• Sat, 24 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

کہ آس پاس ہیں کتنے جہاں نہیں معلوم!

Updated: December 02, 2023, 8:56 AM IST | Shahid Latif | Mumbai

کتنے لوگ ہوں گے جنہوں نے زندگی میں کبھی کسی ادیباسی باشندے سے گفتگو کی ہوگی، اس کے کسی مسئلہ کو حل کیا ہوگا؟ یہی ہمارا طرز عمل ہے ایک ایسی آبادی کیلئے سیاست جس کا بھرپور استحصال کرتی ہے۔ ہم بھی شاید اُسی زمرے میں ہیں۔

Photo: INN
تصویر : آئی این این

جسنتا  کیرکٹا جواں سال قبائلی شاعرہ ہیں۔ ان کے بارے میں جاننے سے پہلے ان کی ایک مختصر سی نظم بعنوان ’’او شہر!‘‘ سن لیجئے:
بھاگتے ہوئے چھوڑ کر اپنا گھر/ پوآل، مٹی اور کھپرے/ 
پوچھتے ہیں اکثر/  او شہر! / کیا تم کبھی اُجڑتے ہو / کسی وکاس کے نام پر؟
 مختصر ہونے کے باوجود اس نظم کو محسوس کیجئے، ادیباسی عوام کا دُکھ سمجھنے میں مدد ملے گی جنہیں ہم جانتے تک نہیں ہیں یا جن کے تئیں ہماری ہمدردی عرصۂ دراز سے صفر پر ٹھہری ہوئی ہے، آگے نہیں بڑھتی۔ اگر یہ نہیں تو پھر ’’سبھیتاؤں کے مرنے کی باری‘‘ سن لیجئے:
آکسیجن کی کمی سے / بہت سی ندیاں مر گئیں / پر کسی نے دھیان نہیں دیا / کہ ان کی لاشیں تیر رہی ہیں / مرے ہوئے پانی میں اب بھی .......  ندی کی لاش کے اوپر آدمی کی لاش ڈال دینے سے / 
کسی کے اپرادھ پانی میں دھل نہیں جاتے /  وہ سب پانی میں تیرتے رہتے ہیں / جیسے ندی کے ساتھ / آدمی کی لاش تیر رہی ہے / مرے ہوئے پانی میں اب بھی.... اک دن جب ساری ندیاں مر جائینگی آکسیجن کی کمی سے/ تب مری ہوئی ندیوں میں تیرتی ملیں گی / سبھیتاؤں کی لاشیں بھی / ندیاں ہی جانتی ہیں / ان کے مرنے کے بعد آتی ہے / سبھیتاؤں کے مرنے کی باری!
 جسنتا کیرکٹا کی یہ اور ایسی تمام نظمیں، ترقی کے نام پر جنگلوں کے کاٹے جانے، فطرت کے احترام کے بجائے فطرت کے ساتھ گھناؤنا مذاق کرنے، بنانے کے بجائے بگاڑنے، فطری طور پر بسے ہوئے مقامی باشندوں کی بستیوں اور آشیانوں کو غیر فطری طریقہ سے اُجاڑ دینے اور اِن باشندوں کو حشرات الارض سمجھنے کے عام ہوتے رجحان کے خلاف زبردست مزاحمتی آواز ہیں جن کے ذریعہ جسنتا کوشش کرتی ہیں کہ اُن کا دُکھ اُن کے قارئین کے دُکھ میں تبدیل ہوجائے اور پورے ملک میں غیر معمولی سیاسی استحصال کی شکار ادیباسی آبادی کے حق میں بیداری کی لہر پیدا ہو، مگر، آپ بھی جو اِن سطروں کو نہایت دلچسپی کے ساتھ پڑھ رہے ہیں، دل ہی دل میں یہی سوچتے ہوں گے کہ ہمیں اپنے ہی دُکھوں سے فرصت نہیں ملتی، ادیباسیوں کے دکھ محسوس کرنے کا وقت کہاں سے لائیں۔ یہی مسئلہ ہے اور اسی سے بے حسی جنم لیتی ہے۔ افراد کی بے حسی سماج کی بے حسی بنتی ہے اور سماج کی بے حسی سیاست کو کھل کھیلنے کا سنہرا موقع عنایت کرتی ہے۔ اِس نکتے کو سمجھنے کیلئے ہمیں اپنی اور آس پاس کی زندگی میں جھانک کر دیکھنا چاہئے کہ ہم کہاں کہاں پیکر ِ بے حسی میں تبدیل ہوچکے ہیں اور کس طرح نہایت محدود ذاتی مفادات کی پرستش میں اُن اسیروں جیسے ہوگئے ہیں جن کے محبس کی چار دیواری ہی اُن کی کل کائنات ہوتی ہے، وہ نہ تو طلوع ہوتا سورج دیکھ پاتے ہیں نہ ہی پرندوں کی چہچہاہٹ اور پرواز سے لطف اندوز ہوپاتے ہیں۔ ہمیں نہ تو مناظر فطرت سے دلچسپی ہے نہ ہی اپنی طرح سانس لیتے ہوئے اُن انسانوں کی فکر ہے جو یُسر کی چاہ میں نسل در نسل عُسر کے شب و روز گزار رہے ہیں۔ بہت کیا تو ہم یہ کرتے ہیں کہ اُنہیں کچھ دے دلا کر یہ سمجھتے ہیں کہ فرض ادا ہوگیا،  خواہ اُن کی ضرورت کتنی ہی بڑی ہو او رملنے والی مدد کتنی ہی معمولی۔ 
  جسنتا کیرکٹا ذہین، درمند اور غیرت مند شاعرہ ہیں۔ اُن کا نام ہفتہ عشرہ قبل معدودے چند اخبارات اور ویب سائٹس پر اُس وقت جلوہ گر ہوا جب اُنہو ں نے ایک بڑے صحافتی ادارہ کا ایوارڈ قبول کرنے سے انکار کردیا۔ گزشتہ چند برسوں میں بہت سے ادیبوں، شاعروں، دیگر فنکاروں اور دانشوروں نے حکومتی اداروں سے ملنے والے اپنے ایوارڈ لوَٹا دیئے مگر ایوارڈ لوَٹانا ایک بات ہے اور قبول کرنے سے انکار کرنا بالکل دوسری بات۔ اس کیلئے زیادہ جرأت درکار ہوتی ہے۔ جسنتا نے زیادہ جرأت کا مظاہرہ کیا اور ایوارڈ قبول نہ کرکے ملک کے اُن صحافتی ادارو ں کو آئینہ دکھانے یا غیرت دلانے کی کوشش کی جنہیں حاشئے پر رہنے والی ملک کی ایک بڑی آبادی کے مسائل کی چنداں فکر نہیں ہے، وہ اُس آبادی کے ساتھ سراسر سوتیلا سلوک کرتے ہیں اور اُس سیاست کا آلۂ کار بننے میں شرم محسوس نہیں کرتے جو ادیباسی آبادی کو ووٹ بینک سمجھ کر اُس کا استحصال کرتی ہے۔ اس آبادی کو فراموش کرکے میڈیا ہاؤسیز اپنی محنت سے روزی کمانے، جنگلوں کی حفاظت کرنے اور اپنے رسوم و رواج کے ذریعہ ملک کے ثقافتی تنوع میں اضافہ کرنے والے ان ہم وطن باشندوں کو حاشئے سے بھی نیچے گرا دیتے ہیں۔ مگر، آفرین ہے جسنتا جیسے فنکاروں پر جو سرکاری بے حسی، سماجی بے حسی اور میڈیا کی بے حسی کے اس گھٹاٹوپ میں بھی عوامی بیداری کیلئے کوشاں ہیں اور آبادی کے ایک اہم حصے کے مسائل کو عوام تک پہنچانے اور اُن میں حساسیت پیدا کرنے کی جدوجہد کررہے ہیں حالانکہ اُنہیں اس بات کی اُمید کم ہے کہ وہ دن آئے گا جب چاروں طرف چھائی ہوئی اِس بے حسی کا اندھیرا چھٹے گا اور اُمید کی کرنوں سے ماحول جگمگائے گا۔ (جسنتا کیرکٹا کے بارے میں مزید جاننے اور اُن کی دیگر نظمیں پڑھنے کیلئے دیکھئے انقلاب، ۲۶؍ نومبر ۲۰۲۳ء، صفحہ:ادب و ثقافت)۔
زندگی بھر یہی جدوجہد گیان پیٹھ اور میگاسیسے ایوارڈ یافتہ ادیبہ مہاشویتا دیوی نے بھی کی۔ مہاشویتا دیوی کے ۱۰۰؍ سے زائد ناول ہوں یا ۲۰؍ سے زائد کہانیوں اور افسانوں کے مجموعے، اُن کا ہر فن پارہ ادیباسی زندگی کے وسائل اور مسائل کو اُجاگر کرتا ہے۔ مہاشویتا جیسی بڑی ادیبہ نے لکھنے کیلئے نہیں لکھا، تبدیلی کیلئے لکھا، یہی وجہ ہے کہ اُن کی کہانیاں اور ناول ایک ادیب کا تخیل نہیں، زمین سے جڑی ہوئی وہ حقیقتیں ہیں جن سے آگاہی کیلئے وہ ادیباسی علاقوں میں جاکر رہتی تھیں تاکہ کچھ بھی افسانوی نہ ہو، سب کچھ حقیقی ہو۔ اسی لئے کہتی تھیں کہ ’’میں نے کوئی مقالہ یا تھیوری نہیں پڑھی، صرف انسانوں کو پڑھا ہے۔‘‘ ادیباسیوں کے درمیان رہنے کے بعد اُن کا تجزیہ تھا کہ ’’ادیباسی باشندوں میں فطرت کی ہر خوبی پائی جاتی ہے مثلاً پہاڑوں کا حوصلہ یا ندیوں کا سکون، ہر ادیباسی گویا ایک بڑا ملک ہے مگر ہم نے کبھی اسے جاننے کی کوشش نہیں کی ، اُس سے محبت کرنا نہیں سیکھا۔‘‘ 
یاد دہانی کیلئے عرض ہے کہ یہ وہی مہاشویتا دیوی ہیں جن کے ناولوں پر کئی مشہور فلمیں بن چکی ہیں مثلاً سنگھرش، رُدالی اور ہزار چوراسی کی ماں۔ مہاشویتا دیوی کی مجموعی ادبی زندگی کا پیغام یہ ہے کہ اپنے لئے تو ہر کوئی جیتا ہے،لطف تو جب ہے کہ انسان دوسروں کے لئے جئے، اُن کے دکھ درد کو محسوس کرے اور اگر یہ نہیں کرسکتا تو کم از کم اُن کے دکھوں کا شعور رکھے، اس سے تھوڑی بہت ہمدردی تو یقیناً پیدا ہوگی۔ ملک کی پانچ ریاستوں کے انتخابات ابھی ختم ہوئے ہیں۔ ان ریاستوں میں جہاں جہاں ادیباسی آبادی ہے، سیاسی جماعتوں نے اُس سے مکالمہ کیا مگر اپنے مطلب کیلئے، اُن کے مسائل کیلئے نہیں! 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK