Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگال و یوپی میں لاکھوں ووٹروں کے نام حذف، حد بندی پر اخبارات کی حکومت پر تنقید

Updated: April 19, 2026, 6:41 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

مغربی بنگال اور اترپردیش میں لاکھوں ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج کئے جانے کے معاملے پر اخبارات نے سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے مرکزی حکومت پر جانبداری برتنے کا الزام عائد کیا۔

Trinamool Congress has alleged that rigging is taking place across the country in the name of SIR. Photo: INN
ترنمول کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ ایس آئی آر کے نام پر ملک بھر میں دھاندلی ہورہی ہے۔ تصویر: آئی این این

رواں ہفتے غیر اُردو اخبارات نے معنی خیز تبصرے کرتے ہوئے کئی اہم معاملات کو نمایاں کیا ہے۔ مغربی بنگال اور اترپردیش میں لاکھوں ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج کئے جانے کے معاملے پر اخبارات نے سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے مرکزی حکومت پر جانبداری برتنے کا الزام عائد کیا۔ اسی کے ساتھ اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لئے بغیر خواتین ریزرویشن بل اور نئی حد بندی کے نفاذ کے طریقۂ کار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی بیشتر غیر اُردو اخبارات نے اسرائیل کی جارحانہ کارروائیوں اور بے قصور شہریوں پر ہونے والی بمباری کے پس منظر میں امریکہ کی معنی خیز خاموشی پر سخت اعتراض کرتے ہوئے اسے عالمی انصاف کے دہرے معیار کی مثال قرار دیا۔ مہاراشٹر میں کلیان، احمد نگر شاہراہ پر پیش آنے والے ہولناک سڑک حادثے نے بھی اخبارات کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ 
یہ آئین کی روح کے خلاف ہے
مہاراشٹر ٹائمز( مراٹھی، ۱۵؍اپریل)
’’اتر پردیش کی سیاست میں اس وقت ایک نیا طوفان برپا ہے جس کا مرکز کوئی انتخابی ریلی یا عوامی جلسہ نہیں بلکہ وہ ووٹر لسٹ ہے جو جمہوریت کی بنیاد ہوتی ہے۔ بہار اور مغربی بنگال کے بعد اب ملک کی سب سے بڑی ریاست میں انتخابی فہرستوں کی جانچ پڑتال کے نام پر جو کچھ ہوا، اس نے کئی سنگین سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ ۲؍کروڑ ووٹرس کے ناموں کا اخراج محض ایک انتظامی مشق ہے یا کسی گہری سیاسی حکمت عملی کا حصہ؟ یہ بحث اب گلی کوچوں سے نکل کر سیاسی ایوانوں تک پہنچ چکی ہے۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو تصویر کافی دھندلی نظر آتی ہے۔ ایک طرف ڈرافٹ لسٹ میں ساڑھے پندرہ کروڑ نام تھے جو جنوری تک کم ہو کر ساڑھے بارہ کروڑ رہ گئے اور اب مزید دو کروڑ ناموں کی کٹوتی کردی گئی۔ حیرت انگیز طور پر جہاں ایک طرف کروڑوں نام خارج ہوئے، وہیں عین آخری مرحلے میں ۸۴؍ لاکھ نئے ناموں کا اندراج بھی ہوا۔ اعداد و شمار کا یہ اتار چڑھاؤ انتظامی مستعدی سے زیادہ سیاسی انجینئر نگ کا گمان پیدا کرتا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے فارم نمبر۷؍ کے غلط استعمال کا جو الزام لگایا ہے وہ معمولی نہیں ہے۔ اگر واقعی اقلیتوں، دلتوں اور پسماندہ طبقات کے ناموں کو نشانہ بنا کر انہیں فہرست سے باہر کیا گیا ہے تو یہ جمہوریت کے ماتھے پر ایک کلنک ہے۔ قنوج، اٹاوہ اور بدایوں جیسے علاقوں میں جو اپوزیشن کے مضبوط گڑھ مانے جاتے ہیں، بڑے پیمانے پر ناموں کا اخراج اور اس کے برعکس شہری علاقوں میں بی جے پی کی منظم مہم کے ذریعے نئے ووٹروں کا اندراج ایک خاص قسم کے سیاسی جھکاؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔ جمہوریت میں ووٹنگ کا حق سب سے مقدس ہوتا ہے۔ گھس پیٹھیوں کو نکالنے کے نام پر اگر ملک کے اصل شہریوں کو ان کے حقِ رائے دہی سے محروم کیا جاتا ہے تو یہ آئین کی روح کے خلاف ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے اخبارات نے جنگ بندی میں مودی سرکار پر پاکستان کو اہمیت دینے پر تنقید کی

سڑکوں پرخونیں کھیل یوں ہی جاری رہے گا
نوشکتی( مراٹھی، ۱۵؍اپریل)
’’مرباڈ۔ کلیان روڈ کے راستے میں پل پر پیش آنے والا حالیہ دلخراش واقعہ جس میں ۱۱؍ قیمتی جانیں لقمہ اجل بن گئیں، محض ایک اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ انتظامی بدانتظامی اور انسانی لاپروائی کا ایک ایسا سنگم ہے جس نے کئی گھروں کے چراغ گل کر دیئے ہیں۔ یہ حادثہ اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ جب قومی شاہراہوں کے ٹھیکیدار، آر ٹی او افسران اور ٹریفک پولیس اپنے فرائض کو تجوری بھرنے کا ذریعہ بنا لیں تو سڑکیں مقتل بن جاتی ہیں۔ وزارتِ نقل و حمل کے جاری کردہ ۲۰۲۳ء کے اعداد و شمار روح فرسا ہیں۔ سال بھر میں ساڑھے چار لاکھ حادثات اور پونے دو لاکھ اموات کوئی معمولی اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک قومی المیہ ہیں۔ ان میں ۶۸؍ فیصد پیدل چلنے والے اور بائیک سوار شامل ہیں جبکہ سب سے زیادہ تشویشناک پہلو ۱۰؍ سے ۱۸ سال کے نوجوانوں کا لقمہ اجل بننا ہے۔ یہ وہ پود تھی جسے ملک کامستقبل بننا تھا مگر وہ نظام کی بھینٹ چڑھ گئی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان اموات کا ذمہ دار کون ہے؟اس پل کا کام ابھی نامکمل تھا تو اسے ٹریفک کیلئے کھولنے کی اجازت کس نے دی؟ کیا ٹھیکیداروں اور متعلقہ حکام کے خلاف قتلِ عمد کے مقدمات درج نہیں ہونے چاہئیں ؟آر ٹی او اور ٹریفک پولیس کی مٹھی گرم کرنے کا رواج اتنا عام ہو چکا ہے کہ چھ سواریوں کی گنجائش والی گاڑی میں ۱۱؍ افراد کو بھوسے کی طرح بھر دیا جاتا ہے اور قانون کے محافظ آنکھیں موندے کھڑے رہتے ہیں۔ حکومت نے۲۰۳۰ء تک حادثات میں ۵۰؍ فیصد کمی کا ہدف تو مقرر کر رکھا ہے لیکن کیا محض کاغذوں پر اہداف مقرر کرنے سے سڑکیں محفوظ ہو جائیں گی؟ جب تک ناقص سڑکیں بنانے والے ٹھیکیداروں کو نشان عبرت نہیں بنایا جائے گا اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پرسیاسی و مالی اثر و رسوخ کا خاتمہ نہیں ہوگا، اس طرح کا خونیں کھیل یوں ہی جاری رہے گا۔ ‘‘
 پوری دنیا کیلئے ایک خطرناک پیغام ہے
لوک مت سماچار( ہندی، ۱۳؍اپریل)
’’پاکستان میں ہونے والی بے نتیجہ مذاکرات اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر واشنگٹن کی سفارتی ساکھ کو عالمی چوراہے پر تماشہ بنا دیا ہے۔ دنیا کا خود ساختہ چودھری جو ہر قسم کے تنازع میں منصف بننے کا دعویدار ہے، آج خود اپنے ہی بنے ہوئے جال میں پھنس چکا ہے۔ ایران نے امریکی حملوں میں شہید ہونے والے معصوم بچوں کی تصاویر عالمی سطح پر عام کر کے نہ صرف امریکہ کے دہرے معیار کو بے نقاب کیا ہے بلکہ اس مسلط کردہ جنگ کا وہ بھیانک چہرہ بھی دکھا دیا ہے جسے مغربی میڈیا اکثر مصلحت کے پردوں میں چھپا دیتا ہے۔ حالیہ برسوں میں فلسطین کی سرزمین پر ۷۰؍ ہزار سے زائد انسانی جانوں کا نذرانہ لینے کے بعد اسرائیل اب انسانیت کیلئے ایک مستقل خطرہ بن چکا ہے۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ ماضی میں اسرائیل اپنی جنگیں خود لڑنے کا زعم رکھتا تھا مگر اب اسے اپنی بقا کیلئےامریکی بیساکھیوں کی ضرورت ہے اور امریکہ کا اسے بلاجواز تحفظ فراہم کرنا پوری دنیا کیلئے ایک خطرناک پیغام ہے۔ لبنان میں جنگ بندی کےاعلانات کے باوجود معصوم بچوں کا لہو بہایا جا رہا ہے مگر عالمی ضمیر پر ایسی خاموشی طاری ہے جیسے یہ کوئی انسانی المیہ نہیں بلکہ محض ایک شماریاتی ڈیٹا ہو۔ امریکہ ایک طرف روس یوکرین جنگ میں انسانی حقوق کا واویلا کرتا ہے اور ہندوستان پاکستان کے درمیان کشیدگی کو ختم کرانے کا دعویٰ کرکے امن کے نوبل انعام کے خواب دیکھتا ہے مگر دوسری جانب وہی ہاتھ اسرائیل کو وہ بم فراہم کرتے ہیں جو اسکولوں اور پناہ گاہوں پر گرائے جاتے ہیں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: اس ہفتے کچھ اخبارات نے ایل پی جی قلت پر تو کچھ نے اسمبلی انتخابات کا جائزہ لیا

خواتین کو نمائندگی دینا یا ووٹ بینک مضبوط کرنا ہے؟
دی فری پریس جنرل(انگریزی، ۱۶؍اپریل)
’’حکومت کی جانب سے ۱۶؍ اپریل سے طلب کردہ پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس محض ایک قانون سازی کی نشست نہیں بلکہ ہندوستانی وفاقی ڈھانچے کے لیے ایک بڑے امتحان کی گھڑی ثابت ہونے والا ہے۔ حکومت جس عجلت میں آئین اور حلقہ بندیوں کے بل ۲۰۲۶ء کو منظور کرانے کے درپے ہے، اس نے ملک کے سیاسی حلقوں میں ایک نیا ہیجان پیدا کر دیا ہے۔ بظاہر اس اقدام کا مقصد خواتین کو پارلیمنٹ میں ۳۳؍ فیصد تحفظ فراہم کرنا ہے لیکن اس کی آڑ میں جوسیاسی شطرنج کھیلی جا رہی ہے وہ جمہوریت کیلئے کئی سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک پہلو لوک سبھا کی نشستوں کو ۵۴۳؍ سے بڑھا کر ۸۵۰؍ کرنا اور حلقہ بندیوں کی بنیاد ۲۰۱۱ء کی مردم شماری کو بنانا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف غیر منطقی ہے بلکہ جنوبی ہند کی ریاستوں کے ساتھ سراسر ناانصافی کے مترادف ہے تمل ناڈو اور کیرالا جیسی ریاستوں نے دہائیوں تک قومی مفاد میں اپنی آبادی کو کنٹرول کیا، تعلیم کو فروغ دیا اور سماجی ترقی کے اہداف حاصل کیے۔ اب انہی ریاستوں کو ان کی بہتر کارکردگی کی سزا دی جا رہی ہے کہ ان کی سیاسی نمائندگی کم ہو جائے گی۔ دوسری طرف شمالی ہند کی ریاستوں بالخصوص اتر پردیش کو آبادی میں اضافے کا انعام ۴۰؍ نئی نشستوں کی صورت میں ملنے والا ہے۔ کیا یہ وفاقی جمہوریت کا وہ ماڈل ہے جس کا خواب دستور سازوں نے دیکھا تھا۔ تنقیدی نکتہ یہ ہے کہ اگر حکومت واقعی خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے مخلص ہے تو اس کیلئے نشستوں میں اس قدر غیر متناسب اضافے اور پرانے ڈیٹا کے استعمال کی کیا ضرورت ہے؟ موجودہ ۵۴۳؍ نشستوں کے اندر بھی خواتین کا کوٹہ نافذ کیا جا سکتا تھاجسے ۲۰۲۹ء کے انتخابات میں تمام سیاسی جماعتیں بلا تامل قبول کر لیتیں لیکن یہاں مقصد شاید خواتین کی نمائندگی سے زیادہ اپنے ووٹ بینک کو مضبوط کرنا اور ان ریاستوں کا سیاسی وزن بڑھانا ہے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK