• Sat, 12 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت‘

Updated: September 12, 2026, 3:25 PM IST | Shahid Latif | Mumbai

برسوں پہلے یہ شاعر مشرق نے کہا تھا۔ اب مصنوعی ذہانت ہماری زندگیوں میں داخل ہے۔ ہمیں اس کی سرگرمیوں میں لطف آرہا ہے مگر یہ رفتہ رفتہ ہم پر قابض ہوتی جارہی ہے۔ کافی حد تک قابض ہو بھی چکی ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

پیش گوئی دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک دعوے پر مبنی کہ مستقبل میں ایسا ہوگا۔ دوسری پروازِ تخیل پر مبنی جس میں کوئی ادیب ایسی کہانی یا افسانہ پیش کرتا ہے جس میں مستقبل کے اشارے موجود ہوتے ہیں۔ ہر پیش گوئی درست ثابت نہیں ہوتی کیونکہ مستقبل انسان کی قدرت اور اختیار سے باہر ہے۔ کوئی شخص کتنا ہی بڑا نباض، دور اندیش اور دانا ہو یہ نہیں بتا سکتا کہ وہ کب تک جئے گا اور کب انتقال کرجائیگا۔ تاہم ایسے لوگ بھی ہوئے ہیں جنہوں نے جو سوچا ویسا ہی ہوا اس لئے اُن کی شہرت آسمان پر پہنچ گئی۔ ولیم گبسن نے، جو ابھی بقید حیات ہیں، اب سے کم و بیش بیالیس سال پہلے اپنی کتاب ’’نیورومینسر‘‘ میں سائبراسپیس، انٹرنیٹ حتیٰ کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے واضح اشارے دیئے تھے جو اُس دَور میں بعید از قیاس تھے کیونکہ تب تک کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ سے دُنیا کا باقاعدہ تعارف نہیں ہوا تھا اور دفتروں میں یا گھروں میں ان کی تشریف نہیں آئی تھی۔ گبسن نے تب ورلڈ وائڈ ویب، ورچوئل ریالٹی، سائبر کرام اور ہیکنگ تک کا تصور پیش کردیا تھا۔ انٹرنیٹ کی جس دُنیا کو سائبر اسپیس کہا جاتا ہے اور ہم اہل اُردو اب تک اُس کا متبادل تلاش نہیں کرسکے ہیں، اُسے سائبراسپیس نام بھی گبسن ہی کا دیا ہوا ہے جو اَب اس قدر عام ہے کہ لوگ یہ تو جانتے ہیں کہ سائبر اسپیس کیا ہے مگر گبسن کو نہیں جانتے۔ اسی لئے کتابیں پڑھنے کی تلقین کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ورزش سے قبل سوشل میڈیا کا استعمال جسمانی کارکردگی متاثر کر سکتا ہے: ڈینش ماہرین

گبسن کی یہ کتاب سائنسی افسانہ نگاری (سائنس فکشن) کے زمرہ میں آتی ہے جس میں اُردو کا بہت بڑا نام ابن صفی کا ہے۔ ابن صفی جاسوسی ناول نگار کے طور پر مشہور ہوئے مگر اُن کے تخیل نے ہفت افلاک تک رسائی حاصل کی جہاں اُن کےعلاوہ کوئی اور اُردو ادیب نہیں پہنچا۔ ’’موت کی آندھی‘‘ میں اُنہوں نے بتایا تھا کہ کس طرح کتے کے منہ سے شدید آندھی چلنی شروع ہوتی ہے جو پورے گاؤں کو تباہ کردیتی ہے۔ اس ناول کے ذریعہ ابن صفی نے ’’مشینی آندھی‘‘ کا تصور پیش کیا تھا۔ اب تک ایسی کوئی مشین ایجاد نہیں ہوئی ہے مگر جب کیمیائی اور طبعیاتی اسلحہ بنایا اور استعمال کیا جاچکا ہے تو کچھ عجب نہیں کہ آندھی کی مشین بھی بن جائے۔ ایک اور ناول ’’عظیم حماقت‘‘ میں ابن صفی نے مصنوعی جراثیم کی پیداوار اور جنگوں کا جنون رکھنے والے ملکوں کو اُن جراثیم کی فراہمی سے بحث کی تھی۔ اب یہ بھی ماورائے حقیقت نہیں ہے۔ اس ضمن میں صفی صاحب کے ناول ’’وبائی ہیجان‘‘ کو نہیں بھولنا چاہئے جو ایسا خیال تھا جو سچ ثابت ہوا اور دُنیا کورونا کے دور میں اس سے شدید طور پر متاثر رہی۔ 

ولیم گبسن کی کتاب چھپی تو ۶۰؍ لاکھ لوگوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ خرید لیا تھا۔ اس کی خوب پزیرائی ہوئی اور آج تک ہورہی ہے۔ اس کے صلے میں گبسن کو تین بڑے انعامات سے نوازا گیا تھا: دی نیبولا ایوارڈ، فلپ کے ڈک ایوارڈ اور ہیوگو ایوارڈ۔ حالیہ دنوں اور مہینوں میں اس مضمون نگار کی نظر سے گبسن کا کوئی بیان نہیں گزرا جس میں انہوں نے مصنوعی ذہانت کی حیران کن پیش رفت پر کوئی تبصرہ کیا ہو مگر وہ لوگ، جو اَب تک اے آئی کو نئی طاقت اور صلاحیت عطا کررہے تھے، ضمیر کی آواز پر خود کو علاحدہ کررہے ہیں۔ تازہ واقعہ اینتھروپک کے تحقیق کار جیکب کاکسون کا ہے جنہوں نے  اپنے ادارے کو یہ کہتے ہوئے خیرباد کہہ دیا کہ وہ دن بھی آسکتا ہے جب مصنوعی ذہانت پر انسانی ذہانت کا اختیار ختم ہوجائیگا اور مصنوعی ذہانت خود کافی آگے نکل کر بے قابو ہوچکی ہوگی۔ کاکسون کے بقول اس کی وجہ اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسے ادارے ہیں جن میں اخلاقی ذمہ داریوں کا احساس نہیں ہے، یہ ادارے ’’ہماری زندگیوں کو داؤ پر لگا رہے ہیں‘‘۔ بقول کاکسون ’’اس تکنالوجی کی طاقت کو کم تر سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے، یہ جلد ہی سپرہیومن سسٹم پیدا کردے گی جو کسی بھی چیز کو ہیک کرسکے گا، کسی بھی شعبے کو غیر معمولی طور پر بدل دے گااور حقیقی طاقت اور وسائل پر قابض ہوجائیگا۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: تنازعات میں بہترین رویے کی جستجو

کاکسون کی اس تنبیہ کو ایک جواں سال تحقیق کار کی ضرورت سے زیادہ حساسیت پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔ الگورتھم کس طرح صارف کے ذہن کو پڑھتا ہے اس کا اندازہ ہر خاص و عام کو ہے اور یہ ایک ادنیٰ مثال ہے۔ یہ انتباہ کہ اے آئی میں پوری انسانیت کو تباہ کرنے کی طاقت پیدا ہوجائیگی اس لئے قابل قبول نہیں ہے کہ انسانیت کو تباہ کرنے کی طاقت کسی مشین میں نہیں ہوسکتی، وہ طاقت اور اختیار اور قدرت اُسی ہستی کی ہے جس نے انسانیت کو برپا کیا ہے مگر یہ دُنیا تخریبی رجحان، عالمی وسائل پر قابض ہونے کے جنون اور سپر پاور کہلانے کی ہوس کے شکار حاکموں اور حکومتوں کو دیکھ رہی ہے جو ان بیماریوں میں مبتلا ہوکر انسانیت کو شدید نقصان پہنچانے کی طاقت بہرحال حاصل کرلیتے ہیں۔ جوہری اسلحہ اس کی مثال ہے۔ جاپان پر جب ہائیڈروجن پھینکا گیا تو انسانیت ختم نہیں ہوئی مگر دو شہر تباہی کی داستان المناک بن گئے۔ قدرت نے انسان کو انسان بننے اور شیطان سے دور رہنے کا حکم دیا ہے۔ اسے بھلائی کو عام کرنے اور بُرائی سے خود بھی بچنے اور دوسروں کو بھی بچانے کی تلقین کی ہے۔ گبسن کا تکنالوجی سے تعلق نہیں ہے۔ وہ کاکسون کی طرح اے آئی میں تحقیق نہیں کرتا بالکل ایسے ہی جیسے ابن صفی نہ تو کبھی جاسوس رہے نہ ہی سائنسداں تھے۔ مگر ادیب سماج کا وہ حساس فرد ہے جو مختلف حیلوں بہانوں سے دُنیا کو متنبہ کرتا ہے۔ جو ادیب نہیں ہے مگر باضمیر ہے وہ بھی کسی نہ کسی مرحلے میں ٹھٹکتا ہے اور یہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ جو کچھ بھی کررہا ہے وہ انسانیت کیلئے نفع بخش ہے یا نقصان دہ۔ اے آئی پر کام کرنے والے کئی لوگ اب تک منظر عام پر آچکے ہیں جو پورے ذوق و شوق سے تکنالوجی کی طاقت کو منوانے کیلئے خود کو وقف کئے ہوئے تھے مگر جب اُنہوں نے تکنالوجی کی پیش رفت کے عواقب پر غور کیا تو دستبردار ہونے کے علاوہ اُن کے پاس چارہ نہیں تھا مگر ان کے ساتھ، ان کے آس پاس اور ان کی تحقیق سے فائدہ اُٹھانے والوں کی تعداد ان باضمیر لوگوں سے کہیں زیادہ ہے۔ وہ اگر عواقب اور نتائج سے واقف ہیں تب بھی جتنا سرمایہ لگایا ہے اُتنا منافع حاصل کئے بغیر انہیں چین نہیں آئیگا۔ وہ جس اے آئی کو ایک آلہ کے طور پر طاقت دے رہے ہیں وہ آلہ (انسٹرومنٹ) نہیں رہ جائیگا عامل (ایجنٹ) بن جائیگا۔ آلہ خود کار ہو تب بھی اپنے چلانے والے کے حکم کا محتاج ہے۔ عامل وہ ہے جو خود عمل کرتا ہے اور تعامل (انٹرایکٹ کرنے) کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسکے نتیجے میں مصنوعی ذہانت کی پیش رفت کیلئے انسانی ذہانت ضروری نہیں ہوگی یعنی اے آئی خود اے آئی بنانے لگے گی۔ یہ بہت خطرناک ہوگا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK