کورونا، اکنامی اور چین کے عزائم: بڑی مشکل میں ہیں ہم

Updated: July 05, 2020, 9:30 AM IST | Aakar Patel

یہ حالات فوری اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔ زمینی حقائق کا اعتراف نہ کرنے سے مسائل ٹل نہیں جاتے بلکہ سنگین ہوتے چلے جاتے ہیں۔

Narendra Modi - Pic : PTI
نریندر مودی ۔ تصویر : پی ٹی آئی

 قلمکاروں کیلئے موضوع کا انتخاب کافی مشکل ہوگیا ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب بیک وقت درجنوں موضوعات منہ پھاڑے سامنے کھڑے ہوں۔ اتنے سارے موضوعات کا بیک وقت موجود ہونا بڑی نعمت ہوسکتا ہے مگر جن حالات سے ہم آپ گزر رہے ہیں اُن میں یہ نعمت زحمت بنی ہوئی ہے۔ 
 آئیے صحت عامہ سے آج کے کالم کی ابتداء کرتے ہیں۔ جمعہ کو وطن عزیز میں ۲۲؍ ہزار لوگ کورونا پازیٹیو پائے گئے۔ اب ہم پوری دُنیا میں متاثرین کا ۱۰؍ فیصد ہونے کے قریب ہیں۔ یہی نہیں بلکہ دُنیا میں سب سے زیادہ متاثرین کی فہرست میں تیسرے نمبر پر پہنچنے کو ہیں۔ اس رفتار سے خدانحواستہ اگست کے اخیر تک کیا حالت ہوگی اور اُس وقت کتنے ڈاکٹر او رہیلتھ ورکرس اسپتالوں اور قرنطینہ مراکز تک پہنچ پائیں گے تاکہ مریضوں کی دیکھ بھال کریں یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ ستمبر اور اکتوبر میں کیا ہوگا اس کے بارے میں تو سوچنا ہی بیکار ہے۔ البتہ جن شہروں میں مثلاً دہلی، ممبئی اور چنئی، سب سے زیادہ کیسیز ہیں وہ ایسے (شہر) ہیں کہ جہاں پر ملک کی بہترین طبی سہولتیں دستیاب ہیں۔ اگر بیماری اسی طرح پھیلتی رہی تو خاص طور پر اُن علاقوں میں کیا ہوگا جہاں شہروں جیسی طبی سہولتیں دستیاب نہیں ہیں، یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ 
 اب آئیے معیشت کی طرف۔ وطن عزیز میں ایسے بہت کم ذرائع ہیں جو نبض ِ معیشت کو محسوس کرکے بالکل ٹھیک ٹھیک طریقے سے بتاسکیں کہ حقائق کیا ہیں۔ ایک پیمانہ آٹوموبائل کی فروخت کا ہے کیونکہ ہر مہینے کی ابتداء میں آٹوموبائل کے مینجوفیکچرر یہ انکشاف کرتے ہیں کہ گزرے ہوئے مہینے میں اُنہوں نے کتنی گاڑیاں فروخت کی ہیں۔ اُن کے بتائے ہوئے اعدادوشمار کا سال گزشتہ کے اسی مہینے کے اعدادوشمار سے موازنہ کیا جائے تو صورتحال کا کسی حد تک پتہ چلتا ہے۔ جنوری ۲۰۲۰ء میں چار پہیہ گاڑیوں کی فروخت ۲ء۶؍ لاکھ پر آگئی تھی جبکہ جنوری ۲۰۱۹ءمیں ۲ء۸؍ لاکھ تھی۔ یہ کووڈ۔۱۹؍ سے پہلے کا واقعہ ہے۔ ٹرک، ٹریلر اور دوسری مال بردار گاڑیاں جنوری ۲۰۱۹ء میں ۸۷؍ ہزار کی تعداد میں فروخت ہوئی تھیں جبکہ جنوری ۲۰۲۰ء میں ان کی تعداد ۷۵؍ ہزار ہو گئی تھی۔ یہی حال دو پہیہ گاڑیوں کا تھا۔ یہ تعداد ۱۵؍ لاکھ سے گر کر ۱۳؍ لاکھ ہوگئی تھی۔ اس سال فروری میں مال بردار گاڑیو ںکی فروخت ۳۲؍ فیصد کم ہوئی جبکہ مسافر بردار چار پہیہ گاڑیوں کی فروخت میں ۷؍فیصد کی تخفیف ریکارڈ کی گئی۔ اس کے بعد اپریل میں مجموعی فروخت صفر رہی جبکہ مئی اور جون میں تقابلی اعتبار سے منفی ہوگئی۔ 
 حقیقت یہ ہے کہ کوئی چیز ہے جو ہندوستانی معیشت کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ معیشت کی اس گراوٹ کا سلسلہ لاک ڈاؤن سے پہلے شروع ہوچکا تھا۔ ڈاٹا صاف چغلی کھا رہا ہے مگر حکومت اس کا اعتراف کرنے کو تیار نہیں ہے۔ چونکہ حکومت اعتراف نہیں کررہی ہے اس لئے اس کی جانب سے ایسے اقدامات بھی نہیں ہورہے ہیں جن سے معیشت کو سنبھالا دیا جاسکتا ہو۔ ایسے حالات میں معیشت کا نقصان جاری رہنے کا خدشہ ہے اور اس کا خمیازہ ملک اور عوام کو بھگتنا پڑے گا اب یہ بات بھی بالکل صاف اور واضح ہے۔ 
 کووڈ۔۱۹؍ اور معیشت کی سست روی کے یہ ستم ہی کیا کم تھے کہ ہمیں دو دہائیوں کی سب سے بڑی چنوتی کا سامنا چین کی طرف سے ہے۔ چین طا قت آزمائی پر تُلا ہوا ہے اور لداخ کے حصوں میں داخل ہوکر قابض ہوچکا ہے۔ یہ وہ حصے اور علاقے ہیں جہاں مارچ تک ہمارا قبضہ تھا۔ ہم نہیں جانتے کہ چین نے یہ پیش قدمی کیوں کی۔ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ چاہتا کیا ہے۔ 
 دفاعی اُمور کے ماہر پروین سوامی کا کہنا ہے کہ چین سے مذاکرات میں کافی دیر لگ رہی ہے اور ان میں کچھ پیش رفت بھی نہیں ہورہی ہے۔ چین کی جانب سے یہ اشارہ مل رہا ہے کہ نئی دہلی اُس صورتحال کو قبول کرلے جو اس کی پیش قدمی اور قبضہ کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس کا مطلب ہے قبضے کی حقیقی لکیر (ایل او سی) میں تبدیلی۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ آیا ہندوستان اس علاقے کو جس پر چین قابض ہوگیا ہے، دوبارہ حاصل کرلے گا مگر اس پر سلیقے سے بات چیت بھی نہیں ہوسکتی کیونکہ وزیر اعظم خود کہہ چکے ہیں کہ کوئی دراندازی نہیں ہوئی ہے۔ جمعہ کو وزیر اعظم نریندر مودی نے لداخ کا دورہ کیا تاکہ جو کنفیوژن پیدا ہوا ہے اُسے دور کیا جاسکے۔ وہاں  اُنہوںنے جس جنگی انداز کی تقریر کی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خطرہ حقیقی ہے اور چینیو ں کا قدم پیچھے لینا ضروری ہے۔ اس تقریر میں بھی انہوں نے چین کا نام نہیں لیا مگریہ طے ہے کہ آگے چل کر اُنہیں نام بھی لینا پڑے گا کیونکہ اپنے علاقے خالی کروانے کیلئے چین کے ساتھ سخت اور طویل مزاحمت کرنی ہوگی۔ 
 اس پس منظر میں یہ کہے بغیر نہیں رہا جاسکتا کہ چاہے جو وجہ رہی ہو ہم نےکافی وقت ضائع کردیا۔ ہم دُنیا کے متعدد با اثر ملکوں کی حمایت حاصل کرسکتے تھے اور چین پر دباؤ ڈال سکتے تھے۔ یہ اسی وقت ممکن تھا جب ہم تسلیم کرتے کہ ہاں چین نے ایل او سی کی خلاف ورزی کی اور ہندوستانی علاقوں میں دراندازی کی ہے۔ 
 ہمارے پاس اب بھی موقع ہے۔ آئندہ چند مہینوں میں وزیر اعظم جی۔۷؍ کی چوٹی کانفرنس کیلئے روانہ ہوں گے ۔ اگر تب تک چین راہ راست پر نہیں آسکا تو یہ اچھا موقع ہوگا۔ 
 معلوم ہوا کہ ایک طرف وباء ہے جو دن بہ دن تیزی سے پھیل رہی ہے، دوسری طرف معاشی مندی ہے جس میں بے روزگاری تاریخ کی سب سے اونچی سطح پر ہے اور تیسری طرف ایک طاقتور دشمن ہے جو جارحیت پر آمادہ ہی نہیں کھلی جارحیت کا مظاہرہ کررہا ہے جبکہ ہم سے یہ کوتاہی ہوئی کہ ہم اس کے عزائم سے غافل رہے۔
 سال کی ابتداء میں مَیں یہ کہہ سکتا تھا کہ ہمارے ملک میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ حکمراں جماعت عوام کو بانٹنے کی کوشش کررہی ہے لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ چین کے خطرہ سے نمٹنے کیلئے جو ملک وقوم کیلئے بڑا خطرہ ہے، پورے ملک کامتحد ہونا ضروری ہے

china ladakh Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK