• Sat, 24 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

قرآن کی روشنی میں گفتگو کا معیارِ مطلوب

Updated: October 24, 2026, 4:17 PM IST | Laiqullah Khan Mansoori | Mumbai

انسانی زندگی میں گفتگو اور بات چیت کی بڑی اہمیت ہے۔انسان کو شب و روز دوسرے انسانوں سے تبادلۂ خیال کا موقع ملتا رہتا ہے۔

Virtue and goodness are part of human nature. Image: INN
نیکی اور بھلائی انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ تصویر: آئی این این

انسانی زندگی میں گفتگو اور بات چیت کی بڑی اہمیت ہے۔انسان کو شب و روز دوسرے انسانوں سے تبادلۂ خیال کا موقع ملتا رہتا ہے۔ قرآن و حدیث میں گفتگو کے اصول و آداب کچھ اس طرح سکھا ئے گئے ہیں کہ ہم جانتے ہیں  زبان کی حفاظت اور اس کا صحیح استعمال فرد کو جنت کا حقدار بنا دیتا ہے جب کہ اس کے غلط استعمال سے جہنم کا مستحق قرار پاسکتا ہے۔ قرآن مجید میں زبان کے استعمال کے حوالے سے متنوع اصول بیان ہوئے ہیں۔مختلف مواقع کے لئے مختلف لہجے اور اسلوب سکھائے گئے ہیں۔درست لہجوں کی بھی وضاحت کی گئی ہے اوربعض ناپسندیدہ طریقوں کی بھی نشان دہی کی گئی ہے۔اس مضمون میں موضوع کے صرف تربیتی پہلوؤں کا سلسلہ وار احاطہ کیا جارہا ہے:

قول معروف ( اچھی بات)

’’قولِ معروف‘‘ کا ذکر قرآن مجید کی ان چھ آیات میں ہوا ہے: سورہ البقرۃ:۲۳۵، ۲۶۳، سورہ النساء :۵، ۸، سورہ الاحزاب:۳۲؍ اور سورہ محمد:۲۱۔ مثلاً سورۂ نساء کی آیت نمبر۵؍کے آخرمیں کہا گیا:  ’’اور ان سے معروف طریقے سے بات کرو۔‘‘ معروف ’’ عُرف‘‘سے بنا ہے جس کے معنی جاننے اور پہچاننے کے ہیں۔معروف جانی پہچانی چیز کو کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں نیکی اور بھلائی کو معروف کہا گیا ہے، اسلئے کہ نیکی یابھلائی انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ قولِ معروف سے مراد اچھی بات ہے۔ایسی بات جو درست ہو، معقول ہو، جسے انسانی ضمیرصحیح سمجھتا ہو، اورایسی گفتگو جو نیک ہو۔جن مواقع پر جھنجھلاہٹ پیدا ہونے یا ناگواری کا احساس پیدا ہونے کا امکان ہو، ان مواقع پر حلم و بردباری کے ساتھ اچھے طریقے سے بات بتا دینے کو بھی قولِ معروف کہا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ہائے ہماری کم بختی! ہم ہی حد سے بڑھ گئے تھے‘‘

وراثت کی تقسیم کے وقت اگر کچھ رشتہ دار، غرباء،  مساکین یا  یتیم آجائیں تو انہیں جھڑکا نہ جائے، بلکہ ان سے  اچھے انداز سے بات کی جائے۔ان آیات میں ایک مقام (البقرۃ:۲۶۳) پر معروف کے ساتھ مغفرت کا بھی ذکر کیا گیا ہے: ’’(سائل سے) نرمی کے ساتھ گفتگو کرنا اور درگزر کرنا اس صدقہ سے کہیں بہتر ہے جس کے بعد (اس کی) دل آزاری ہو۔‘‘ اس میں انفاق کرنے کے بعد احسان جتانے کو معیوب قرار دیا گیا ہے اور دلداری کی بات اور درگزر یا معذرت کی بات کو اس سے بہتر قرار دیا گیا ہے۔ اسلئے کہ احسان جتانا دلآزاری ہے جب کہ انفاق کا تقاضا دلداری ہے۔ سورۂ احزاب (آیت ۳۲) میں امہات المؤمنین کو دی گئی ہدایات کی روشنی میں معروف سے مراد ضرورت کی بات چیت ہے جس میں نہ نزاکت ہو اور نہ تلخی۔ سورۂ نساء ( آیت ۵) میں وارد ’’قولِ معروف‘‘کو ’’نیک ہدایت کرنے‘‘ سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔سورۂ محمد (آیت: ۲۱) میں وارد’’قولِ معروف‘‘ کو ’’سمع و طاعت کاقول‘‘ مرادلیا گیا ہے جسے سورۂ نور(آیت:۵۱) میں قولِ مومنین بھی کہا گیا ہے۔

خلاصہ: قولِ معروف کی درج بالا تشریح کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم زبان کا محتاط استعمال کریں۔گفتگوکا اسلوب و لہجہ شائستہ وباوقار ہو۔کسی کی دلآزاری نہ ہو۔گفتگو ضرورت سے کم ہو اور نہ ضرورت سے زیادہ ہو۔ گفتگو حلم و بردباری کی آئینہ دار ہو۔کسی کی نصیحت مقصود ہو تو اس کی تحقیر نہ ہو۔اگر کسی وقت کسی سے گفتگو مناسب محسوس نہ ہو تو سلام کے ساتھ معذرت کر لی جائے۔ ناگوار مواقع پر ضبطِ نفس کے ساتھ ضبط کلام کا بھی مظاہرہ ہو۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK