• Sat, 12 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ، اہل غزہ اور ایک دستاویزی فلم

Updated: September 12, 2026, 3:29 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

الجزیرہ نے کئی ایسی تصاویر اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کی ہیں جن سے غم زدہ غزہ کے حالات کا علم ہوتا ہے۔ اس تصویری فیچر کا عنوان ہے: ’’فلسطین کے لوگ، ملبے اور مٹی سے نئے مکانوں کی تعمیر کررہے ہیں‘‘۔ ان میں ایک تصویر خلیل ابو رمضان (۲۶؍ سال) کی ہے جو مٹی سے اینٹیں بنا رہا ہے۔

Yuval Abraham and Rachel Szor. Photo: X
یووال ابراہم اور راشیل زور۔ تصویر: ایکس

الجزیرہ نے کئی ایسی تصاویر اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کی ہیں جن سے غم زدہ غزہ کے حالات کا علم ہوتا ہے۔ اس تصویری فیچر کا عنوان ہے: ’’فلسطین کے لوگ، ملبے اور مٹی سے نئے مکانوں کی تعمیر کررہے ہیں‘‘۔ ان میں ایک تصویر خلیل ابو رمضان (۲۶؍ سال) کی ہے جو مٹی سے اینٹیں بنا رہا ہے۔ ایک اور تصویر میں ۳۹؍ سالہ کارپینٹر مکانوں کے ملبے سے نکلی ہوئی لکڑی کاٹ کر نئے مکانوں کی تعمیر میں استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اور بھی کئی تصاویر ہیں جن سے اہل غزہ کی بے بضاعتی اور بے سر و سامانی ظاہر ہوتی ہے۔ یہی تصویریںعالمی برادری کی بے حسی پر بھی دال ہیں۔ وہ عالمی برادری جو غزہ اور اہل غزہ کو بچانے میں شرمناک حد تک ناکام رہی اور  اب بھی ان مصیبت زدگان کی مدد کرنے کو تیار نہیں ہے۔ مختلف ممالک کو اسرائیل سے اپنے سفارتی و تجارتی تعلقات اور تل ابیب کی خوشنودگی اور ناراضگی کا اتنا احساس ہے کہ انسانیت کے مصائب کی جانب سے ان ملکوں نے آنکھ موند لی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:وے دن گئے کہ آنکھیں دریا سی بہتیاں تھیں

جس دستاویزی فلم کو وینس پریمئر میں پیش کیا گیا جہاں اُسے دیکھنے کے بعد مدعوئین نے کھڑے ہوکر اس کی پزیرائی کی اور دو چار منٹ نہیں بلکہ پورے پچیس منٹ تک وہ کھڑے ہی رہے، اپنی نشستوں پر بیٹھے نہیں، اُس (فلم) میں اسرائیلی فوج کے ۲۴؍ افراد، جن میں انٹلی جنس افسران اور سپاہی بھی شامل ہیں، بتاتے ہیں کہ کس طرح انہیں یہ حکم ملا تھا کہ (غزہ کے) امن کو برباد کردینا ہے۔ انہی افراد نے یہ عقدہ بھی کھولا کہ کس طرح تل ابیب نے اے آئی کا استعمال کرکے لوگوں کو نشانہ بنایا اور فون ہیک کرکے اُن لوگوں کو مارا جو اُس کی ہٹ لسٹ پر تھے۔ فلم سازوں کا کہنا ہے کہ انہوں نےجن افسران سے گفتگو کی اور اسرائیلی سکریٹ پلان (خفیہ منصوبہ) کی جانکاری حاصل کرنی چاہی اُن میں کچھ کو افسوس نہیں تھا کہ وہ کیا کررہے ہیں اور کچھ ایسے تھے جو مخاصمت کی بناء پر اپنے سیاسی آقاؤںکے حکم کی تعمیل کررہے تھے۔ تازہ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی ملٹری نے کسی خفیہ منصوبے یا غزہ پر حملوں کیلئے اے آئی کے استعمال کی تردید کی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: نیپال: ماحولیاتی انصاف کی فریاد

کیا تل ابیب کو اس دستاویزی فلم سے کوئی دشواری ہوگی؟ کیا اُس کیلئے عالمی برادری کے سامنے جوابدہ ہونا مشکل ہوجائیگا؟ یہ سوالات ذہن میں آتے ہیں مگر پھر ان کا جواب بھی اُبھرتا ہے کہ کچھ نہیں ہوگا، اسرائیل کو نہ دشواری ہوگی نہ دقت، اس لئے کہ نتین یاہو کی حکومت نے بہت سوں کو اپنی مٹھی میں رکھا ہوا ہے اور مٹھی کو اتنی قوت کے ساتھ بھینچ لیا ہے کہ جن ملکوں کا اثرورسوخ کام آسکتا تھا وہ اثر و رسوخ کے مالک ہونے کے باوجود دوسری طرف دیکھ رہے ہیں۔ جو لوگ اسرائیلی فوج کی بمباری نہیں رُکوا سکے، جو غزہ کی سڑکوں پر خون بہانے کے جنون کو نہیں روک سکے، جو اسکولوں اور اسپتالوں کے تباہ کئے جانے کا منظر دیکھتے رہے اور اُف تک نہیں کی، جو بچوں کی شہادت پر چپ رہے اور جنہوں نے خواتین اور بزرگوں کو روتا بلکتا اور خاندانوں کو اُجڑتا دیکھا مگر اُن کی غیرت نہیں جاگی، اُن سے کیا توقع کی جائے۔ شاید اہل غزہ نے اس بے رُخی اور بے حسی کو سمجھ لیا ہے اسی لئے وہ خود ہی اُٹھ کھڑے اور جو کچھ بچا ہے اُس سے جو کچھ بنا سکتے ہیں بنا رہے ہیں، گھر بسا رہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK