ورزش یا کسی اہم سرگرمی سے قبل سوشل میڈیا کا استعمال ذہنی تھکن بڑھا کر جسمانی اور ذہنی کارکردگی کو متاثر کر سکتا ہے۔ ڈنمارک کی ایک تحقیق کے مطابق ورزش سے پہلے سوشل میڈیا استعمال کرنے والے افراد کی کارکردگی میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
EPAPER
Updated: September 12, 2026, 3:11 PM IST | Copenhagen
ورزش یا کسی اہم سرگرمی سے قبل سوشل میڈیا کا استعمال ذہنی تھکن بڑھا کر جسمانی اور ذہنی کارکردگی کو متاثر کر سکتا ہے۔ ڈنمارک کی ایک تحقیق کے مطابق ورزش سے پہلے سوشل میڈیا استعمال کرنے والے افراد کی کارکردگی میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
ڈنمارک کے ایک اسپورٹس فزیولوجسٹ نے خبردار کیا ہے کہ ورزش یا کسی اہم سرگرمی سے کچھ دیر قبل سوشل میڈیا کا استعمال ذہنی تھکن کا باعث بن سکتا ہے اور جسمانی کارکردگی کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتا ہے۔ ڈنمارک کی سرکاری کھیلوں کی تنظیم ٹیم ڈنمارک سے وابستہ اسپورٹس فزیولوجسٹ لارس جوہانسن نے جمعہ کو سرکاری نشریاتی ادارے ڈی آر کو بتایا کہ مطالعات سے واضح ہوا ہے کہ کسی سرگرمی سے قبل سوشل میڈیا استعمال کرنے سے کارکردگی میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ جوہانسن گزشتہ چار برس سے سوشل میڈیا اور کارکردگی کے درمیان تعلق کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا کا استعمال دماغ کو ذہنی طور پر تھکا دیتا ہے، جس کے نتیجے میں انسان تھکن محسوس کرنے لگتا ہے اور اس کی حوصلہ مندی بھی کم ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ۱۱؍ ستمبر حملوں کے متاثرین کی یاد میں نیویارک ہاربر میں ڈرونز کا شاندار مظاہرہ
ٹیم ڈنمارک نے ۲۰۲۲ءسے بین الاقوامی تحقیقی جرائد میں شائع ہونے والی تحقیقات کا جائزہ لیا ہے۔ ایک تحقیق میں ایسے کھلاڑیوں کا موازنہ کیا گیا جو یو یو فٹنس ٹیسٹ سے۳۰؍ منٹ قبل سوشل میڈیا استعمال کر رہے تھے جبکہ دوسرے گروپ نے روایتی ٹیلی ویژن پروگرام دیکھا۔ نتائج کے مطابق سوشل میڈیا استعمال کرنے والے کھلاڑیوں کی کارکردگی۱۰؍ فیصد کم رہی، جو ان کے فٹنس اسکور میں تقریباً۴؍ فیصد کمی کے برابر تھی۔ جوہانسن نے کہا کہ جسمانی صلاحیت میں آنے والی یہ کمی اس اثر کے برابر ہے جو ورزش سے پہلے۳؍ سے۴؍ سگریٹ پینے سے پیدا ہو سکتی ہے۔ ڈنمارک کی اولمپک کرلنگ کھلاڑی میڈلین ڈوپونٹ نے بتایا کہ۲۰۲۶ءکے میلان-کورٹینا سرمائی اولمپکس کے دوران ان کی ٹیم نے ٹریننگ اور مقابلوں سے قبل سوشل میڈیا کا استعمال ترک کر دیا تھا۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا نے کھلاڑیوں کی توجہ اور کارکردگی پر منفی اثر ڈالا، اس لئے اس سے دور رہنے کا فیصلہ آسان تھا۔
یہ بھی پڑھئے: یورپی یونین میں پناہ کی درخواستیں ۲۰۲۱ء کے بعد کم ترین سطح پر
جوہانسن کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے یہ اثرات صرف اعلیٰ سطح کے کھلاڑیوں تک محدود نہیں بلکہ عام افراد کی ورزش اور ایسی سرگرمیوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں جن میں ذہنی توجہ درکار ہوتی ہے، حتیٰ کہ ملازمت کے انٹرویو بھی اس میں شامل ہیں۔ تاہم، انہوں نے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی سفارش نہیں کی اور اسے زیادہ تر لوگوں کیلئے’’غیر حقیقت پسندانہ‘‘ قرار دیا۔ ان کا مشورہ ہے کہ ورزش، مقابلے، ملازمت کے انٹرویو یا کسی بھی ایسی سرگرمی سے پہلے جس میں بھرپور جسمانی یا ذہنی کارکردگی درکار ہو، چند گھنٹوں تک سوشل میڈیا سے گریز کیا جائے۔