 12, 2026, 9:00 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

متعدد غیر اردو اخبارات نے اس تنازع کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی مبینہ پسپائی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس حقیقت پر زور دیا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کا قیام طاقت کے وحشیانہ استعمال سے نہیں بلکہ دانشمندانہ سفارت کاری ہی سے ممکن ہے۔

On the very first day of the war, Trump announced several big goals, but the truth is that he achieved nothing. Photo: INN
جنگ کے پہلے ہی دن ٹرمپ نے کئی بڑے اہداف کا اعلان کیا تھا لیکن سچائی یہ ہے کہ ان کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آیا۔ تصویر: آئی این این

ایران کی غیر معمولی استقامت نے نہ صرف جنگی توازن کو تبدیل کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک نئی بحث کو بھی جنم دیا ہے۔ متعدد غیر اردو اخبارات نے اس تنازع کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی مبینہ پسپائی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس حقیقت پر زور دیا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کا قیام طاقت کے وحشیانہ استعمال سے نہیں بلکہ دانشمندانہ سفارت کاری ہی سے ممکن ہے۔ دوسری جانب مودی حکومت کی خارجہ پالیسی بھی اندرون ملک شدید دباؤ کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ کئی اخبارات نے مرکزی حکومت کی حکمت عملی پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے اسے ہدف ملامت بنایا ہےاور اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ جنگ بندی جیسے حساس عالمی معاملے میں ہندوستان کے بجائے پاکستان کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ تجزیہ نگار اسے مودی حکومت کی سفارتی ناکامی قرار دے رہے ہیں جس نے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی طویل کوششوں پر گویا پانی پھیر دیا ہے۔ 
ٹرمپ کیلئے ایران دوسرا ویتنام ہے
لوک ستہ( مراٹھی، ۹؍ اپریل )
 ’’امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی ان دنوں عالمی سطح پر بحث کا مرکز ہے۔ وہ صدر جو کل تک سڑک چھاپ غنڈوں کی مانند دھمکی آمیز لہجہ اپنائے ہوئے تھے اور ایرانی ثقافت کو نیست و نابود کرنے کے دعوے کر رہے تھے اچانک جنگ بندی کے خاتمے سے چند لمحے قبل پسپائی اختیار کر گئے۔ ایران کے ساتھ دوبارہ سیز فائر کا یہ اعلان دراصل امریکہ کی اس تاریخی سبکی کا غماز ہے جس کی مثال ماضی قریب میں نہیں ملتی۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی سرپرستی میں ہونے والی وحشیانہ بمباری اور چہار سو پھیلی تباہی کے باوجود ایرانی عوام اور ان کے حکمراں جس پامردی سے ڈٹے رہے وہ لائق صد تحسین ہے۔ ایران نے دنیا کو یہ سبق دیا ہے کہ عالمی طاقتوں کے بے پناہ دباؤ کے سامنے سر کیسے نہیں جھکایا جاتا۔ تجزیہ کار اس مہم جوئی کو صدر ٹرمپ کیلئے دوسرا ویتنام قرار دے رہے ہیں۔ ٹرمپ کو یہ سمجھنے میں ایک طویل عرصہ لگا کہ ایران کوئی تر نوالہ نہیں جسے آسانی سے ہضم کر لیا جائے۔ امریکی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق اب ٹرمپ جس دس نکاتی معاہدے کو’خوش آئند‘ قرار دے رہے ہیں اس میں کوئی پہلو نیا نہیں ہے۔ ہرمز کی خلیج پر ایران کا حقِ ملکیت اور یورینیم کی افزودگی کا معاملہ تو پہلے ہی طے شدہ تھا۔ سوال یہ ہے کہ اس تمام تر خوں ریزی اور اربوں ڈالر کے زیاں سے امریکہ نے کیا حاصل کیا؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے کچھ اخبارات نے ایل پی جی قلت پر تو کچھ نے اسمبلی انتخابات کا جائزہ لیا

ایران کی استقامت نے امریکہ کو جھکا دیا
سامنا( مراٹھی، ۹؍اپریل)
 ’’عالمی سیاست کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ دنیا صرف ان کے سامنے سرنگوں ہوتی ہے جو اپنے موقف پر ڈٹ جانے کی قوت رکھتےہوں۔ ایران نے حالیہ بحران میں نہ صرف اپنی خودداری کا لوہا منوایا بلکہ عالمی طاقتوں کے تکبر کو بھی خاک میں ملا دیا۔ گزشتہ دنوں جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو صفحہ ہستی سے مٹادینے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں تو شاید ہی کسی نے سوچا ہوگا کہ محض چند گھنٹوں بعد وہی امریکہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے اور دو ہفتوں کی جنگ بندی پر مجبور ہو جائے گا۔ یہ تہران کی استقامت اور قومی غیرت کی وہ فتح ہے جس نے خطے کے سیاسی نقشے کو تبدیل کر دیا ہے، لیکن اس پوری صورتحال میں ہندوستان کا جو رخ سامنے آیا ہے وہ ہر محب وطن ہندوستانی کیلئے لمحہ فکریہ اور باعثِ ندامت ہے۔ اس تنازع کے اختتام پر جومنظرنامہ ابھرا اس میں پاکستان کا بطور ’ثالث‘ ابھرنا مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی بدترین ناکامی کا اشتہار بن کر سامنے آیا ہے۔ جس پاکستان کو گزشتہ دہائیوں میں ایک الگ تھلگ اور دہشت گرد ریاست ثابت کرنے کی سفارتی کوششیں کی گئی تھیں آج وہی ملک امریکہ اور ایران کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ تہران اور واشنگٹن دونوں کا پاکستان کیلئے اظہار تشکر ہندوستانی سفارت کاری کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ جب مشرق وسطیٰ کے صحرا جنگ کی آگ میں تپ رہے تھے اس وقت ہندوستان کی مرکزی قیادت اور مودی حکومت تمل ناڈو، مغربی بنگال اور کیرالا کے انتخابی اکھاڑوں میں سیاسی مخالفین کےخلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف تھی۔ وشو گرو بننے کا دعویٰ کرنے والی قیادت اس قدر بے بس نظر آئی کہ امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم نے انہیں ثالثی کے لائق تک نہ سمجھا۔ سفارتی محاذ پر ہماری نااہلی کی انتہا یہ ہے کہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر پاکستان کو دلال ریاست جیسے القابات سے نوازتے رہے جبکہ دوسری طرف دنیا نے دیکھا کہ اسی ریاست کی راجدھانی میں عالمی امن کی دستاویزات تیار کی جا رہی تھیں۔ ‘‘
امریکہ کیلئے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانا آسان نہیں رہا
دی ہندو( انگریزی۔ ۹؍اپریل)
’’امریکہ کے صدر نے ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرنے اور اس کے شہری ڈھانچے کو تباہ کر دینے کی دھمکی کے بعد۸؍ اپریل کو دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی اور تہران کے ساتھ اس کے دس نکاتی امن فارمولے کی بنیاد پر براہِ راست مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا۔ ایران نے کہا ہے کہ وہ اس جنگ بندی کا احترام کرے گا اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ جنگ ابتدا ہی میں ٹالی جا سکتی تھی امریکہ اور ایران کے درمیان اس سے پہلے بھی کئی دور کی بات چیت ہو چکی تھی اور عمانی اور برطانوی حکام کا کہنا تھا کہ ایک معاہدہ قریب ہے مگر ٹرمپ نے جنہیں اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کی حمایت حاصل تھی، ۲۸ فروری کو ایران پر بمباری کا حکم دے دیا جس میں ایران کے سپریم لیڈراور کئی دیگر افراد مارے گئے۔ دراصل ٹرمپ نے ایران کے ردِعمل کا غلط اندازہ لگایا۔ ایران نے خلیج میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کئے اور آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال کر اس تنازع کو علاقائی سطح پر پھیلا دیا جس کے اثرات عالمی معیشت تک پہنچ گئے۔ اگرچہ گزشتہ ۴۰؍ دنوں میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کو شدید نقصان پہنچایا لیکن امریکہ کیلئے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانا آسان نہیں رہا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جنگ ختم کرنے کیلئے ٹرمپ کی بنیادی شرط یہ تھی کہ ایران اس آبنائے کو دوبارہ کھول دے جو جنگ سے پہلے کھلی ہوئی تھی۔ جنگ کے پہلے ہی دن ٹرمپ نے کئی بڑے اہداف کا اعلان کیا تھا جن میں ایران کی میزائل صلاحیتوں کو تباہ کرنا اور جوہری پروگرام کو ختم کرنا اور حکومت کی تبدیلی شامل تھی لیکن ان میں سے کوئی بھی مقصد حاصل نہیں ہو سکا۔ اس جنگ کے باعث تیل، گیس اور خوراک کی قیمتیں بڑھ گئیں اور دنیا بھر میں معاشی مشکلات میں اضافہ ہوا۔ ایران کی حالیہ دس نکاتی تجویز میں اس نے آبنائے ہرمز پر اپنےکنٹرول کی توثیق کی ہے اور مستقبل میں کسی بھی جارحیت کے خلاف تمام پابندیوں کے خاتمے اور ضمانتوں کا مطالبہ کیا ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: اخباروں میں ایران جنگ، رسوئی گیس اور نیپال انتخابی نتائج اداریوں کا موضوع رہے

امریکہ نے نہیں سوچا تھا کہ حملے کایوں جواب ملے گا
لوک مت سماچار( ہندی، ۹؍اپریل)
’’خبر اطمینان بخش ہے لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ ختم نہیں ہوئی ہے بلکہ محض ایک وقفہ آیا ہے۔ اعلانیہ طور پر جنگ بندی اسلئے کی گئی ہے تاکہ فریقین کے درمیان بات چیت ہو سکے اور وہ کسی سمجھوتے پر پہنچ سکیں، مگر دونوں جانب عدم اعتماد اس قدر گہرا ہے کہ کسی متفقہ فیصلے پر پہنچنا ایک کٹھن کام ہے۔ دونوں طرف سے ایسے مطالبات رکھے گئے ہیں جن میں سے کچھ تو مانے جا سکتے ہیں لیکن اگر امریکہ، ایران کے تمام مطالبات تسلیم کر لے تو پھر سوال یہ ہوگا کہ اتنے بڑے تنازع کا مقصد ہی کیاتھا؟ اور اگر ایران، امریکہ کی تمام شرائط مان لے تو پھر اتنی جدوجہد کی ضرورت ہی کیا تھی؟ یعنی دونوں طرف کی تجاویز میں کئی پیچیدگیاں ہیں۔ جب پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے دنیا کو اس جنگ بندی کی اطلاع دی تو انہوں نے کہا کہ لبنان پر اسرائیلی حملے بھی بند ہو جائیں گے۔ اسرائیل نے چند گھنٹوں تک خاموشی اختیار کی لیکن جلد ہی واضح کر دیا کہ وہ لبنان پر حملے بند نہیں کرے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اسرائیل کو حملے روکنے پر آمادہ کر پائے گا یا پھر یہ پیچیدگی بھی امریکہ ہی کی پیدا کردہ ہے؟ یہ کہنا مشکل ہے کیونکہ ٹرمپ کی سوچ اور عمل کا اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے۔ وہ ہر حال میں اپنا پلہ بھاری رکھنا چاہیں گے۔ انہوں نے اس جنگ بندی کو اپنی جیت کے طور پر پیش کیا ہے تو دوسری طرف ایران نے بھی اسے اپنی فتح قرار دیا ہے۔ جب جنگ کو روکنے کیلئے مذاکرات ہوں گے تو فریقین اپنی برتری ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ مگر سچ یہ بھی ہے کہ یہ جنگ دونوں کو مہنگی پڑ رہی ہے۔ امریکہ نے نہیں سوچا تھا کہ اس کے حملے کا ایسا جواب ملے گا۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK