سیاحت ہمیشہ سے بدلتی رہی ہے، اب صرف تاریخی مقامات دیکھنے کیلئے سیاحت نہیں ہوتی، اس میں ایک نئی تبدیلی آ رہی ہے جہاں کسی شہر کو سمجھنے کیلئے سیاح اس کے گروسری اسٹورز کا رخ کر تے ہیں۔
EPAPER
Updated: April 19, 2026, 6:36 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
سیاحت ہمیشہ سے بدلتی رہی ہے، اب صرف تاریخی مقامات دیکھنے کیلئے سیاحت نہیں ہوتی، اس میں ایک نئی تبدیلی آ رہی ہے جہاں کسی شہر کو سمجھنے کیلئے سیاح اس کے گروسری اسٹورز کا رخ کر تے ہیں۔
پیرسکی ایک گلی میں واقع ایک عام سا سپر مارکیٹ بظاہر کسی خاص توجہ کے قابل نہیں لگتا، مگر جیسے ہی کوئی سیاح اس کے اندر داخل ہوتا ہے تو منظر بدل جاتا ہے۔ لوگ شیلف کی تصویریں لے رہے ہوتے ہیں، مختلف مصنوعات کو غور سے دیکھ رہے ہوتے ہیں، اور کچھ ایسی چیزیں خرید رہے ہوتے ہیں جن کا نام بھی انہوں نے پہلے کبھی نہیں سنا۔ کوئی جاپانی اسنیکس اٹھا رہا ہے، کوئی فرانسیسی پنیر کا ذائقہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے، اور کوئی صرف قیمتوں کا موازنہ کر کے ایک نئی دنیا دریافت کر رہا ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ۲۰۲۶ء کا ایک ابھرتا ہوا عالمی رجحان ہے جسے ’’گروسری اسٹور ٹورزم‘‘ (grocery store tourism) کہا جا رہا ہے۔
سیاحت ہمیشہ سے بدلتی رہی ہے۔ ایک وقت تھا جب سفر کا مطلب صرف مشہور عمارتوں اور تاریخی مقامات کو دیکھنا ہوتا تھا، پھر یہ تصور بدل کر ’’تجرباتی معیشت‘‘ experience economy میں داخل ہوا جہاں لوگ کھانے، موسیقی اور مقامی ثقافت کے ذریعے کسی جگہ کو محسوس کرنا چاہتے تھے۔ اب ایک نئی تبدیلی آ رہی ہے جہاں سیاح کسی شہر کو سمجھنے کیلئے اس کے گروسری اسٹورز کا رخ کر رہے ہیں۔ تازہ رجحانات کے مطابق تقریباً ۷۷؍ فیصد ہندوستانی سیاح اب سفر کے دوران مقامی سپر مارکیٹس دیکھنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ وہ انہیں کسی بھی شہر کی اصل زندگی کی جھلک فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح سپر مارکیٹ ایک طرح سے ’شہر کا خفیہ میوزیم‘ بن گیا ہے جہاں ہر شیلف ایک کہانی سناتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: اینالاگ بیگ؛ ڈجیٹل دور کی تھکن سے جنم لے رہا ہے ایک نیا رجحان
گروسری اسٹور کی کشش دراصل اس کی سادگی میں پوشیدہ ہے۔ ریستوراں آپ کو وہ دکھاتے ہیں جو ایک شہر دنیا کو دکھانا چاہتا ہے، مگر سپر مارکیٹ آپ کو وہ دکھاتا ہے جو لوگ حقیقت میں کھاتے ہیں، خریدتے ہیں اور اپنی روزمرہ زندگی میں استعمال کرتے ہیں۔ جب کوئی سیاح کسی دوسرے ملک کے اسٹور میں داخل ہوتا ہے تو وہ صرف اشیاء نہیں دیکھ رہا ہوتا بلکہ ایک پورا معاشی اور ثقافتی نظام سمجھ رہا ہوتا ہے۔ وہاں موجود مصنوعات، ان کی قیمتیں، پیکنگ اور ترتیب اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ اس معاشرے کی ترجیحات کیا ہیں اور اس کی معیشت کس سمت میں جا رہی ہے۔
ہندوستان میں اس رجحان کی تیزی سے مقبولیت کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ سب سے پہلے تو ہندوستان میں خوراک اور ثقافت کا تعلق بہت مضبوط ہے، اسلئے ہندوستانی سیاح جب کسی دوسرے ملک میں جاتے ہیں تو وہ سب سے پہلے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہاں کے لوگ کیا کھاتے ہیں اور کس طرح خریداری کرتے ہیں۔ دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ ہندوستانی سیاح بڑی حد تک ’بجٹ‘ کو کنٹرول کرتے ہیں، اور گروسری اسٹور ٹورزم انہیں ایک ایسا تجربہ فراہم کرتا ہے جو کم خرچ ہونے کے ساتھ ساتھ زیادہ حقیقی بھی ہوتا ہے۔ مہنگے ریستوراں کے مقابلے میں سپر مارکیٹ سے خریدی گئی چیزیں نہ صرف سستی ہوتی ہیں بلکہ وہ مقامی زندگی کے زیادہ قریب بھی ہوتی ہیں۔
اس رجحان کا ایک اہم محرک سوشل میڈیا بھی ہے، خاص طور پر نئی نسل کے درمیان۔ آج کل supermarket haul اور snack explorationجیسے ویڈیوز لاکھوں لوگوں تک پہنچ رہے ہیں، جہاں لوگ مختلف ممالک کے گروسری اسٹورز میں جا کر وہاں کی منفرد مصنوعات کو دکھاتے اور آزمانے کا تجربہ شیئر کرتے ہیں۔ اس طرح سپر مارکیٹ ایکcontent creation space بن چکا ہے جہاں ہر چیز اپنے آپ میں ایک ممکنہ کہانی ہے اور ہر خریداری ایک ویڈیو بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گروسری اسٹور اب صرف خریداری کی جگہ نہیں بلکہ ایک تجرباتی مقام بن چکا ہے۔
یہ رجحان بظاہر سادہ ہونے کے باوجود گہرے اثرات رکھتا ہے۔ اس سے مقامی ریٹیل سیکٹر کو براہ راست فائدہ ہو رہا ہے کیونکہ اب سیاح صرف ہوٹل اور ریستوراں تک محدود نہیں رہے بلکہ وہ مقامی اسٹورز اور چھوٹے کاروباروں پر بھی خرچ کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ایف ایم سی جی سیکٹر میں بھی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے، جہاں برانڈز اب اپنی مصنوعات کو زیادہ ’سیاح دوست‘ traveller-friendlyبنانے پر توجہ دے رہے ہیں، جیسے چھوٹے پیکٹس، منفرد ذائقے اور ایسی پیکنگ جو دیکھنے میں دلکش ہو۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ سیاح ان مصنوعات کو بطور یادگار اپنے ساتھ لے جا سکیں۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: اسکین کرکے بل کی ادائیگی کی، مگر اصل’’ قیمت‘‘ کیا ادا کی؟
یہ رجحان عالمی سطح پر بھی ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ دنیا بھر میں سیاحت اب spectacle سے substance کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں لوگ صرف مشہور مقامات دیکھنے کے بجائے کسی جگہ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ گروسری اسٹور ٹورزم اسی تبدیلی کی ایک واضح مثال ہے، کیونکہ یہ سیاح کو کسی بھی معاشرے کے قریب لے آتا ہے۔ یہ ایک ایسا تجربہ ہے جو نہ صرف معلومات فراہم کرتا ہے بلکہ ایک جذباتی تعلق بھی پیدا کرتا ہے۔ اس رجحان کے پیچھے ایک بڑا فلسفہ بھی کارفرما ہے جسے travel like a local کہا جا سکتا ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اصل سیاحت وہی ہے جہاں آپ کسی جگہ کو اس کے مقامی لوگوں کی طرح جئیں، نہ کہ صرف ایک سیاح کی نظر سے دیکھیں۔ گروسری اسٹور اس فلسفے کو حقیقت میں بدل دیتا ہے کیوں کہ وہاں جا کر آپ وہی چیزیں دیکھتے اور خریدتے ہیں جو مقامی لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں استعمال کرتے ہیں۔ یہی تجربہ سیاحت کو زیادہ گہرا اور بامعنی بناتا ہے۔
یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ رجحان مستقل ہے یا محض ایک عارضی فیشن۔ تاہم، موجودہ شواہد یہ بتاتے ہیں کہ یہ تبدیلی وقتی نہیں بلکہ ایک بڑے معاشی اور سماجی رجحان کا حصہ ہے۔ لوگ اب زیادہ حقیقی، سادہ اور ذاتی نوعیت کے تجربات کی طرف مائل ہو رہے ہیں، اور یہی عوامل مستقبل کی سیاحت کی بنیاد بنیں گے۔
گروسری اسٹور ٹورزم واضح کرتا ہے کہ کسی بھی شہر کو سمجھنے کیلئے اس کے بڑے اور مشہور مقامات دیکھنا کافی نہیں، بلکہ اس کی روزمرہ زندگی کو دیکھنا بھی ضروری ہے۔ مستقبل میں سیاحت صرف مقامات کی نہیں بلکہ تجربات اور معاشرتی تعلقات کی ہوگی۔ آج کا سیاح کسی تاریخی عمارت کو دیکھنے کے بعد سیدھا ایک سپر مارکیٹ کی طرف جاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اصل کہانی وہیں ہے، کسی شیلف پر رکھی ایک عام سی چیز میں۔