موت برحق ہے مگر جدو جہد حیات بھی تو برحق ہے

Updated: October 18, 2020, 10:56 AM IST | Mubarak Kapdi

کووِڈ۱۹؍ کی ابتلاء، لاک ڈائون سے ترتیبِ حیات میں انتشار کی بنا پر باہمت اور پُر عزم افراد بھی مایوسی اور ذ ہنی انتشار کا شکار ہوسکتے ہیں لیکن ہمیں زندگی کے کسی بھی موڑ پر یہ نہیں بھولنا ہے کہ زندگی خالقِ کائنات کا تحفہ ہے۔ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ہم زندگی کے تئیں منفی رویّہ اختیار کرلیں

Coronavirus India - Pic : PTI
کورونا وائرس انڈیا ۔ تصویر : آئی این این

حالات کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہوں،ہم زندگی سے منہ نہیںموڑ سکتے۔ ہر حال میںاور ہر صورت میں ہمیںزندگی کے ہر چیلنج کو قبول کرنا ہے۔ ہم اسی حقیقت کا جائزہ لے رہے ہیں کہ زندگی سے محبت کرکے ہی شخصیت سنورتی ہے،نفرت سے ہرگز نہیں۔ 
ّ (۴) زندگی سے محبت کرنے والے مثبت سوچ کے حامل ہوتے ہیں۔ نفرت کرنے والے ہر قسم کی منفی فکر کو اپنے اوپر لادے رہتے ہیں۔ یہ منفی سوچ اُسے کئی نفسیاتی بیماریوں کا شکار بنادیتی ہے۔ منفی سوچ کا حامل شخص ہر کسی کی کمزریوں اور عیوب پر نظر رکھتا ہے، لہٰذا اُسے ہر شخص سے نفرت ہوجاتی ہے۔ یہ ساری نفرتیں اس کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔ ان نفرتوں سے چھٹکارا پانے کیلئے ضروری قوّتِ ارادی اس کے پاس موجود نہیں رہتی، اس طرح وہ زندگی کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوجاتاہے۔
 (۵)زندگی سے محبت کرنے والے صرف اپنے لئے نہیں جیتے۔ وہ یہ مان کر چلتے ہیںکہ ان کی زندگی ، ان کے وسائل اور ان کی صلاحیتوں پر دوسروں کا بھی حق ہے، اسلئے زندگی سے فرار حاصل کرنے کے منفی خیال جب جب ان کے ذہن میں اُبھرتے ہیں تب وہ اپنے گھر والوں کے بارے میںسوچتے ہی ہیں، انہیں یہ فکر بھی ستانے لگتی ہے کہ ان کے علاوہ دوست و احباب جو اُن سے مستفیض ہوتے آئے ہیں، ان کا کیا ہوگا؟اس لئے یہ سوچنا ضروری ہے کہ رب کائنات نے انھیں جو علم دیا ہے، اسے دوسروں تک بانٹے بغیر اگر وہ اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو وہ اپنے رب کو کیا جواب دے گا؟
 (۶)زندگی کی قدر کرنے والے اپنے جذبات پر قابو رکھنا جانتے ہیں۔ انھیں کوئی بھی اشتعال دلانے میں کامیاب نہیں ہوتا۔ کسی کی بے ہُودہ حرکتوں (جیسے تضحیک آمیز کارٹون)، اذیّت ناک باتیں( ان سے ذاتیات پر کیچڑ اُچھالنا )، نسل و ذات پر ہونے والی دشنام طرازی (جیسے تعلیمی کیمپس کی ریگنگ)، ذہنی ٹارچر(بصورت طعنے و فقرے )وغیرہ سے وہ مشتعل ہوناتو درکنار متاثر تک نہیںہوتا۔وہ تو یہ کہتے دکھائی دیتا ہے کہ ان ساری شر انگیز باتوں پر سوچنے کیلئے بھی اس کے پاس وقت نہیں ہے۔ زندگی کے سارے معاملات میں ثابت قدم رہنے والے  ا فراد زندگی سے منہ موڑنے کا کبھی کوئی ارادہ نہیں کرتے۔
 (۷)عام طور پر انسان کی یہ کمزوری ہوتی ہے کہ وہ توجہ چاہتا ہے۔ کچھ لوگوں میں یہ مادہ کم اور کچھ میں یہ زیادہ مقدار میںپایا جاتا ہے۔ توجہ حاصل کرنے کییلئے وہ اُوٹ پٹانگ حرکتیں بھی کرتا ہے۔ اس توجہ حاصل کرنے کا بھوت اس کے سر پر کچھ ایسا سوار رہتا ہے کہ وہ یہ چاہتا ہے کہ  اس کی موت بھی ہر طرف گفتگو کا موضوع بن جائے۔ یہ جنون سیاستدانوں میںزیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے۔ ہمارے نوجوان یہ یادرکھیں کہ زندگی سے پیار کرنے والے خوش باش و خوش و خرم لوگ مرکز نگاہ ، جان محفل اور توجہ کا مرکز بننے کی تمنّا نہیںرکھتے۔
 (۸)زندگی سے محبت کرنے والے شراب، سگریٹ اور نشہ وغیرہ سے اپنے آپ کو اسلئے بچاتے ہیں کہ یہ سب حیات کش اشیا ہیں۔ اسی طرح سے وہ حسد اور بغض سے بھی دُور رہتے ہیں کیوں کہ وہ جانتے ہیںکہ یہ نفسیاتی بیماریاں بھی ان کو موت سے قریب لے جاتی ہیں۔
 (۹)زندگی سے محبت کرنے والے ہمیشہ یہ جانتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کیلئے کتنے ہی اُصول و ضوابط مرتّب کریں اور کتنی ہی محنت و محبت سے اُن پر عمل پیرا ہوں البتہ اگر وہ منفی سوچ و فکر رکھنے والے افراد کے رابطے میں اور ان کی صحبت میں آگئے تو ان کے سارے اُصول دھرے کے دھرے رہ جائیں گے اسلئے  وہ ایسے لوگوں کو دوست نہیںبناتے جو زندگی کی بے قدری کرتے ہیں یا جو ہر دم یاسیت و مایوسی کا لبادہ اوڑھے رہتے ہیں۔ وہ ان لوگوں کو دوست بناتے ہیں جن کا یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ انسان کو ہر حال میں اپنی جدّو جہد حیات جاری رکھنا ہے کیوں کہ کوشش کرنے پر کوئی انسان یا تو جیتتا ہے یا کچھ سیکھتا ہے  لیکن وہ  ہارتا کبھی نہیں ہے۔
 (۱۰) زندگی کی قدر کرنے والے اپنی زندگی میں غیر متوقع حادثات یا واقعات سے ہار نہیں مانتے بلکہ انھیں زندگی کا ایک حصہ سمجھ کر حل تلاش کرلیتے ہیں۔ اپنی زندگی کی لغت میںمشکل لفظ کو وہ چیلنج پڑھتے ہیں۔ ان جیسے افراد کو اسکول کے زمانے ہی سے صرف فتح کا جشن منانا نہیںسکھایا جاتا بلکہ بڑی سے بڑی شکست کو بھی خوش اسلوبی سے جھیلنے کی تربیت دی جاتی ہے۔
 نوجوانو! دیکھا آپ نے اللہ کی دی ہوئی قیمتی شہ یعنی زندگی سے حقیقی محبت کرنے والے ایک خوش باش، خوش و خرم اور معتدل و پُرسکون زندگی گزارتے ہیں اسلئے  وہ غیر فطری موت کا تصوّر بھی نہیںکرتے اور مایوسی ، ذہنی انتشار فرسٹریشن کا شکار ہوکر اپنی زندگی کو جہنم بھی نہیں بناتے۔
 آئیے اب یہ جائزہ لیں کہ ہمارے نوجوانوں میں مایوسی ، ذہنی انتشار و ڈپریشن جیسی بیماریوں کاجنم کیوںکر ہوتا ہے؟ آج ہم ان سارے عناصر کا تذکرہ کریںگے کہ جو بظاہر تو کچھ اہم نظر نہیں آتے البتہ ہمارے نوجوانوں کے ذہن و فکر اور ان کی پوری زندگی ہی پر اثر انداز ہوجاتے ہیں:
 (۱) ذہنی انتشار کی سب سے بڑی وجہ خوفِ خدا کا فقدان ہے۔ یہ رب کائنات کا خوف ہے جو ذہن کو منتشر ہونے سے بچاتا ہے ، ورنہ اپنی خواہشات کا غلام بننے اور دوسروں کو ایذا پہنچانے سے انسان کو کون بچا سکتا ہے؟
 (۲) ذہنی انتشارا ور فرسٹریشن کا دوسرا بڑا سبب ہے: زندگی میں کسی نصب العین کا فقدان۔ نوجوانوں میںاگر ان کی زندگی کی منزل کی نشاندہی نہ ہوتو ان کی ساری کوششیں بے سمتی کا شکار ہوجاتی ہیں اور اس کے بعد مایوسی ہی اُن کا مقدّر بن جاتاہے۔ 
 (۳) اپنے ہدف کو البتہ بار بار تبدیل کرنے سے بھی ذہنی کوفت ہوتی رہتی ہے جو فرسٹریشن میںتبدیل ہوتی رہتی ہے۔ اس منتشر خیالی کو ماہرِ امراض نفسیات بھی علاج نہیں کرپاتے لہٰذا بہتر ہے کہ زندگی کے اپنے ہدف کے تئیں پورے کمیٹیڈ رہیں۔ 
 (۴)ذہنی انتشار کا ایک بڑا سبب ہے: وقت سے کھلواڑ۔ ہمارے نوجوان وقت سے کھلواڑ کو کچھ نقصان دہ نہیں سمجھتے البتہ جب انھیں یہ احساس ہوجاتا ہے کہ ان کی زندگی کی ترتیب میںبگاڑ کا سب سے بڑا سبب وقت کی بے قدری ہے ، تب تک کافی دیر ہوچکی ہوتی ہے۔
 (۵) زندگی میںمواقع ہمیشہ موجود رہتے ہیں البتہ اگر انسان کوشش کرنا چھوڑ دے اور جمود کا شکار ہوجائے تو اس کیلئے ہر سفر دشوارنظر آتا ہے اور وہ مایوسی کا شکار ہوجاتا ہے۔ دراصل جمود کا مطلب ہی ہے جیتے جی موت کو گلے لگانا! 
 (۶) اپنے گھر سے تعلیمی کیمپس میں ایک نوجوان جب آتا ہے ، تب دوسروں پر یہ ظاہر ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے گھر سے کیا لے کر آیا ہے، اس کی تربیت کیسے ہوئی ہے؟اُسے گھر میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایڈجسٹ کرنے کی سیکھ ملی ہے یا رقابت اور حسد و جلن کی آگ میں وہ جھلستا رہتا ہے۔
 (۷)اگر کسی طالب علم میں تنقید، نکتہ چینی حتیٰ کہ عیب جوئی کو برداشت کرنے کا مادّہ نہ ہو تو اُس کی شخصیت میںدراڑ پڑنا شروع ہوجاتی ہے۔ وہ کسی کے طعنے، فقرے وغیرہ برداشت نہیںکرپاتا اور پھر مایوسی کے اندھیرے اس کا مقدّر بن جاتے ہیں۔  
 (۸)پھول میںپتّیاں اور کانٹے دونوں ہوتے ہیں اور ایک ساتھ ہوتے ہیں ۔عام طورپر پھول خوشیوں کی مثال سمجھی جاتی ہے اور کانٹے تکلیف کا استعارہ۔ اکثر اوقات خوشیوںسے کچھ سبق نہیںملتا جب کہ تکلیف انسان کو سبق سکھاجاتی ہے جس کی روشنی میں اگلا سفر آسان ہوجاتا ہے۔ انسان صرف خوشی کا متمنی ہوتا ہے اور وہ نہ ملنے پر مایوسی کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسکول/کالج میں نوجوانان ایک ’جھٹ پٹ‘ زندگی کے متمنّی ہوتے ہیں اسلئے صرف خوشیاں اور آسانیاں ہی چاہتے ہیں

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK