Inquilab Logo

ریاستی حکومت کی فلاحی اسکیموں کا فائدہ کانگریس کو لوک سبھا الیکشن میں حاصل ہوا

Updated: June 05, 2024, 5:51 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai

ریاستی حکومت کی فلاحی اسکیموں کا فائدہ کانگریس کو لوک سبھا الیکشن میں حاصل ہوا جبکہ پرجول ریونا کی وجہ سے بی جے پی کو نقصان پہنچا۔

Karnataka. Photo: INN
کرناٹک ۔ تصویر : آئی این این

 لوک سبھا الیکشن کی پولنگ کے دوران محلوں کی مسجدوں میں امام و خطیب صاحبان نے مسلمانوں کو اپنے رائے دہی کا استعمال کرنے کی ترغیب دی تھی۔ ہمارے محلے کی مسجد میں بھی امام صاحب نے کہاتھا کہ مسلمانوں کو اپنے حق کا استعمال کرتے ہوئے ووٹنگ کرنا لازم ہے۔ انہوں نے پڑوسی ریاست کرناٹک کی مثال دی تھی کہ’’جس طرح کرناٹک کے عوام نے فرقہ پرست طاقتوں کا خاتمہ کیا اسی طرح ہمیں بھی ایک سیکولر امیدوار کو ووٹ دے کر اسے کامیاب کرنا چاہئے۔ بہرحال لوک سبھا کے نتائج کے بعد کرناٹک کا جائزہ لیا گیا تو یہ بات سمجھ آگئی کہ امام صاحب نے کرناٹک کی مثال کیوں دی تھی۔ 
 لوک سبھا الیکشن میں کرناٹک اس لئے بھی اہم تھا کہ مرکزی حکومت جنوبی ہند میں اسے ہندوتوا کی لیباریٹری بنا نا چاہتی تھی جس طرح اس نے گجرات کوبنایا تھا۔تاہم، گزشتہ سال اسمبلی الیکشن میں بی جے پی اور اس کی حلیف پارٹیوں کی شکست نے اس کے مقصد پرپانی پھیر دیا تھا۔ 
  گزشتہ سال کرناٹک اسمبلی الیکشن میں وہاں کے عوام نے فرقہ پرست نظریات کی حامی پارٹیوں کو شکست فاش دیتے ہوئے سیکولر پارٹی کواقتدار میں لایا تھا۔اس بار بھی لوک سبھا میںعوام سے اسی طرح کی امید کی جارہی تھی اور عوام نے کرناٹک میں بھی بی جے پی کو سبق سکھایا۔ ۲۰۱۹ء کے لوک سبھا الیکشن میں کرناٹک کی ۲۸؍ سیٹوں پر بی جے پی نے اپنے ۲۷؍ امیدوار کھڑے کئے تھے اور ایک سیٹ آزاد امید وار سُما لتا کے حصہ میں تھی۔ ۲۰۱۹ء کے لوک سبھا الیکشن میں کانگریس نے کرناٹک میں جنتا دل (سیکولر) سے ہاتھ ملایا تھا اس لئے ان دونوں میں سیٹوں کا بٹوارہ ہوا تھا۔ کانگریس نے ۲۱؍اور جے ڈی ایس نے ۷؍ سیٹوں پر اپنے اپنےامیدوار کھڑے کئے تھےلیکن اُس الیکشن میں کانگریس اور اس کی حلیف پارٹیوں کو منہ کی کھانی پڑی تھی۔ بی جے پی نے ۲۷؍ میں سے ۲۵؍ سیٹوں پرقبضہ کیا تھااور ایک سیٹ پر اس کی آزاد امیدوار سّما لتا نے کامیابی حاصل کی تھی۔ دوسری طرف کانگریس اور جے ڈی ایس کو ایک ایک سیٹ پر اکتفا کرنا پڑا تھا۔ 
 ۲۰۲۴ء کے الیکشن میں کانگریس نے کرناٹک میں تمام ۲۸؍ سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے اور اس بار کسی بھی پارٹی سے گٹھ بندھن نہیں کیا۔ اس نے اپنے دم پر لوک سبھا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ دوسری طرف بی جے پی نے ۲۵؍ سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے اور۳؍ نشستوں پر جنتا دل (سیکولر ) نے امیدواروں کو موقع دیا۔
  ۲۰۲۴ء الیکشن کے ابتدائی نتائج ظاہر ہونے کے بعد کرناٹک میں ۱۶ ؍سیٹوں پربی جے پی آگے چل رہی تھی، ۳؍ سیٹوں پر اس کی حلیف پارٹی جے ڈی ایس سبقت لئے ہوئے تھی۔۹؍سیٹوں پر کانگریس نے سبقت حاصل کی تھی۔ پچھلے لوک سبھا الیکشن کے مقابلے میں کانگریس کو اس بار فائدہ ہوا اور اس نے اپنے کھاتے میں ۸؍ سیٹوں کا اضافہ کیا۔ اس کی مستحکم سیٹ بیلاری جہاں سے کبھی سونیا گاندھی نے الیکشن لڑا تھااور ۲۰۱۹ ء میں اسے گنوا دیا تھا، پر بھی کانگریس کا قبضہ ہوگیا ہے۔ اس سیٹ پر کانگریس کے امیدوار ای تکارام نے بی جے پی کے سیٹنگ ایم پی اور سینئر لیڈر بی سریرامولوکو شکست دی۔ 
 کرناٹک میں زعفرانی پارٹی کی سیٹیں کم ہونے کی سب سے بڑی وجہ کانگریس کی ریاستی حکومت کے ذریعہ خواتین کو دی جانے والی سہولیات ہیںجن میں گرہ لکشمی کے ذریعہ خواتین کی مالی اعانت، گریجویٹ بے روزگار نوجوانوں کو ماہانہ ۳۰۰۰؍ روپے بھتہ دینا، اس کے ساتھ ہی خواتین کو ریاست بھر میں بس میں مفت سفر کی سہولت شامل تھی۔ کانگریس کی ان اسکیموں کی وجہ سے نوجوان اور خواتین کا طبقہ اس سے بہت متاثر ہوا۔ ووٹنگ سے چند روز قبل پرجول ریونا کا معاملہ سامنے آیا اور اس نے ہاسن حلقہ انتخاب سے جے ڈی ایس کے امیدوار کی خواتین کے تعلق سے ذہنیت کو بھی منظر عام پر لادیا۔انتخابی ریلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی مذہبی منافرت نے بھی بی جے پی کیلئے منفی اثر ڈالا۔اس کے ساتھ ہی ۲؍سال قبل ہونے والا حجاب معاملہ بھی بی جے پی کی ہزیمت کا سبب بنا۔ 
 پچھلے لوک سبھا الیکشن کے مقابلے میں اس بار کانگریس کا ووٹ فیصد بھی بڑھا ہے۔ اس میں  ۱۳؍فیصد اضافہ ہوکر ۳۲؍ سے ۴۵؍فیصد ہوگیاہے۔ دوسری طرف بی جے پی کا ووٹنگ فیصد ۵۱؍  سے کم ہوکر ۴۴؍ ہوگیا ہے۔ 
 مجموعی طور پر دیکھا جائے تو کرناٹک میں کانگریس کیلئے یہ لوک سبھا الیکشن مثبت رہا کیونکہ اس با رالیکشن میں اس کی سیٹیں بڑھنے کے ساتھ ہی اس کا ووٹنگ فیصد بھی بڑھا ہے۔ دوسری طرف بی جے پی کا غرور ٹوٹا ہے جس نے اعلان کیا تھا کہ وہ کرناٹک کو جنوبی ہند میں ہندوتوا کی لیباریٹری بنائے گی۔ کرناٹک کے عوام نے بی جے پی کو سبق سکھانے کی کوشش کی اور کافی حدتک وہ کامیاب بھی رہے۔ 
 دوسری طرف کانگریس کے صدرملکارجن کھرگے کا تعلق بھی کرناٹک سے ہے۔ انہو ں نے جس طرح اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی ڈوبتی نیا کو پار لگانے کیلئے پورا زور لگا دیا تھا اور کانگریس کو جیت کے نشان کے پار لے آئے تھے، ٹھیک اسی طرح انہوں نے اب بھی محنت کی ہے۔ 
 کرناٹک میں کانگریس نے قابل تعریف کامیابی تو حاصل نہیں کی ہے مگر اس نے بی جے پی کے دانت کھٹے ضرور کردیئے ہیں۔ بہرحال کانگریس کو کرناٹک میں بی جے پی کا مکمل صفایا کرنے کیلئے اگلے لوک سبھا الیکشن تک انتظار کرناپڑے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK