ٹرمپ کا دعویٰ ، کہا کہ نیتن یاہو پر واضح کردیا تھا کہ کشیدگی میں اضافہ کیا تو اسرائیل خود کو اکیلا پائےگا۔
ٹرمپ کا مزاج پل میں تولہ پل میں ماشہ کی طرح بدلتا رہتا ہے-تصویر:آئی این این
ایران سے معاہدے کے معاملے پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا موقف پھر تبدیل ہوگیا ہے۔ اب ان کا دعویٰ ہے کہ جنگ بندی کا یہ معاہدہ ۲؍ سے ۳؍ دن میںطے پاجائے گا۔ ٹرمپ نے نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران سے دو سے تین دن میں معاہدہ طے پاسکتا ہے۔ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کی صبح کہا کہ اسرائیل اور ایران نے کم از کم ایک ہفتے تک ایک دوسرے کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے، معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز فوری طور پر کھول دی جائے گی۔
ایئر فورس ون میں سوار ہونے سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایک دوسرے پر حملے کر رہے تھے اور اب دونوں نے میری کوششوں کے نتیجے میں حملے روکنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہم ایک ایسے معاہدے کے آخری مراحل میں ہیں جو بہت اچھا معاہدہ ہوگا اور جو کسی بھی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ گزشتہ دو دنوں میں ایران اسرائیل کے ایک دوسرے پر دوبارہ حملوں کے تناظر میں صدر ٹرمپ نے ایکسیوس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ خطے کے ۵؍ممالک نے نیتن یاہو پر دباؤ ڈالنے کی درخواست کی تھی، نیتن یاہو سے کہا تھا کہ جنگ شروع کی تو انھیں تنہا چھوڑا جاسکتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران سے پیغامات موصول ہوئے جن میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل کارروائیاں بند کر دے تو تہران بھی حملے روکنے کیلئے تیار ہے۔ ایرانی مذاکرات کار ہمیں سب کچھ دینے کے لیے تیار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں نے ایران کے خلاف اسرائیلی ردعمل کو محدود کرنے کی کوشش کی، میرا ماننا ہے ایران ایک معاہدے پر دستخط کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
وہیں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کے خلاف کشیدگی میں مزید اضافہ کیا گیا تو ممکن ہے اسرائیل ایران کے خلاف تنہا رہ جائے۔ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ کو ایران پر ہونے والے حالیہ اسرائیلی حملوں کے بارے میں آخری لمحے میں اطلاع دی گئی تھی۔ اسرائیلی چینل ۱۲؍سے گفتگو میں ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ رات فون پر نتن یاہو سے کہا تھا کہ اسرائیل ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں کا جواب نہ دے۔ رپورٹ کے مطابق اس گفتگو کا کوئی واضح نتیجہ سامنے نہیں آیا تھا تاہم ٹرمپ کے معاونین کا کہنا تھا کہ انہیں یہ تاثر ملا کہ امریکی صدر نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کیلئے اسرائیلی ردعمل کو چند دن کیلئے مؤخر کروانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔