اِن دِنوں کئی خبریں بہت اہم ہیں مگر ان میں چندہ اور چڑھاوا چوری کے واقعات کی بالواسطہ یا بلاواسطہ توثیق نے لوگوں کے ہوش اُڑا دیئے ہیں۔ کارروائی چل رہی ہے مگر حکمراں محاذ خاموش ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں دیگر مذاہب کے اداروں کے حالات کو بھی زیرِ بحث لایا گیا ہے۔
آر ایس ایس کے سرکاریہ واہ (جنرل سیکریٹری) دتاتریہ ہوسبولے نے کہا ہے کہ رام مندر چندہ چوری کو کروڑوں لوگوں کی عقیدت سے تعلق رکھنے والے معاملے کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی ہے کہ شری رام جنم بھومی تیرتھ اس معاملے کو غیر معمولی تسلیم کرتے ہوئے مندر کی انتظامیہ میں در آئی یا موجود سبھی کمیوں کو دور کرے گا۔ سٹ (ایس آئی ٹی) نے بھی اپنے دائرۂ کار کو بڑھانے اور مندر کی تعمیر نیز سونے چاندی کے عطیات میں مبینہ گھپلوں کی جانچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سیاسی سطح پر شیوسینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے رام بچاؤ تحریک کی ابتدا کی ہے۔ ہمارا نظریہ بس یہ ہے کہ سب درست کر رہے ہیں۔ گھپلے ہوئے ہیں یا گھپلوں کی نشاندہی ہوئی ہے تو جانچ ایجنسیاں تو اپنا کام کریں گی ہی، ادھو ٹھاکرے کی رام بچاؤ تحریک بھی سمجھ میں آتی ہے کہ شکوک کی سوئی بہت دور تک گھومتی ہے مگر دیگر مذاہب کے اوقاف و عطیات میں کئے جانے والے گھپلوں پر بولنے والا کوئی نہیں ہے۔ مثال کے طور پر مدارس و مکاتب پر بہار میں جانچ چل رہی ہے۔ اس سے پہلے یوپی میں بھی ایسی جانچ کی جا چکی ہے اور اس جانچ پر عدالت بھی اپنا فیصلہ سنا چکی ہے۔ ہم انفرادی طور پر کی گئی خرابیوں کو اجتماعی برائی نہیں قرار دیتے مگر یہ ضرور چاہتے ہیں کہ مدارس و جامعات میں انفرادی طور پر خرابیاں پیدا کرنے والوں کو سزا دی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو عبرت ہو۔ ساتھ ہی مذہب کو چندہ چوری کا ذریعہ بنانے والوں کے خلاف بھی اقدام کیا جائے۔ یہ خبر سب کیلئے اچھی ہے کہ رام مندر ٹرسٹ کے پچھلے پانچ سال کے کھاتوں کی ایس آئی ٹی جانچ کرے گی۔ یہ بھی اچھی خبر ہے کہ بینک افسروں پر بھی جانچ کا شکنجہ کسا جا رہا ہے۔ یہ خبر پہلے ہی موصول ہوچکی ہے کہ ایس آئی ٹی نے داخلہ سیکریٹری کو ۲۰؍ صفحات پر مشتمل رپورٹ پیش کرتے ہوئے جہاں کئی گھپلوں کی نشاندہی کی ہے وہیں ٹرسٹ کی دوبارہ تشکیل کا بھی مشورہ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: شمال اور جنوب کے درمیان ہندوستان
تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ رام مندر تیرتھ ٹرسٹ کے عہدوں سے سیکریٹری چمپت رائے اور ٹرسٹی ڈاکٹر مشرا نے استعفیٰ دے دیا ہے اور ان کے استعفے منظور بھی کئے جا چکے ہیں۔ کارگزار جنرل سیکریٹری کرشن موہن کو بنایا گیا ہے جنہوں نے سب سے پہلے چندہ چوری پر ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ چیف ایگزیکٹیو افسر کی تقرری کا فیصلہ بھی کیا جا چکا ہے جو رام مندر ٹرسٹ کو چلائے گا بھی اور نگرانی بھی کرے گا۔ سی ای او کون ہو یا اس کا تقرر کیسے ہو؟ یہ فیصلہ کرنے کیلئے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اس کمیٹی کے اراکین میں سبکدوش جج پرمود کوہلی، سبکدوش جنرل وشو کانت چترویدی اور سریش ہاؤڑے شامل ہیں۔ ٹرسٹ کے خازن نے بتایا کہ مندر ٹرسٹ کو نقدی کی صورت میں عطیات تو ملے ہی، ۲۹۱۶؍ اشیاء بھی موصول ہوئیں جن کا اندراج کیا جا چکا ہے نیز عطیہ دینے والوں کو رسید بھی دی گئی ہے جانچ کے بعد ہی یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ رسید اصلی ہے یا نقلی کیونکہ نقلی رسید چھاپنے اور استعمال کئے جانے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ اگر کوئی چاہے کہ اپنی عطیہ دی ہوئی شے کی تصدیق کرے تو وہ ایسا کرسکتا ہے۔ چاندی کی چیزیں البتہ بھارت سرکار کے ٹکسال میں گلائی جاچکی ہیں۔ ۷؍ جولائی کی اطلاع یہ بھی ہے کہ مندر ٹرسٹ میں ۷۰؍ موقعوں پر سی سی ٹی وی کیمروں سے بچ کر چوری کرنے کی کوشش کی گئی اور اس میں ٹرسٹ کا اسٹاف یا عملہ شامل تھا۔ ۷۰؍ مرتبہ چوری کی گئی رقم کہاں ہے یا کہاں لگائی گئی ہے اس کی جانچ پولیس کر رہی ہے۔ کرونیش پانڈے، انوکلپ مشرا، لوکیش مشرا پولیس کسٹڈی میں ہیں۔ کچھ اور لوگ بھی مثلاً اویناش شکلا وغیرہ بھی جیل میں ہیں۔ کرونیش اور انوکلپ ان کے بہنوئی بتائے جاتے ہیں۔ رام مندر ٹرسٹ میں بھی اچانک نئی زندگی دوڑ گئی ہے۔ حال میں اس کی جو میٹنگ ہوئی اس میں اس نے یکم اپریل ۲۰۲۵ء سے ۳۱؍ مارچ ۲۰۲۶ء کے مالی سال میں کیا آمدنی ہوئی یا کیا خرچ ہوا اس کی تفصیل رکھی۔ اس دوران ۹۸ء۲۴؍ کروڑ کی آمدنی ہوئی اور رام مندر کی مرمت اور پروگراموں پر ۹۱ء۷۶؍ کروڑ خرچ کر دیئے گئے۔ کئی مدوں میں تو آمدنی سے زیادہ خرچ کیا گیا۔ یہ بھی خبر ہے کہ اس مالی سال میں مندر کو بشمول سود ۲۵۰؍ کروڑ روپے حاصل ہوئے اور ۵۱۴ء۵۰؍ کروڑ خرچ کر دیئے گئے۔ اترپردیش حکومت نے جو ایس آئی ٹی تشکیل دی ہے وہ اس آمدنی اور خرچ کی بھی تفتیش کرے گی۔ ویسے اخبارات میں تو بہت کچھ آرہا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ چندہ چوری میں ملوث بڑے لوگوں کو بچایا جا رہا ہے مثلاً ٹرسٹ کے مستعفی سیکریٹری چمپت رائے کے کہیں دستخط نہیں پائے گئے اس لئے ان کو ملزمین کی فہرست سے باہر رکھا گیا۔ کیا یہ شعوری کوشش ہے؟ اسی دوران ٹرسٹ کے ساتھ سابق سیکریٹری چمپت رائے نے دو خطوط لکھے ہیں جن سے کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ بدری ناتھ دھام میں چوری کا معاملہ بھی پولیس کے سامنے لایا گیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج ہورہی ہے۔ دیگر مندروں میں بھی اس قسم کے معاملات بتائے جا رہے ہیں۔ ظاہر ہے یہ سب ایک مذہب کی عبادت سے تعلق رکھنے والے مقامات کے معاملات ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ریپ کی سیاست یا اقتدار کی حفاظت؟
دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے معاملات بھی اچھے نہیں ہیں۔ مَیں مسلمان ہوں اور جانتا ہوں کہ مدرسوں، درگاہوں، چلوں اور اوقاف میں کیا چل رہا ہے۔ وقف بورڈ میں تو ’’جیسا روپیہ ویسا کام‘‘ کا دستور رائج ہے۔ زکوٰۃ، فطرہ، قربانی، حج کی قربانی اور چرم قربانی تک مشکوک لوگوں کے ہاتھوں میں جا رہی ہے۔ بھیک مانگنے، دلالی کرنے یا لے کر نہ دینے کے لئے قرض حسنہ کا نعرہ لگانے والے بھی بڑھتے جا رہے ہیں ایسے میں رام مندر کی جو جانچ چل رہی ہے وہ تو چلے ہی اس کا دائرہ وسیع کرنے کی اپیل بھی کی جاسکتی ہے۔ کیدار ناتھ دھام میں چوری کی بات تو پہلے ہی سامنے آچکی تھی اور اب مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ نے سدھی نایک دان پیٹی میں چوری کا معاملہ بھی اٹھایا ہے۔ ضرورت ہے کہ ہر مذہب سے تعلق رکھنے والی زیارت گاہوں سے متعلق ایسا قانون بنایا جائے اور قانون کی رکھوالی و نگرانی کرنے والوں کو اس طرح ذمہ دار بنایا جائے کہ چوری نہ صرف رک جائے بلکہ چوری کی گئی رقم واپس بھی ملے۔
کسی بھی مذہب کا ٹرسٹ ہو وہاں اس وقت ’’لے کے رشوت پھنس گیا ہے دے کے رشوت چھوٹ جا‘‘ کا معاملہ ہے۔ آئندہ ایسا نہ ہو۔ ایودھیا چندہ چوری کا جو معاملہ سامنے آیا ہے اس میں خاطیوں اور بے ایمانوں کو سزا ہونا ہی چاہئے۔ دوسرے لوگ یا دوسرے ٹرسٹ سے تعلق رکھنے والوں کا نامۂ اعمال بھی سامنے آنا ضروری ہے تاکہ کارِ خیر کے نام پر چندہ چوری عام نہ ہو۔