سنتوں پرعمل کیجئے، اجر بھی ملے گا، صحت کا تحفظ بھی ہوگا

Updated: March 20, 2020, 5:45 PM IST | Mudassir Ahmed Qasmi

کورونا وائرس کے متعدی ہونے کی وجہ سے اس وقت پوری دنیا میں حفظان صحت کے تعلق سے مختلف ہدایات جاری کی جارہی ہیں اور تمام لوگ ہر ہدایت پر مکمل عمل کر نے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔

Wazu - Pic : INN
وضو ۔ تصویر : آئی این این

 درحقیقت یہ بیداری اِس وجہ سے ہے کہ عوام  اِن ہدایات کو زندگی اور موت کے آئینے میں دیکھ رہے ہیں۔اِس تناظر میں ہمیں اسلام کے عظیم ترین نعمت ہونے کا فرحت و اطمینان بخش احساس ہوتا ہے،کیونکہ حفظانِ صحت کے تعلق سے اسلام نے جو احکامات انسانوں کے لئے جاری کئے ہیں وہ کسی خاص وقت تک محدود نہیں ہیںبلکہ ان کا اطلاق ہر دور کے انسان کیلئے ہے اور اس کی پیدائش سے لے کر موت تک ہوتا ہے۔
یہاں ہمیں یہ اعتراف ضرورکرنا ہوگا کہ بہت سارے مسلم گھرانوں میں بھی حفظان صحت سے متعلق اسلامی ہدایات پر عمل نہیں ہوتا۔اس کی ایک مثال یہ ہے کہ حال ہی میں میرا ایک مسلم فیملی میں جانا ہوا،جہاں چند بچے کھانے پر بغیر ہاتھ دھوئے بیٹھ رہے تھے۔ اُن میں سے ایک بچہ فوراً دوسرے بچوں کو مخاطب کرتے ہوئے بول اُٹھا ’’تم لوگ ہاتھ دھو کر کھائو، نہیں تو کوروناوائرس سے متا ثرہوجائو گے۔‘‘
یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اگر اِن بچوں کو بہتر ڈھنگ سے یہ تعلیم و تربیت دی گئی ہوتی کہ ہاتھ دھو کر کھانا پیارے نبی ﷺ کی سنت ہے تو یہ بچے نہ تو بغیر ہاتھ دھوئے کھانے پر بیٹھتے اور نہ ہی وہ بچہ کوروناوائرس سے ڈر کر ہاتھ دھونے پر اپنے ساتھیوں کو آمادہ کرتا بلکہ یہ کہتا کہ ہاتھ دھو کر کھانا سنت ہے اس لئے ہاتھ دھو لو۔
دنیا نے جب ترقی کی منازل طے کیں اور نئے انکشافات نے حفظانِ صحت کے اصول مرتب کئے تو لوگوں میں بیداری لانے کے لئے ہر سال ۱۵؍اکتوبر کو گلوبل ہینڈ واشنگ ڈے منایا جانے لگا۔ جبکہ اسلام نے بہت پہلے ہی ہاتھ آلودہ ہونے کے بعد اس کو بہتر ڈھنگ سے دھونے کی ہدایت دی، چاہے وہ استنجا کے بعد ہو یا کھانے سے پہلے اور کھانے سے فارغ ہونے کے بعد۔ کمالِ نفاست یہ ہے کہ باوضو ہونے کے بعد بھی کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کو مستحب قرار دیاگیا ہے۔
کوروناوائرس کی دہشت کا یہ عالم ہے کہ ہر طرف لوگ منہ پر ماسک لگائے ہوئے نظر آ رہے ہیں جو کہ طبی نقطۂ نظر سے درست ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ وائرس سے بچا جائے۔ اس موقع پر بھی اسلام کی ہمہ گیریت اور جامعیت کی مزید تصدیق ہوجاتی ہے کہ اسلام نے تاکیداً  چھینک کے وقت منہ پر کپڑا یا ہاتھ رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ ابودائود شریف کی ایک روایت کے مطابق آپ ﷺ چھینک کے وقت اپنے چہرے کو کپڑے یا ہاتھ سے ڈھانک لیتے تھے اور آواز کو پست کر لیا کرتے تھے۔اس کی تشریح کرتے ہوئے علمائے شریعت نے یہ لکھا ہے کہ چھینک کے وقت منہ اور ناک سے ریزش نکلتی ہے؛ اسی وجہ سے دوسروں کو اس سے بچانے کے لئے چھینک کے وقت مذکورہ عمل بتلایا گیا۔ اسی طرح کھانے پینے کی چیزوں میں رطوبت کے پڑنے سے بچانے میں بھی یہ عمل کارآمد ہے۔ 
کوروناوائرس کی وجہ سے ریلوے کی جانب سے مسافروں کو یہ اطلاع دی گئی ہے کہ اب اے سی ڈبوں میں کمبل کی فراہمی کو معطل کردیا گیا ہے اور اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ اس کی دُھلائی مستقل نہیں ہوتی۔ سوال یہ ہے کہ بھاری کرایہ لینے کے بعد بھی صفائی کا بلند معیار کیوں قائم نہیں کیا جاتا؟ اس حوالے سے جب ہم اسلامی تعلیم کا مطالعہ کرتے ہیں تو کپڑوں کی پاکیزگی کے تعلق سے تعلیمات و ہدایات کاایک عظیم ذخیرہ پاتے ہیں۔ پاکیزگی کے حوالے سے سورہ مدثر میں نبی اکرم ﷺ کو مخاطب فرماتے ہوئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: اپنے کپڑے کو صاف رکھئے۔ دراصل یہ خطاب نبی اکرم ﷺ کے واسطے سے پوری امت کیلئے ہے۔اسی طرح پاکیزگی کے حوالے سے اسلام کی ایک واضح تعلیم صحیح مسلم کی حدیث میں موجود ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ ’’صفائی آدھا ایمان ہے۔‘‘
کپڑوں کی پاکیزگی کے حوالے سے جب ہم اسلامی تعلیمات کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں تومعلومات کی ایک نئی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں، جہاں نجاست سے کپڑوں کو پاک کرنے کے مختلف طریقے بتلائے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر بچہ کپڑے میں پیشاب کر دے تو اسے تین پانی سے صاف کیا جائے گا؛ اس طریقے پر کہ ہر مرتبہ دھونے کے بعد اس کپڑے کو نچوڑا بھی جائے۔ اسی طرح کارپیٹ وغیرہ میں نجاست لگ جائے تو اس کو پاک کرنے کا الگ طریقہ بتلایا گیا ہے؛ کتا یا کوئی اور جانور کسی چیز کو ناپاک کر دے تو اس چیز کو پاک کرنے کا بھی الگ طریقہ ہے۔بہر حال پاکیزگی حاصل کرنے کا جو بھی طریقہ بتلایا گیا ہے؛ اُ ن سب سے دو مقاصد حاصل ہوتے ہیں: (۱)شرعی پاکیزگی(۲) آلودگی اور گندگی سے پاکیزگی۔اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اسلام میں پاکیزگی کے حوالے سے تمام تعلیمات میں حفظانِ صحت کا پہلو بھی موجود ہے۔ 
خلاصہ یہ ہے کہ اسلام نے جہاں روحانی پاکیزگی پر زور دیا ہے وہیں جسمانی پاکیزگی کی بھی لازمی تاکید کی ہے؛ کیونکہ جسمانی صفائی پربیماری اور وبا سے پاک صحت و تندرستی کا دارو مدار ہے۔ انسان اگر جسمانی طور پر صحت  مند رہے گا تو اپنے ساتھ انصاف کر نے کے ساتھ ساتھ حقوق اللہ کا بھی خیال رکھے گا اور حقوق العباد کا بھی 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK