Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’دلیپ کمار مسجد سے نکلے اور گداگروں میں دس دس کے نوٹ تقسیم کرتے آگے بڑھ گئے‘‘

Updated: April 19, 2026, 6:30 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

مدنپورہ کے محمدحنیف قریشی کی زندگی بڑی کسمپرسی میں گزری ہے، ۱۲؍ سال کی عمر میں والد کا انتقال ہوگیا تو ٹیکسی کی دھلائی سے اپنے ’کریئر‘ کا آغاز کیا اور پھر ٹیکسی دھوتے دھوتے ڈرائیونگ سیکھ لی، بعدازاں ۳۰؍سال تک ٹیکسی چلاکر اپنے اہل خانہ کی کفالت کی۔

Muhammad Hanif Qureshi. Photo: INN
محمدحنیف قریشی۔ تصویر: آئی این این

مدنپورہ، ہینگ والی چال کے ۷۶؍سالہ محمد حنیف قریشی کی پیدائش ۱۷؍جون ۱۹۵۰ء کوہوئی تھی۔ سائوٹر اسٹریٹ میونسپل اُردو اسکول سے پانچویں جماعت تک پڑھائی کی۔ والدین کا اکلوتا چشم وچراغ ہونے سے بڑے پیار وشفت بھرے ماحول میں پرورش ہوئی، لیکن بدقسمتی سے ۱۲؍سال کی عمر میں والد کا اچانک انتقال ہوجانے سے گھر کی ذمہ داری ان کے ناتواں کندھوں پر آگئی۔ اس کی وجہ سے آگے پڑھائی نہیں کرسکے۔ گھریلو ضروریات پوری کرنے کیلئے پہلے ٹیکسی دھونے کا کام شروع کیا۔ روزانہ علی الصباح ۵؍ٹیکسیاں دھولیتے تھے۔ ایک ٹیکسی کی دھلائی سوا روپے تھی۔ اس طرح روزانہ سوا چھ روپےکی آمدنی ہوجاتی تھی، جس سے ماں بیٹے کی کفالت ہوجاتی تھی۔ ٹیکسی دھلائی کا کام کرنے دوران ڈرائیونگ سیکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ ڈرائیونگ سیکھنےکیلئے ناگپاڑہ کے ماسٹر موٹر ٹریننگ اسکول سےجانکاری حاصل کی۔ اس دور میں چھوٹی گاڑیوں کی ڈرائیونگ سیکھنے کی فیس ۲۰۰؍روپے تھی جبکہ ہیوی گاڑیوں کی ۲۸۰؍ روپے تھی۔ ۲۰۰؍ روپے کیلئے حسینی باغ، مدنپورہ میں ایک پان کی دکان پر روزانہ ۳؍روپے جمع کرتے تھے۔ ۲۰۰؍ روپے جمع ہونے پر فیس بھر کر ڈرائیونگ سیکھی، بعدازیں گاڑیوں کی دھلائی کا کام چھوڑ کر ٹیکسی چلانا شروع کیا۔ ۱۹۷۷ء سے ۲۰۰۶ء تک ٹیکسی چلائی۔ گزشتہ ۲۰؍برسوں سے فی الحال آرام کررہے ہیں۔ 
محمدحنیف قریشی کے والد کے انتقال کے وقت ان کے نانا رسول سیٹھ کی گوشت بازار(مدنپورہ ) میں گوشت کی دکان تھی۔ وہ روزانہ پائو کلو گوشت اور ہرامسالہ اپنی جانب سے ان کے گھر بھیج دیتے تھے جس کی وجہ سے انہیں گوشت اور مسالہ وغیرہ خریدنا نہیں پڑتا تھا۔ دال، چاول اور دیگر ضروری اشیاء کا انتظام گاڑیوں کی دھلائی سے ملنے والی رقم سے اطمینان سے ہو جاتا تھا۔ جب تک ان کے نانا کی دکان تھی، تب تک گوشت خریدنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ 
بابری مسجد کی شہادت کے بعد پھوٹ پڑنے والے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران، محمد حنیف قریشی نے اپنے پڑوسی میں واقع ایک گجراتی کی دکان کو تباہ ہونے سے بچایا تھا۔ ہینگ والی چال میں ان کے گھر سے متصل پرنس ٹیلرس نامی ایک دکان تھی جو کمبھارواڑہ میں رہنے والے ایک گجراتی ماسٹر کی تھی۔ فساد ہونے کی وجہ سے ماسٹر نے دکان پر آنا بند کر دیا تھا، ایسے میں دکان میں رکھی ۵؍سلائی مشینوں کو نکال کر محمد حنیف قریشی نے احتیاطً اپنے گھر میں رکھ لیا تھا۔ اس دوران روزانہ فساد بڑھتا جا رہا تھا، چنا نچہ انہوں نے سوجھ بوجھ کا استعمال کرتے ہوئے اپنی بیمار والدہ کو اس دکان کے آگے ایک چارپائی بچھا ان کے رہنے سہنے کا انتظام اسی چارپائی پرکر دیا تھا، تاکہ دکان کو کوئی نقصان نہ پہنچاسکے۔ حالات کے معمول پر آنے کے بعد ماسٹر نے آکر اپنی دکان اور محمد حنیف قریشی کے گھر پر رکھی سلائی مشینوں کو دیکھ کر، ان کابہت شکریہ ادا کیا۔ فی الحال ماسٹر اور ان کے گھر والے سورت منتقل ہوچکے ہیں لیکن آج بھی جب کبھی ان کے بچے ممبئی آتے ہیں تو محمد حنیف قریشی سے ملاقات کر کےہی سورٹ لوٹتے ہیں ۔ دونوں گھروں کے درمیان بہت اچھا تعلق ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’فساد میں پاؤں پر گولی لگنے کے باوجود رسی کے سہارے کئی کلومیٹر تک گھسٹتا رہا‘‘

محمد حنیف قریشی کے نانا کبھی کبھی انہیں گوشت لانے کیلئے باندرہ سلاٹر ہائوس بھیجتے تھے۔ اگر وہ دن جمعہ کا ہوتا تو محمد حنیف قریشی باندرہ مغرب میں واقع جامع مسجد میں نماز پڑھتے تھے۔ وہاں معروف فلم اداکار دلیپ کمار بھی نماز پڑھنے آتے تھے۔ سفید کرتا پاجامہ میں ملبوس دلیپ کمار مسجد کے مقابل والی سڑک پر اُترکر، وہاں سے سڑک پار کر کے مسجدمیں آتے تھے۔ نماز پڑھ کر لوٹتے وقت مسجد کے باہر بیٹھے گداگروں کو ایک طرف سے دس دس روپےکی نوٹ ہاتھ میں رکھتے ہوئے اپنی گاڑی کی جانب روانہ ہوجاتے تھے۔ فلمی دنیا کی عظیم ہستی ہونے اور عالمی سطح پر مشہور و مقبول ہونے کے باوجود ان میں ذرا سابھی غرور نہیں تھا۔ نہایت سادگی سے آتے اور خاموشی سے چلے جاتے تھے۔ ، لوگ انہیں حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ کر مسرور ہوتے تھے۔ 
محمدحنیف قریشی نے تقریباً۳۰؍ سال تک ٹیکسی چلائی۔ اس دوران ان کے ساتھ ایک مرتبہ ایک مسافر نے فریب دہی بھی کی تھی۔ وہ قلابہ سے عرب گلی آیا تھا اور تاج سنیما کے پاس ٹیکسی ر کوا کر، اس نے محمد حنیف قریشی سے کہا تھا کہ میری تھیلی ٹیکسی میں رکھی ہے، میں چند منٹ میں آکر، کرایہ دیتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ گیالیکن پھر لوٹ کر نہیں آیا۔ قریب میں کھڑا ایک پھل فروش، سارا ماجرہ دیکھ رہا تھا۔ کافی وقت گزر جانے کے بعد اس نے محمدحنیف قریشی سے کہا کہ وہ اب نہیں آئے گا۔ اس نے کہا کہ اس طرح کی حرکتیں یہاں کچھ لوگ روزانہ کرتے ہیں۔ اس نے پوچھا کہ ٹیکسی میں جو تھیلی ہے، اس میں ردی ہے کیا؟ اس کےاس سوال پر محمد حنیف قریشی نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم۔ اس کے بعد دونوں نے تھیلی کھول کر دیکھی تو واقعی، اس میں کاغذکی ردی ہی تھی۔ بعدازیں پھل فروش نے بتایا کہ کچھ لوگ ٹیکسی والوں سے تفریح کرنے کیلئے اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں۔ یہ یہاں کاایک طرح سے معمول بن گیا ہے۔ اس دور میں قلابہ سے عرب گلی کا کرایہ ساڑھے ۴؍روپے ہوا کرتا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’میرے استاذ نے کہا تھا کہ کاروبارخدمت خلق کیلئے ہو، نہ کہ صرف منافع کیلئے‘‘

محمد حنیف قریشی کی نوجوانی کے دور میں شادی بیاہ کے موقع پر متمول گھرانے کے لوگ ہلدی مہندی کے علاوہ قوالی کا پروگرام بھی رکھتے تھے۔ رات بھر قوالی کاپروگرام ہوتا تھا، جس میں گلی محلے کے لوگ جوش وخروش سے حصہ لیتے تھے۔ مدنپورہ میں عموماً گوشت بازار کی گلی میں تکونی ہوٹل جو اَب اشفاق ہوٹل سےجانی جاتی ہے، کے پاس اسٹیج بنایا جاتا، گلی کے بقیہ حصے میں ٹاٹ بچھاکر سامعین کے بیٹھنے کاا نتظام کیا جاتا تھا۔ اس موقع پر خواتین کیلئے پردہ کاانتظام بھی کیا جاتا تھا۔ اس دور کے معروف قوال یوسف آزاد، جانی بابو، عبدالرئوف چاوش اور رشیدہ خاتون کے مابین زبردست مقابلہ ہوتا تھا۔ ہر قوال اپنے فن کا بہترین مظاہرہ کرتا اور سامعین ان کی نوک جھونک سے خوب محظوظ ہوتے تھے۔ اس موقع پر رات بھر منتظمین کی جانب سے چائے پانی کا دور بھی چلتا تھا۔ 
محمدحنیف قریشی کے مطابق اس زمانے میں کرسمس کے موقع پر چرچوں کو خوب سجایا جاتا تھا۔ سال کے آخری روز، رات کو کرسمس کے علامتی مجسمے کوہاتھ گاڑی پر رکھ کر قرب وجوار میں جلوس کی شکل میں تفریح کیلئے لے جایا جاتا تھا۔ رات ٹھیک ۱۲؍ بجے مجسمہ میں نصب پٹاخوں کو پھوڑ کر نئے سال کاجشن منایا جاتاتھا۔ یہ ایک طرح کا تفریحی پروگرام ہوتا تھا جس سے محلے کے تمام بچے لطف و اندوز ہوتے تھے۔ 
محمد حنیف قریشی نے اس دور میں ہونے والی گلی محلے کی گروہ بندی اور غنڈہ گردی کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ ہرگلی میں ایک نہیں کئی کئی گروہ ہوتے تھے جو اکثر آپس میں ٹکراتے تھے۔ محلوں میں ہونے والی لڑائیوں سے لوگ خوفزدہ اور پریشان رہتے تھے۔ ایک مرتبہ سائوٹر اسٹریٹ کی گلی میں ایک بدمعاش کاقتل ان کی آنکھوں کے سامنے ہوا تھا۔ اس کےپیٹ میں دھاردار چاقو اُتار دینے سے جائے وقوع پر ہی اس کی موت ہوگئی تھی۔ رات کے ساڑھے ۱۲؍بجے یہ حملہ ہوا تھا۔ سائوٹر اسٹریٹ کے جس فٹ پاتھ پر حملہ کیا گیا تھا، وہ آگری پاڑہ پولیس اسٹیشن کی حدمیں تھا جبکہ حملے کے بعدجہاں اس نے دم توڑا تھا، وہ فٹ پاتھ ناگپاڑہ پولیس اسٹیشن کے حدمیں آرہا تھا۔ اس کی وجہ سے دو پولیس اسٹیشنوں کے درمیان ایک عجیب قسم کا تنازع ہوا تھا۔ وہ سارے مناظر اور وہاں کی ساری باتیں انہیں آج بھی یاد ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK